تعارف بانی مرکزعلم وعمل جامعہ اشرفیہ ما ن کوٹ

جامع المعقول والمنقول حضرت مولانا محمد اشرف شاد نوراللہ مرقدہ چند ان نفوس قدسیہ میںسے تھے جنکو اللہ تبارک وتعالیٰ نے پیدا ہی اپنے دین پڑھنے پڑھانے کیلئے کیاتھا،جن کی شعوری زندگی کاایک ایک لمحہ خدمت دین یعنی پڑھنے پڑھانے یااس کی فکر سے لبریزہے آج ہم انہیں سے متعلق کچھ لکھ رہے ہیں۔
نام ونسب:
نام: محمداشرف تخلص :خودآپ کا اپنامقررکردہ ہے” شاد”،تاہم آخرمیں آپ امام الصرف والنحو ،جامع المعقول والمنقول کے القابات سے ملقب ہوکر گئے،والدکا نام جام نذرمحمدداداکانام جام مَسُّوہے،قوم جوناہے،اس قوم کے افرادکے ناموں کے شروع میں جام کا لفظ بطوراعزازکے ذکرکیاجاتاہے،جیسے چوہدری،ملک،مہروغیرہ۔
سن پیدائش:
سن پیدائش آپکاغالبا١٩٤٣ئ ہے،مہینہ کا تعین محفوظ نہیں ہے۔
نام کا انتخاب :
نام کے انتخاب میں اس بات کا لحاظ رکھا گیا تھا کہ ایسانام رکھا جائے جو پوری قوم میں کسی کا نہ ہو،تو محمداشرف نام ہی ایساسمجھا گیا تھا جو پوری قوم میں کسی کانہ تھا،جام نذرمحمدمرحوم آپ کے والد ماجداگرچہ ایک اُمی تھے، مگرذی وقار،پاکباز،صوم وصلوة کے پابند،نہایت حق گو،بے باک آدمی تھے،نمازباجماعت کے اہتمام کے ساتھ تہجدسنن ونوافل حتی کہ اشراق واوابین چاشت کا بھی بے حداہتمام فرماتے، سفرمیں بھی ضروراداکرتے،قرآن کریم اگرچہ پڑھے ہوئے نہ تھے،مگرروزانہ قرآن کریم کی تلاوت معمول تھا ہر سطر پر انگلی پھیرتے اوربسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے۔
اولاد میں علم جاری کرنے کے اعمال:
بندہ راقم جب علماء کے احوال پڑھتاہے تو عموماانکے والدین یاان میں سے ایک میں یہ تین یاان میں سے ایک یادوخواص ضرور ہوتے ہیں،١۔یاتہجدگزارہونگے،٢۔یاقرآن کریم کی تلاوت کثرت سے کرنے والے ہونگے،٣۔یاکسی اللہ والے کی عقیدت سے جوتیاں اٹھائی ہونگی گویاجو چاہتے ہیں کہ انکی نسل میں علماء پیداہوں توا ن کو ان تین اعمال یا ان میں سے کسی ایک کا اہتمام رکھنا چاہیے۔
خاندانی پیشہ:
خاندانی پیشہ زراعت تھا مگرساتھ ساتھ اونٹوں اوربکریوں کابھی خاصاذوق تھا، سینکڑوں بکریاں اور اونٹ ہر وقت موجودرہتے تھے،فیاضی مہمان نوازی اس گھرانے میں خوب تھی۔
آغازعصری تعلیم:
ہمارے گاؤںچک 59/15ایل میں چونکہ ہائی سکول تھا جوکہ ہماری زمینوں کے متصل تھا اسی لئے ذراسے باشعورہوتے ہی اسکول میں داخل کردیے گئے سات جماعت تک اپنے اسکول میں تعلیم حاصل کی چونکہ گھریلوماحول زمیندارانہ تھا تو کھیتی باڑی کا کام خودکوکرنا ہوتاتھا تو اپنے بڑوں کا ہاتھ بھی بٹاتے تھے ۔
دینی تعلیم کا سبب:
ایک مرتبہ گندم کی کٹائی کاموسم آیاتوآپ کے چچانے ذراسختی سے گندم کی کٹائی میں حصہ لینے کی تنبیہ کی اورحضرت والد محترم سے کٹائی کاکام خوب نہ ہوسکتاتھا اسلئے کہ دوتین سال کی عمرمیں شدیدبخارکی وجہ سے بایاں پاؤںکمزورہوگیا تھا،توا س معذوری کی وجہ سے بیٹھ کر کام کرنامشکل تھا،تو اپنے ناناحاجی اللہ بخش صاحب مرحوم کے پاس گئے۔
آغازدینی تعلیم:
کہ میں کام بھی نہیں کرسکتااوراسکول بھی نہیں پڑھتا،مجھے کسی دینی مدرسہ میں داخل کرادو،میں علم دین پڑھتاہوں تو حاجی اللہ بخش صاحب مرحوم مکتب فکربریلوی کے عظیم ادارہ جامعہ غوثیہ کہروڑپکا میں داخل کراآئے وہاں حضرت والدمحترم نے ڈیڑھ سال کی قلیل مدت میں حفظ القرآن مکمل کرلیا،آپ کے استاذ حافظ قطب الدین صاحب مرحوم تھے،بندہ نے بھی ان کی زیارت کی تھی،حضرت والدمحترم باضابطہ ان کی بھی زیارت کرنے کیلئے جایاکرتے تھے ان کو ہدیہ بھی پیش کرتے تھے وہ بھی ان سے مل کرانتہائی خوش ہوتے اوردعائیں دیتے تھے ۔
ایک مرتبہ بندہ اوربندہ کی ہمشیرہ ( اس وقت ہم دونوں چھوٹے تھے) اباجان کے ساتھ کہروڑپکاان سے ملنے گئے توا نہوںنے عجیب وغریب خوشی کااظہارفرمایا،بندہ کی ہمشیرہ کو ایک عددسوٹ بھی دیا اس کے باوجودکہ وہ جانتے تھے کہ اب یہ مکتب فکردیوبندیوں کے جیدعالم دین بن چکے ہیں۔
درس نظامی کاآغاز:
