امورامتحان

مرکزی امتحانات:جامعہ میں تین مرکزی امتحانات ہوتے ہیں (١)سہ ماہی امتحان(٢)ششماہی امتحان(٣)سالانہ امتحان۔
سہ ماہی یاششماہی امتحانات کااعلان دوہفتہ قبل ہی کردیاجاتاہے اساتذہ کرام اسباق پڑھانے کے ساتھ ساتھ گزشتہ خواندگی کی تیاری بھی کراتے رہتے ہیں البتہ امتحان سے ایک دودن قبل سبق بندکردیاجاتاہے،سہ ماہی امتحانات صفرالمظفرکے پہلے ہفتے میں اورششماہی امتحانات جمادی الاولی کے پہلے ہفتہ میںہواکرتے ہیں البتہ سالانہ امتحانات سے قبل امتحان کی تیاری کیلئے وفاق المدارس کے تحت امتحانات دینے والوں کے تقریباپچیس دن اوروفاق کاامتحان نہ دینے والوں کے پانچ دن امتحان سے قبل اسباق ختم کراناضروری ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے امتحانی ہفتہ میں ہی جامعہ کے ان طلبہ کاسالانہ امتحان بھی ہوتاہے جن کادرجہ وفاق کانہیں ہوتا،جس میں اکثرتوتحریری پرچے ہوتے ہیں، البتہ بعض کتب کاتقریری امتحان بھی لیاجاتاہے،عام طورپرتقریری امتحان بھی جامعہ کے اساتذہ کرام ہی لیتے ہیں البتہ بسااوقات مشاورت سے باہر سے بھی ممتحنین بلالیے جاتے ہیں،اورامتحانی دنوں میں ہی پرچہ جات بھی چیک کرنے شروع کردیے جاتے ہیں اورآخری پرچہ کے دن تعطیل عام سے قبل منعقدہونے والی تقریب میں ہی سالانہ امتحان کارزلٹ سنادیاجاتاہے،اوانعام کے مستحق طلبہ کوانعام بھی دیاجاتاہے۔
تمرینی امتحان:طلبہ کے تعلیمی معیارکوبہتربنانے کیلئے جامعہ میں ہراکیس روزکے بعدایک تمرینی امتحان لیاجاتاہے،جس میں تمام اسباق کاایک ہی پرچہ بنایا جاتا ہے، ہرکتاب کاایک ایک سوال ہوتاہے،اورہرکتاب کاپرچہ متعلقہ استاذہی بناتے ہیں اورتما م پرچہ جات کے سوالات متوازی ہوتے ہیںاوراساتذہ کرام خود ہی اپنے بنائے ہوئے پرچے کوچیک بھی کرتے ہیں،تمرینی امتحان کاپرچہ چیک کرنے میں استاذمحترم کے ذمہ ہوتاہے کہ اتوارشام تک ناظم امتحان کوپرچے چیک کرکے جمع کروادیں تاکہ بروقت نتیجہ درج ہوکرسنایاجاسکے۔
تمرینی امتحان کی تیاری کی ترتیب اورتیاری کاوقت:جس جمعہ کی شام کوتمرینی امتحان ہوناہوتاہے اس سے قبل جمعرات کوصرف اول وقت کے اسباق ہوتے ہیں،ظہرکے بعدکے اسباق نہیں ہوتے ،تمام طلبہ اجتماعی طورپراساتذہ کرام کی نگرانی میں جمعرات ظہرتاعصر،مغرب تارات گیارہ بجے اورجمعہ صبح بعدازنمازفجرتانوبجے تکرارکرنے کے پابندہوتے ہیں،جس میں باقاعدہ حاضری لگائی جاتی ہے اوربلاعذرغیرحاضرطلبہ کے خلاف مناسب کاروائی کی جاتی ہے۔

 

امورتعطیل

نظم تعطیل برائے اساتذہ کرام:جامعہ میں ہراستاذکاتقرربلاتعطیل سالانہ ہوتاہے، نیزہرروز کلاس میں حاضرہونے کے جتنے متاخرہ منٹ بنتے ہیں ان کامہینہ کے آخرمیں حساب کیاجاتاہے، جتنے دن بنتے ہیں اس حساب سے تنخواہ منھاکرکے باقی دی جاتی ہے،واضح رہے کہ پورے سال میں جامعہ کی طرف استاذمحترم کوعیدین اورششماہی امتحانات کے علاوہ کوئی رخصت نہیں ہوتی،ان دومواقع کے علاوہ استاذمحترم جب بھی چھٹی کرتے ہیںوہ ان کی رخصت ذاتی شمارکی جاتی ہے،اورہرماہ کے آخرمیں اتنی تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے،البتہ سالانہ تعطیلات میں اساتذہ کرام حسب ضرورت اگراطلاع کے ساتھ رخصت کرلیں تووظیفہ کی کٹوتی نہیں ہوتی۔
دوران تعلیم رخصت کانظم: جو استاذمحترم کسی ضرورت کے تحت دوران ہفتہ رخصت لیتے ہیں اگروہ جمعرات یاہفتہ کوحاضرنہ ہوں توجمعہ کوبھی ان کی رخصت میں شمارکیاجاتاہے، البتہ جمعرات کی تعطیل کی صورت میں جمعہ کادن رخصت میں شمارنہیںکیاجاتا۔البتہ جمعرات اورہفتہ کی رخصت پر جمعہ کوبھی ان کی رخصت ذاتی شمارکرکے جمعہ کی تنخواہ بھی منہاکردی جاتی ہے۔
نظم تعطیل برائے طلبہ کرام درجہ کتب:جوطلبہ جمعرات کے تمام اسباق پڑھ کرجاتے ہیں اورجمعہ شام کومطالعہ میں حاضرہوجاتے ہیں ان کورخصت لینے کی ضرورت نہیں ہے،البتہ جو طلبہ کرام مطالعہ یاکسی سبق کی رخصت لیناچاہتے ہیں ان کے ذمہ ہوتاہے کہ وہ حضرت صدرالجامعہ صاحب دامت برکاتہم سے تحریری اجازت لیں،البتہ حضرت صدرالجامعہ دامت برکاتہم کی عدم موجودگی میں رخصت دینے کااختیارجامعہ کے صدرالجامعہ کے مقررکردہ استاذمحترم کوہوتاہے،علاوہ ازیں ان کی غیرحاضری شمارکرکے اس پرتنبیہ کی جاتی ہے۔
درجہ کتب کے غیرحاضرطلبہ کیلئے نظم:وہ طلبہ کرام جوپورادن یااس سے کم بلارخصت وبلاعذراسباق سے غیرحاضررہتے ہیں ان کوہرسبق کے حساب سے پندرہ روپے کی رسیدبعوض طعام کٹواناضروری ہوتاہے،البتہ ایک دن سے زائدغیرحاضری کرنے والے طلبہ کرام کوحضرت صدرالجامعہ دامت برکاتہم کی تحریری اجازت کے بغیرکلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
نظم تعطیل برائے طلبہ کرام درجہ حفظ:جمعرات دوپہرسے جمعہ شام تک کی رخصت کااختیارمتعلقہ قاری صاحب کوہوتاہے،البتہ جتنے طلبہ گھرجانے والے ہوتے ہیں ان کے نام لکھ کردفترپہنچاناضروری ہوتا ہیں۔البتہ اس سے زائد رخصت کیلئے حضرت صدرالجامعہ دامت برکاتہم سے تحریری اجازت لیناضروری ہوتاہے۔