عالم بننے کے شوق میں مدرسہ انوارالابرارملتان میں داخلہ لیا ابتدائی صرف ونحوفقہ اصول فقہ کی کتب پڑھیں۔ایک استاذ کے مشورہ سے کہ دارالعلوم کبیروالا کی صرف ونحوبہت اچھی ہوتی ہے آپ مولانامنظورالحق کے پاس دارالعلوم کبیروالاچلے جائیںچنانچہ اصول الشاشی تک کتب پڑھ کردارالعلوم کبیروالاتشریف لائے ۔
جلیل القدراساتذہ کی صحبت:
بس پھر دارالعلوم کبیروالاکے اس زریں دورمیں جب دارالعلوم کبیروالاآسمان علم کے تابندہ ستاروں سے چمک رہاتھا،تو بس کیاتھا کہ پرستان خداجو علم وعمل کے پیکرکہے جائیں یاآفتاب ومہتاب علوم وفنون یا بحرذخارکہاجائے یابحرعلوم کے غوطہ زن نکتہ رس مردم شناس خدادادعجیب وغریب صلاحیتوں کے حامل اساتذہ تھے،میری مراداستاذالکل حضرت مولاناعبدالخالق ملتانی بانی دارالعلوم کبیروالا،موصوف سے حضر ت والدمحترم نے پڑھا تو نہیںالبتہ ان کی طویل صحبت حاصل کی، فرمایاکرتے تھے کہ ہم قاضی مبارک کاپرچہ لکھ رہے تھے کہ حضرت کی وفا ت کی خبرآئی دیگراساتذہ کرام میں حضرت مولانامنظورالحق فاضل دارالعلوم دیوبند حضر ت علامہ ظہورالحق صاحب فاضل دارالعلوم دیوبندحضرت مولاناسیدفیض علی شاہ صاحب حضرت مولاناعلی محمدصاحب رحمھم اللہ حضرت مولاناعبدالمجیدلدھیانوی صاحب مدظلھم حضرت مولاناصوفی محمدسرورصاحب مدظلہم جیسے عظیم اساتذہ کرام سے صرف کسب فیض ہی نہیں کیا بلکہ ان کو چوس لیا تھا، ہرایک استاذمحترم کا ان کی خصوصیت کے اعتبارسے تذکرہ کیا کرتے تھے ۔
سب سے زیادہ متاثر:
مشکل ترین فنون کے پڑھنے پڑھانے کے اعتبارسے حضرت مولانامنظورالحق سے بہت متأثرتھے فرمایاکرتے تھے کہ مشکل ترین کتاب کو وہ یوں پڑھاتے تھے کہ اگربدوسے بدوآدمی بھی ان کے سبق میں بیٹھتاتو وہ یقین کرلیتاکہ میں بھی سمجھ گیاہوں حضرت والاانہی کے سب سے زیادہمنظورنظر بھی تھے انہی کی شفقتیں اُس دورمیں ان کو زیادہ ملیں اوریہ بھی ان کی شفقتوں کے ہمیشہ قدردان رہے،ایسے سعادت منداس دنیا میں کم ہی ہواکرتے ہیں کہ ان کو شفقتیں اورسرپرستیاں ملیں اوروہ ان کی قدر بھی کریں ورنہ تو ہوتا یہ ہے کہ اول تو نظرِکرم کوئی نہیں کرتااگربھولے سے کوئی کربھی لے تو قبول کرکے کوئی قدرنہیں کرتا۔
اساتذہ کی توجہ اوردعاؤں کا مرکز:
اسی لئے حضرت مولانامنظورالحق فرمایاکرتے تھے کہ میراایک شاگردایسا ہے کہ وہ دیہات میں بھی کامیاب ہے اورشہرمیں بھی اگرپہاڑپرچڑھ جائے یا کسی سوراخ میں گھس جائے طلبہ اس کو نہیں چھوڑیں گے،کہاجاسکتاہے کہ حضرت استاذموصوف کی اس دعا کو ثابت کرنے کیلئے اللہ تعالی نے حضرت والدمحترم سے دیہا ت میں ادارہ قائم کرایااوراس مردقلندرکو سچ ثابت کیاوگرنہ لوگ کہتے تھے کہ مولوی اشرف صاحب دیہا ت میں جارہے ہیں مکھیاں ماریں گے،پڑھنے آئے گا کوئی اور نہ ملنے، حضر ت والدمحترم ہی سے سنا کہ ایک مرتبہ ہمارے ایک جیدساتھی (جو کہ دارالعلوم کبیروالامیں استاذبھی ہوئے )نے حضرت مولانامنظورالحق سے عرض کیا کہ حضرت جس طرح مولوی اشرف کی آپ نے سرپرستی فرمائی ہے میر ی بھی کیجیے تو حضرت استاذمحترم نے فرمایاکہ مولوی صاحب! چھوڑ ہرایک کی اپنی قسمت ہوتی ہے،آپ مولوی اشرف کا مقابلہ نہیں کرسکتے بالعموم تمام اساتذہ آپ کوبہت قدرکی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
اساتذہ کرام کے اعتمادکی دلیل:
یہی وجہ ہے کہ آپ اپنے استاذوں کی اولادوںکے استاذبنے،یہ بات حضرات اساتذہ کے حسن اعتماد کی دلیل تھی حضرت شیخ الحدیث مولانامفتی علی محمدصاحب کے بیٹے مولاناقاری محمداطہرمولانامنظورالحق صاحب کے مولاناشمس الحق مولانافیض علی شاہ صاحب کے مولانااسعدمیاں اوران کے بھائی محمداحمدحضرت مولاناصوفی محمدسرورصاحب لاہورکے بیٹے مولاناعبدالرحمن حضرت مولانامنظوراحمدنعمانی ظاہروالی کے مولوی عبدالباسط وغیرھم ۔
دیگراکابرین ومعاصرین کا اعتماد:
اسی طرح دیگراکابرین بھی اپنے بیٹوں کی تعلیم وتربیت کیلئے اپنے بیٹے حضرت والد محترم کی خدمت میں بھیجتے مثلاحضرت حافظ الحدیث مولانامحمدعبداللہ درخواستی حضرت میاں سراج احمدصاحب دینپوری مدظلہ حضر ت مولانامیاں مسعوداحمددین پوری مدظلہ حضر ت مولاناعبدالحی بہلوی حضرت مولاناعبدالستارتونسوی مدظلہ حضرت مولاناعبدالشکوردین پوری حضرت مولاناقاری محمدحنیف ملتانی حضرت مولانامفتی زین العابدین فیصل آباد حضرت مولاناقاری محمدطاہررحیمی مہاجرمدینہ منورہ حضرت مولاناقاری شہاب الدین حضرت مولانامنظوراحمدنعمانی طاہروالی حضر ت پیرظہوراسماعیل شاہ بغدادی حضرت مولاناصوفی عبدالحمید سواتی گوجرانوالہ حضرت مولانامحمداحمدمہتمم دارالعلوم شیرگڑھ سرحد،مولانانیازمحمدسابق وزیرتعلیم صوبہ بلوچستان وغیرہ جیسے اکابرین جو خودعلم وفضل وتقوی کے حاملین ہیں نے اپنی اولادوں کو تعلیم وتربیت دلانے کیلئے حضرت والدمحترم کا انتخاب کیا،یہ عنداللہ قبولیت کی علامت تھی،اورمعاصرین میں مولاناقاری محمدعبداللہ رحیمی ساہیوال مولانابشیراحمدشاہجمالی مولاناغلام یسین تونسوی سابق مدرس دارالعلوم کبیروالاقاری فیاض الرحمن دارالقراء نمک منڈی پشاورسابق ایم این اے قاری عبدالحمیدحامد چنیوٹ مولانااللہ وسایاشاہین ختم نبوت مولانا خواجہ عزیزاحمدبہلوی مفتی عبدالسمیع خانپوروغیرھم نے اپنے بیٹوں کو تعلیم وتربیت کیلئے حضرت والد محترم کی خدمت میں بھیجا۔
اکابرین،معاصرین کے اعتماد کی وجوہ:
(١)آپ کا منصفانہ مزاج تھا ہمیشہ طلبہ کے معاملات میں اللہ کی رضاملحوظ ہوتی تھی(٢)وجہ اسکی یہ تھی کہ زمانہ طالب علمی کا وقت خوب محنت اطاعت اور انہماک سے گذاراتھا فرمایا کرتے تھے کہ میں نے اتنی محنت کی تھی کہ سر کے بال ہاتھ لگانے سے اترنا شروع ہو جاتے تھے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتاتھا کہ ہر امتحان میں پورے نمبرحاصل کرکے انعام کے مستحق ٹھہرتے۔
ّ(٣)تیسری وجہ یہ تھی کہ ان علماء کی اولاد کو حکمت سے چلاتے تھے ایک لاٹھی سے سب کوہانکنے کی بجائے حکمت سے چلاتے تھے اگرچہ اس حکمت کے تقاضے پربعض اوقات ان شہزادوں کی اوروں سے زیادہ ٹھکائی بھی ہو جایا کرتی تھی،تاہم انزلواالناس منازلھم کااہتمام ہو تاتھا۔
زمانہ طالب علمی میں گذران:
چونکہ حضرت دادا جان حضرت والد صاحب کی مولویانہ تعلیم کے حق میں نہ تھے ،اخراجات تعلیم پر بھی توجہ نہ دیتے تھے دادی اماںجان چرخے پر سوت کات کر پیسے بناکر دیا کرتی تھیںفرمایا کرتے تھے صرف نحو سے لیکر دورہ حدیث تک ایک لنگی میں گزارا کیا،دورہ حدیث والے سال ایک نئی لنگی لی تھی چونکہ عمومی عادت چادر تہبند باندھنے کی تھی، سچ یہ ہے کہ جن اکابر کو بھی علم وعمل تقوی نصیب ہوا ہے فقر وفاقہ وافلاس سے ہی ہوا ہے مال کی فراوانی عیاشی سے علم وعمل کو مناسبت نہیں ہے۔
اپنے مادرعلمی سے وفاداری:
حضرت والدمحترم چونکہ جید ترین طلبہ میں شمارہوتے تھے ذہین محنتی اورصالح تھے تو فرمایاکرتے تھے کہ مجھے بہت دوستوں نے مشورہ دیا کہ آپ حضرت مولاناادریس کاندھلوی یا حضرت مولانامحمدیوسف بنوری کے پاس دورہ حدیث شریف پڑھنے چلے جاؤ،کسی بڑے مدرسہ میں لاہوریاکراچی جاؤ،توحضرت والدمحترم فرمایاکرتے تھے کہ میں ان دوستوں کو جواب دیتاتھا کہ میں نے اپنے مادرعلمی کا نمک کھایاہے میں اسی کا وفادارہوں اول تو دارالعلوم کبیروالا میں بھی اساتذہ کرام کی جودة وعمدگی کی کمی نہیں تھی،اگربالفرض ہوتی بھی تودارالعلوم والے اگرکسی گدھے کوبھی بٹھادیں میں گدھے سے پڑھ لونگا،مگردارالعلوم کبیروالاکونہیں چھوڑوں گا،کیونکہ یہ میرامادرعلمی ہے،اب تک کی جولیاقت پیداہوئی ہے انہی کی توجہ اورمحنت سے ہوئی میں دارالعلوم کونہیں چھوڑ سکتا،اُس وقت دارالعلوم کبیروالا بھی جامعہ اشرفیہ مان کوٹ کی طرح دیہات ہی تھا حضرت والدمحترم فرمایاکرتے تھے کہ ہم نے بغیربجلی کے بھی دارالعلوم میں پڑھاہے چراغ جلاجلاکر،مگرآج کل طلبہ جن اساتذہ کرام کے پاس رہ کر چھوٹی کتابیں انکی محنت سے پڑھ کرلیاقت حاصل کرلیتے ہیںتوپھر انہی اساتذہ کرام کو نالائق تصورکرکے بڑے مدارس کا رُخ کرتے ہیں یہ محرومی کی بات ہوجاتی ہے،اوربنیادی اساتذہ کرام کی تنقیص دل میں پیداکرلیتے ہیں حضرت حکیم الامت نے لکھاہے کہ آج کل طلبہ استاذ کا نہیں استاذکی شخصیت کا احترام کرتے ہیں،اورہرجائی ہوناعلمی ساخت کو تباہ کردیتاہے،حضرت والدمحترم محض اپنے اساتذہ کرام کے قدردان تھے۔
قرء ات عشرہ:
حضرت والدمحترم فرمایاکرتے تھے کہ دوران تعلیم دوسال میں حضرت صوفی محمدسرورصاحب مدظلہ سے قرأت عشرہ مکمل کی اس دوسال کے عرصہ میں عصرکے بعدبس یہی پڑھتے تھے،پھر حضرت صوفی صاحب نے سند بھی جاری کی،فرماتے اس عرصہ میں عصرکے بعدسیرکرنابھی یادنہیں ہے۔
وفاداری کی انتہا:
تاحیات اپنے مادرعلمی کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہے ہمارے اس جامعہ اشرفیہ ما ن کوٹ میں تقریبا اس کی بنا ہی سے موقوف علیہ درجہ سابعہ تک کلاسیں رہیں تو طلبہ جب بھی مشکوة شریف پڑھ لیتے بعض اصرار بھی کرتے کہ آپ دورہ حدیث شریف پڑھائیں ہم آپ کے پاس پڑھیں گے مگرآپ ہمیشہ طلبہ کویہی ترغیب دیتے کہ آپ میرے مادرعلمی دارالعلوم کبیروالامیں دورہ حدیث شریف کریں ممکن ہے کہ اپنادورہ حدیث صرف اسی وجہ سے شروع نہ کرتے ہوں کہ میں نے اس طرح اپنے مادرعلمی کا تعاون کرناہے۔اگرچہ طلبہ کو یہ بھی کہتے کہ اس وقت دارالعلوم کبیروالامیں اکثراساتذہ یاتومیرے شاگردہیں یاشاگردوں جیسے ہیں،مگرمیرامادرعلمی ہے،اس لیے میراجی چاہتاہے کہ آپ وہاں جاکردورہ حدیث کریں مگرآج کل طلبہ جس ادارہ میں پڑھ لیتے ہیںادارہ تو دورکی بات خوداستاذکانام بھی نہیں لیتے کہ ہم ان کے شاگردہیں،کہاجاسکتاہے کہ اس دورمیں تدلیس عام ہے۔
بندہ راقم عرض کیاکرتاہے ،جس کو جوملاہے وہ اپنے بڑوں، اساتذہ کرام اورمادرعلمی کیوفاداری سے ملاہے، کہاجاسکتاہے ایسے ہوسکتا ہے کہ سیدناصدیق اکبر سے( دیگربہت سے اعمال میں) دوسرے صحابہ آگے بڑھ گئے ہوں مگروفاداری آپ کاایک ایسا خاصہ تھا کہ اس میں آپ کا کوئی ثانی نہیں ۔
فراغت:
١٩٧٠ئ میں تمام علوم وفنون درسی پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے اور زمانہ تعلیم ہی میںحضرت صوفی سرور صاحب دامت برکاتہم سے قرأت عشرہ بھی مکمل کرلی تھی ۔
آغازتدریس :
فراغت کے متصل بعد حضرت مولانا منظورالحق نے مدرسہ تعلیم القرآن ٹھوکر چاون میں بطور مدرس مقرر فرمایا واقعہ یوں ہوا ،مدرسہ تعلیم القرآن ٹھوکر چاون کے مہتمم حافظ امیر صاحب مرحوم مولانا منظور الحق کے دوست تھے تو انہوں نے اپنے مدرسہ کی آباد کاری کیلئے (چونکہ ٹھوکر چاون آج بھی دیہات میں ہے )مدرس مانگا ایسا کہ جس سے یہ دیہاتی مدرسہ چمک اٹھے تحفیظ کا سلسلہ پہلے سے تھا قاری اشرف صاحب (جو کہ پہلے سے وہاںمدرس تھے درجہ قرآن میں) بتاتے ہیں مولانا محمد اشرف صاحب سائیکل پر کبیر والا سے آئے ،بالکل سادہ کپڑے اور چھوٹی سی گٹھڑی میں دو تین کپڑے اور پہنچ گئے ،قاری اشرف صاحب کہتے ہیں کہ مجھے حافظ امیر صاحب نے بلایا اور مولانا منظورالحق صاحب کے پاس کبیر والا یہ پیغام دیکربھیجا کہ میں نے آپ سے مدرس مانگا ہے آپ نے ایک لڑکا سا بھیج دیا ہے ہمیں مدرس دیجئے ،تو حضرت مولانا منظور الحق نے واپس پیغام بھیجا کہ اگر بھینسیں چروانی ہیں تو میرے پاس بندہ نہیں ہے ،اگر کتابیں پڑھوانی ہیں تو اس سے بہتر بندہ میرے پاس نہیں ہے،تو حافظ امیر صاحب خاموش ہو گئے اب حضرت مولانا منظور الحق دارالعلوم کبیروالا سے طلبا ء سے یہ کہ کرٹھوکرچاون بھیجتے کہ عیدالاضحی تک میرے مشورہ سے مدرسہ تعلیم القرآن ٹھوکرچاون چلے جاؤاگرعیدالاضحی تک تمہاری تعلیمی تسلی ہوجائے تو بہت اچھا، وگرنہ دارالعلوم میں تمہاراداخلہ ہوگامختصرالمعانی تک طلبہ آئے گلستان سے لیکرمختصرالمعانی تک آپ اکیلے پڑھاتے تھے ،حضر ت والد محترم فرمایاکرتے تھے چوبیس گھنٹے میں سے چندگھنٹے آرام کرتاتھا دیگروقت ساراتعلیم وتعلم میں گزرتا،جو طالب علم آتابس تعلیم وتربیت میں گرفتارہوجاتاتھا،واپس دارالعلوم کوئی بھی نہ گیابقول قاری اشرف صاحب پھر حافظ امیر صاحب کہاکرتے تھے واہ مولوی منظورآپ نے کیسے کیسے ہیرے تیارکیے ہیں۔
فارسی فاضل :
اسی سال١٩٧١ئمیں فارسی فاضل کیا جو اس وقت کی اصطلاح میں منشی فاضل ہواکرتاتھا ملتان بورڈمیں فرسٹ آئے ۔
دورہ تفسیرمیں شرکت:
دورہ تفسیرالقرآن الکریم سالانہ تعطیلات میں مدرسہ اشرف العلوم شجاع آبادمیں قطب الارشاد حضرت مولانامحمدعبداللہ بہلوی کے پاس دورہ تفسیرکیلئے گئے ،فرماتے تھے کوئی آٹھ پارے پڑھے تھے پہلے فنون کا ذوق تھااب تفسیرکاذوق ہورہاتھا۔
حضرت مولانامنظورالحق کاخصوصی حکم:
حضرت مولانامنظورالحق کا وہیںاشرف العلوم شجاع آبادمیں پیغام آگیا،کہ آئندہ سال آپ کا تقرردارالعلوم کبیروالامیں ہوگیا ہے،منجملہ دیگراسباق کے اقلیدس وتصریح بھی ہے،یہ چونکہ آپ نے پڑھی نہیں ہیں( چونکہ ترتیب درجہ بندی کی نہیں ہوتی تھی فنون کی کتب بھی اب سے زیادہ ہوتی تھیں،بعض کتب رہ جاتی تھیں،اگرچہ حضرت نے فلسفہ صرف ونحومنطق کی بالائی کتب نہ صرف پڑھیں بلکہ پڑھائی بھی تھیں) لہذاآپ طاہروالی میں میرے استاذحضرت مولانامنظوراحمدنعمانی کے ہاں ان تعطیلات میں پڑھ کر آؤ،آئندہ سال آپ نے پڑھانی ہیں حضرت والد محترم فرماتے تھے کہ بہت دل کو قلق ہوا،کہ بڑی تمناؤں کے ساتھ دورہ تفسیرمیں آیاتھا اب تفسیرقرآن کو چھوڑ کر معقولات پڑھوں ،بہت کلفت سی ہورہی تھی۔
حضرت بہلوی سے مشورہ:
حضرت بہلوی سے مشورہ کیا تو انہوں نے فرمایاکہ اپنے استادوں کی اطاعت کرو،فرمایاکرتے تھے وہیں سے طاہروالی روانہ ہوا،اس وقت یہ مدرسہ گمانی میں تھا حضرت مولاناحبیب اللہ گمانوی بھی حیات تھے فرماتے تھے کہ سردی کا موسم تھا بھینسوں کے کمرہ میں جگہ بنی، یوں روکھے سوکھے پر گزاراکرکے یہ دوعددکتب پڑھیں،حضرت نعمانی اگرچہ مولانامنظورالحق کے معقولات میں استاذتھے حضرت نعمانی سے راقم نے خود سنا کہ میں نے مولانامنظورالحق کوایک سال میں معقولات کی اٹھارہ کتب پڑھائی ہیں،مگرچونکہ حضرت نعمانی صاحب مولاناعبدالخالق کے شاگردتھے تو اپنے استادکے بھتیجے کے حکم کی وجہ سے حضرت والد صاحب کو چھٹیوںمیں بھی پڑھادیا۔
دارالعلوم کبیروالامیں تقرر:
حضرت مولانامنظورالحق قدس اللہ سرہ نے اپنے مایہ نازشاگرد کوخوب آزماکراپنے جامعہ دارالعلوم کبیروالامیں دعوت دی، ہدایہ ثالث اوراقلید س تصریح میرزاہدامورعامہ ،خلاصة الحساب وغیرہ کے اسباق دے دیے،حضرت والد محترم فرمایاکرتے تھے جب تقررکے بعدمیں دارالعلوم گیاتورات کو دیرسے پہنچا طبیعت سیدھی سادی تھی،توکسی کمرے میں داخل ہوگیااورطلبہ سے کہاکہ بھائی رات توگزارنے دو توطلباء نے وہ چارپائی جو پائنتی کی جانب تھی کہہ دیا کہ اس پر سوجاؤ،جب سبق پڑھنے کیلئے درسگاہ میں طلباء نے مجھے پایاتوبڑے شرمندہ ہوئے ،حضرت والدمحترم فرمایاکرتے تھے میں نے استاذمحترم مولانامنظورالحق سے عرض کیاکہ حضرت بڑے اسباق ہیں یہ جن طلباء کو پڑھانے ہیں ان سے بے تکلفی رہی ہے،وہ مجھ سے کیسے پڑھیں گے؟حضرت استاذمحترم نے فرمایاکہ مولوی اشرف فکرچھوڑوجب بندہ محنت سے پڑھاتاہے،تو شخصیت بن جاتی ہے چنانچہ ایساہی ہوا۔
مولانامنظورالحق کی شفقت :
حضرت والد محترم فرمایاکرتے تھے جب پڑھانے کا وقت آیا توحضرت استاذمولانامنظورالحق مجھے خوددرسگاہ میں لے گئے،اوردری خودبچھارہے تھے بچھاکرفرمایامولوی اشرف بیٹھومیں دیکھ کر جاؤںحضرت والدمحترم نے فرمایاکہ میں نے بارہااصرارکیا کہ حضرت آپ کی موجودگی میں کیسے بیٹھوں تو حضرت استاذمولانامنظورالحق نے فرمایامیں جو کہہ رہاہوں بیٹھومیرادل دیکھ کر خوش ہوگاتوفرماتے ہیں کہ الامرفوق الادب کے تحت بیٹھ گیا،بھلا اس افراتفری کے دورمیں ایسے مشفق اساتذہ اور ایسے دل جیتنے والے تلامذہ اب بھی پیداہوسکتے ہیں؟
مولانامنظورالحق اورمولانافیض علی شاہ کی بصیرت کاواقعہ:
یہ فلکیات کے اسباق اقلیدس وتصریح قدیم حساب میں خلاصة الحساب حضرت مولانافیض علی شاہ ہزاروی کے اسباق تھے جو ان کی موجودگی میں ان کے اسباق حضر ت والدمحترم کو ملے حضرت والدمحترم کا دونوں اساتذہ کرام سے والہانہ تعلق تھا ،تو حضرت مولانامنظورالحق نے علیحدگی میںحضرت والدمحترم سے کہا کہ مولانافیض علی شاہ صاحب فنی آدمی ہیں،اورمسافربھی ہیں پتہ نہیں کب چلے جائیں ؟میں چاہتاہوں کہ میرے اپنے شاگردتیارہوں،اورفنون سنبھالیں،آپ پر شاہ صاحب مشفق ہیںآپ کو کوئی مشکل پیش آئے گی تواس پر راہنمائی کردیں گے یہ ان کا خاص فن ہے حاصل کرلو،حضرت والدمحترم فرماتے تھے کہ یہ بات جب حضرت مولانامنظورالحق نے فرمائی تو ہم دونوں تھے تیسراکوئی نہیں تھا،ادھرتقسیم اسباق کے بعدجب حضرت مولانافیض علی شاہ کے پاس گئے بقول حضرت والدمحترم کہ حضرت شاہ صاحب فرمانے لگے کہ مولوی اشرف! مولوی منظوربڑاچالاک ہے میری موجودگی میں وہ تمہیں تیارکررہاہے فرماتے کہ میں نے کہا نہیں استاجی، حضرت شاہ صاحب فرمانے لگے کہ چھوڑوچھوڑومولوی منظوربڑاچالاک ہے۔کوئی اورالوکا پٹھامیراسبق میری موجودگی میں پڑھاتاتومیں خبرلیتا۔تم تو میرے اپنے عزیزبیٹے ہوکوئی بات نہیں جب کوئی مشکل پیش آئے تو آجایاکروبے تکلفی سے ،میں راہنمائی کردیاکروں گا
حضرت مولانافیض علی شاہ کاکمال علمی:
حضرت والدمحترم فرماتے کہ جب کبھی کوئی مشکل پیش آتی تو میں جاتاتو یہ فن ان کواتناازبرتھا کہرات کو کھلے صحن میں چارپائی پرلیٹے لیٹے آسمانوں پر فلکیات کامسئلہ سمجھا دیتے اس واقعہ کو حضرت والدمحترم دونوں اساتذہ کی بصیرت پر محمول کرتے تھے ،یوں دارالعلوم کبیروالامیں تین سال گزارے خوب محنت سے گزارے۔پھروہاں سے دوبارہ ٹھوکرچاون آگئے پھر تین سال مدرسہ تعلیم القرآن ٹھوکرچاون میں گزارے حضرت والد کی ہی جگہ پر آئندہ حضرت مفتی عبدالقادر کو دارالعلوم کراچی سے بلایاگیاتھا،اورمولانایسین صابرصاحب کو جامعہ رشیدیہ ساہیوال سے ۔
جامعہ عثمانیہ شورکوٹ میں تدریس:
مولانابشیراحمدخاکی حضرت والدمحترم کے رفقاء میں سے بھی تھے انہوں نے حضرت مولانامنظورالحق سے مدرس مانگاایساکہ جس سے رونق ہوجائے،حضرت مولانامنظورالحق نے انہی کو وہ تاریخی الفاظ دوہرائے تھے کہ میرااورتوکوئی ایسا شاگردنہیں ہے،مگرمولوی اشرف ایساشاگردہے جو دیہات میں جائے کامیاب ہے شہرمیں جائے کامیاب ہے،پہاڑپرچڑھ جائے طلباء اس کے پیچھے ہونگے،کسی سوراخ میںگھس جائے طلباء اس کونہیں چھوڑیں گے اگرچہ میں اس پر ناراض ہوں دارالعلوم چھوڑنے کی وجہ سے،بہرحال حضر ت مولانابشیراحمد صاحب کی پُراصراردعوت پر شورکوٹ میں تشریف لے گئے اگرچہ حضرت استاذمولانا منظورالحق بھی بعد میںراضی کرلئے گئے تھے یوں شورکوٹ جامعہ عثمانیہ کی تدریس کے دوران ہی قطب الارشاد حضرت مولاناعبداللہ بہلوی کے ہاں رشتہ کی بات چل نکلی۔
مدرسہ اشرف العلوم شجاع آبادمیں تدریس:
یوں غالبا ١٩٧٦ئ کے اواخرمیں عقدنکاح ہوااورساتھ ہی مدرسہ عربیہ اشرف العلوم میں تقررہواحضرت بہلوی کی توجہات کا مرکزرہے،مدرسہ کے تعلیمی ماحول میں اضافہ ہوا جو کہ حضرت بہلوی کی عنایات کے اضافے کا باعث ہوا۔
حضرت بہلوی نے تعویذمانگا:
بقول حضرت والدمحترم کے کہ ایک مرتبہ حضرت بہلوی فرمانے لگے کہ مولانااشرف صاحب آپ کے پاس ایک خاص تعویذ ہے مجھے دے دیں میں نے عرض کیا کہ حضرت میرے پاس تو کوئی تعویذنہیں ہے مگرحضرت بہلوی نے حضرت والدمحترم کے مکررسہ کررانکارکے بعدفرمایاکہ میں جو کہہ رہاہوں کہ آپ کے پاس تعویذہے تو آپ کیوں انکارکرتے ہیں توحضرت والدمحترم فرماتے کہ میں نے ڈرکے عرض کیا جی ہے آپ فرمائیں وہ کون سا ہے،تو حضرت بہلوی نے فرمایاکہ یہ جوطلبہ کا رجوع ہے آپ کی طرف یہ تعویذ ہے یہ آپ مجھے دے دیں۔
مگریہ حضرت والدمحترم کا تدریسی ساراوقت حضرت بہلوی کی علالت کا ہے،اورآخری عمر کا ہے حضر ت بہلوی کی زندگی میں ہمارے ایک بھائی پیداہوئے اور فوت ہوگئے اوروالدہ محترمہ فرماتی تھیں کہ میں نے اباجان سے درخواست کی تو انہوں نے اپنے بابرکت ہاتھوں سے ایک تعویذلکھ دیا جومیں نے گلے میں ڈالااس کی برکت سے تمام اولادصحت مندی اورسلامتی سے پیداہوتی رہی ہے حضرت بہلوی کے ١٩٧٧ئمیں انتقال کے بعدایک سال تک وہاں رہے،مگربعض ناگزیروجوہات کی بنا پر حضرت استاذمحترم مولانامنظورالحق کے حکم اور ارشاد سے جہانیاں منڈی جامعہ رحمانیہ میں تشریف لے گئے۔
حضرت مولاناسرفرازکان صفدر کا مادرعلمی:
جی یہی وہ جامع مسجدرحمانیہ ہے جہاں کسی دورمیں ماہرنحووصرف حضرت مولاناغلام محمدلدھیانوی پڑھایاکرتے تھے جن سے ملاعبدالغفوراوردیگرکتب پڑھنے کیلئے حضرت مولاناسرفرازخان صفدرصاحب اورحضر ت مولاناصوفی عبدالحمیدسواتی آئے تھے اور پڑھ کرگئے یہ غالبا١٩٣٧ئ کے لگ بھگ کا واقعہ ہے حضرت والدمحترم کے بقول کہ میں( عبدالغفورجوکہ شرح ملاجامی کا درحقیقت حاشیہ ہے،کسی دورمیں سبقاپڑھایاجاتاتھا)پڑھاتاتھاتو کتاب کے حاشیہ پر عبارت پڑھنے کی باری لکھی ہوئی دیکھی سرفرازسواتی عبدالحمیدسواتی تومیں نے حضرت مولاناسرفرازخان صفدر سے پوچھا توانہوں نے فرمایاکہ جی ہاں ہم نحوکی تکمیل کیلئے وہاں گئے تھے عبدالغفورپڑھ کرآئے تھے،اس استاذصاحب کا عبدالغفوربہت مشہورتھا،اسی مسجدکے قبلہ رخ کھڑے ہوں تو دائیں جانب بالاخانہ ہے وہ ہماراگھرتھا،١٩٨٠ئسولہ فروری بمطابق ١٤٠٠ھستائیس ربیع الاول بروزجمعہ صبح چاربجے بندہ راقم محمداحمدانورکی پیدائش ہوئی ١٩٧٩ئ سے ١٩٨٦ئ تک جامعہ رحمانیہ میں رہے اسی عرصہ میں ہم چاروں بھائی بندہ راقم محمدعمرمحمدابوبکرمحمدعثمان بالترتیب پیداہوئے اور اس دورمیں حضرت والدمحترم نے بہت محنت کی مدرسہ رحمانیہ جو ایک عدم سے وجودکی طرف منقلب ہواتھا،ایک عظیم ادارہ کے طورپرمتعارف ہوگیا،اکابرکی توجہات کا مرکزہوگیامگرانتظامیہ کی دنیااورجاہ پرستی اس کی بہبودوترقی میں ہمیشہ رکاوٹ رہی حضرت والدمحترم کی بے پناہ مقبولیت اورطلباء کی مرجعیت جہدوذوق حاسدوں سے بالخصوص ایسے منتظمین سے ہضم نہ ہوسکاتوحضرت والدمحترم کو درمیان سال میں ادارہ چھوڑنا پڑادوبارہ مدرسہ اشرف العلوم شجاع آبادوالوں کے اصرارپر شجاع آبادتشریف لائے اگرچہ اس وقت بڑے بڑے اداروں والوں نے پیش کشیں کیں یہ غالبا١٩٨٦ئ کاواقعہ ہے۔
اکابراداروں کی دعوتوں کی بہتات:
یہ وہ وقت تھاکہ اب حضرت والدمحترم کی محنت جہدوتقوی ادارہ اورطلباء کے ساتھ ہمدردیبلندحوصلگی بلندہمتی کا سکہ ماناجاچکاتھا،بلکہ نبّاض اکابرنے تو اس سے قبل ہی انکی معنویت کو بھانپ لیاتھا،١٩٨٠ئ میں مفکراسلام حضرت مولانامفتی محمود کی جہانیاں جامعہ رحمانیہ میں آمدہوئی تو جامعہ رحمانیہ جہانیاں کی رونق اورطلبا کی کثرت کو دیکھا بالخصوص ان کے اورجمعیت کے امیرحافظ الحدیث حضرت درخواستی قدس اللہ سرہ اوردیگرعلماء کے بچے بھی حضرت والدمحترم کی تربیت میں تھے تو بے حدمتأثرہوئے بقول حضرت والدمحترم کہ مجھے قاسم العلوم ملتان بلوابھیجا۔
مفکراسلام مفتی محمود کی دعوت:
فرماتے تھے جب میں حاضرہواتومجھے فرمانے لگے ،کمال ہے مولانااشرف کہ میں جمعیت علماء اسلام کا جنرل سیکریٹری ہوں قومی اتحاد کا صدرہوں قاسم العلوم کا شیخ الحدیث اورمفتی ہوں میرے پا س درجہ کتب کے ساٹھ طلبہ ہیں ملتان شہرمیں اورآپ اکیلے کے پاس ڈیڑھ صدطلباء ہیں،آپ ایساکریں کہ قاسم العلوم آجائیں حضرت والدمحترم نے فرمایاکہ حضرت اب توسال شروع ہے،کیسے آؤں فرمایاکوئی بات نہیں بس آجاؤحضرت والدمحترم نے عرض کیا کہ حضرت مدرسہ رحمانیہ بند ہوجائے گا فرمایاکوئی بات نہیں ایک سال کیلئے بندکرکے آجاؤاورپھر حضرت مفتی محمود نے فرمایاکہ اب میں سفرحج پرجارہاہوں مولوی اشرف اگرواپس آکرزندہ رہاتو آپ کو قاسم العلوم ملتان ضرورلاؤں گابندہ کے پاس ١٩٨٠ئ کی ڈائری محفوظ ہے جس پر وہ تاریخ درج ہے،جس تاریخ کو حضرت مفتی محمود جامعہ قاسم العلوم ملتان آنے کی پراصراردعوت دی تھی جس کو حضرت والدمحترم نے درج فرمایاتھا،مگراب ١٩٨٦ئتک توبہت سے اکابرین کے منظورنظرہوگئے تھے۔
حضرت حافظ الحدیث کی دعوت:
حتی کہ حضرت حافظ الحدیث مولانامحمدعبداللہ درخواستی نے اصرارکی حد کردی جب حضرت والدمحترم نے باربارانکارکیا تو فرمایاکہ کم ازکم چالیس دن کیلئے دورہ صرف نحو پڑھادوچنانچہ حضر ت والدمحترم نوراللہ مرقدہ نے جامعہ مخزن العلوم خانپورمیں چالیس روزہ دورہ صرف ونحوپڑھایاتب جاکرحضرت درخواستی کی تسکین ہوئی۔
حضرت حافظ غلام حبیب چکوالی رحمہ اللہ کی دعوت:
اسی طرح حضرت حافظ غلام حبیب چکوالی (جو کہ حضرت والدمحترم کے مرشدبھی تھے)نے دارالعلوم حنفیہ چکوال میں تدریس کی پرزوردعوت دی حتی کہ یہاں تک کہہ دیا کہ حضرت والدمحترم کی تنخواہ شجاع آباداشرف العلوم میں ١٧٠٠روپے تھی ،اس وقت پانچ ہزارروپے اوربنگلہ دینے کی بھی پیش کش فرمائی،حضرت والدمحترم نے یہ کہہ کر معذرت کردی کہ کماحقہ ادب نہیں کرسکوں گا،ہوسکتاہے کہ شیخ کاادب کرلوں مگرشیخ زادوں کا ادب نہ کرسکوں۔
حضرت شیخ القراء قاری محمدطاہررحیمی کی دعوت:
حضرت قاری محمدطاہررحیمی مہاجرمدنی جس قدرجید اورعمدہ تھے فن قرأت میں اسی قدردیگرعلوم کے ساتھ ساتھ فن حدیث میں بھی ایک کامل ذوق کے حامل تھے مگرمزاج کے بے حدٹھوس تھے لیکن مگرحضرت والدمحترم سے انہیں بے پناہ انس تھا حتی کہ اپنے جیدترین تلامذہ کو درجہ کتب کی تعلیم کیلئے نہ صرف یہ کہ حضرت والدمحترم کے پاس بھیجتے تھے بلکہ خودبنفس نفیس پہنچانے آتے تھے اپنے فرزندمولوی عبدالقادرصاحب کو بھی اشرف العلوم شجاع آبادمیں حضرت والدمحترم کی تربیت میں بھیجاخودتشریف بھی لایاکرتے تھے انہوں نے بھی مسجدباب رحمت مغل آبادمیں حضر ت والدمحترم کو دعوت دی کہ آپ میرے پاس آکر درجہ کتب کانظام قائم فرمائیں ۔
مولاناعبدالبر محمدقاسم کی جامعہ قاسم العلوم میں تدریس کیلئے دعوت:
یہ کوئی ١٩٨٧ئ یا٨٨ء کی بات ہے موجودہ مہتمم جامعہ قاسم العلوم ملتان حضرت مولاناعبدالبر محمدقاسم صاحب (کو تو حضرت والدمحترم سے عشق کی حد تک انس تھا) نے کوئی اٹھارہ مرتبہ حضر ت والدمحترم کوباربارخودتشریف لاکر قاسم العلوم آنیکی دعوت دی مگرحضرت والدمحترم قاسم العلوم کے قدیمی انتشار پٹھان پنچابی سے گریزاں تھے بلکہ کسی سے حضرت مفتی محمود نے پوچھا تھا جب انہوں نے دعوت دی تھی کہ مولانااشرف کومیں نے دعوت دی قاسم العلوم کی تو انہوں نے میری دعوت قبول بھی نہیں کی اوروہ حضرت والدمحترم کے کوئی دست راست تھے توانہوں نے نے کہاکہ حضرت اس پٹھان پنجابی کے آئے دن فسادکی وجہ سے ڈرتے ہیں توحضرت مفتی محمود نے فرمایاکہ ہم مولانااشرف کا یہ اشکال ختم کردیں گے۔
الغرض یہ توقابل ذکرتھے وگرنہ دیگرمتعددمدارس حضرت والدمحترم کی تدریسی صلاحیتوں کے قائل ہونے کی وجہ سے خواہشمند رہے۔
میاں محمدزمان بودلہ مرحوم کی ملتان میں آمدکی دعوت:
یہ کوئی سن ٨٧ء یا٨٨ء کی بات ہے کہ جب حضرت والدمحترم مدرسہ اشرف العلوم شجاع آبادمیں تھے اوربودلہ ایک قوم ہے اس قوم کی ایک بڑی کھیپ شجاع آبادمیں رہائش پذیرہے اوراس خاندان کے بے شمارلوگ حضرت ناناجان حضرت بہلوی سے بیعت تھے اورمتعددافرادنے حضرت والدمحترم سے شرف تلمذحاصل کیاتھا،محترم میاں محمدزمان بودلہ حضرت والدمحترم کے انتہائی عقیدت مندلوگوں میں سے تھے،انہوں نے ملتان چوک کمہاراں سے شمال کی جانب چوک سے ٹھیک نصف فرلانگ پرایک ٹاؤن بنایاجوکہ آج بھی بودلہ ٹاؤن کے نام سے یادکیاجاتاہے،توانہوں نے چارکنال کے لگ بھگ رقبہ حضرت والدمحترم کودینے کی پیش کش کی حضرت والدمحترم نے فرمایاکہ میں تدریسی آدمی ہوں مدرسہ بنانامشکل کام ہے،میں کہاں سے چندہ لاؤں گا؟میں نہیںبناسکتامیاں زمان بودلہ مرحوم باربارآئے اوردرخواست کی تاآنکہ اصرارکی حدتک بات پہنچ گئی حضرت والدمحترم کا انکاربھی شدت اختیارکرتاگیا۔
بودلہ صاحب کے جذبات:
حتی کہ ایک مرتبہ میاں زمان بودلہ مرحوم آئے اورعرض کیاکہ حضرت میں حیران ہوں لوگ میرے پیچھے بھاگتے ہیں،میں آپ کے پیچھے بھاگ رہاہوں اوریہ اپنی جگہ میں نے آپکو ہی دینی ہے آپ لے لیں اگرآپ یہ جگہ نہیں لیتے تومیں یہ جگہ سینماوالوں کو دیکرسینمابنواتاہوں اوراگرقیامت کے دن اللہ تعالی نے مجھ سے پوچھ لیا کہ تونے سینماکیلئے جگہ کیوں دی تھی تومیں اللہ جل شانہ سے عرض کردونگا کہ میں نے مولانااشرف صاحب کوبارباردرخواست کی تھی انہوں نے قبول نہ کی تھی تومیں نے اسلئے سینماوالوں کودے دی بس یہ سن کر حضرت والدمحترم ڈھیلے پڑگئے کہاچلوٹھیک ہے لیتاہوں ،تومیاں زمان مرحوم مطمئن ہوگئے تو عرصہ چارپانچ سال تک حضر ت والدمحترم کے پاس ہی وہ جگہ رہی خواہی نہ خواہی اس کی رسیدبکیں بھی چھپوا لی گئیں پہلی رسیدبکیں جو چھپی تھیں ان پرمدرسہ کانام بھی حضرت والدمحترم نے تجویزکیاتھا مدرسہ ابوبکرصدیق بودلہ ٹاؤن ملتان زیراہتمام حضرت مولنامحمداشرف شاد درج تھا بلکہ میرے پہلے استاذحضرت مولاناقاری سرداراحمدمدظلہ جو کہ حضرت والدمحترم کے پہلے دست راست تھے حضرت والدمحترم کو انہوں نے بھی بہت اصرارکیاکہ استاجی یہ جگہ آپ رکھ لیں انکو فرماتے” چندہ توں پن آسیں ”تو حضرت استاذقاری سرداراحمدصاحب فرماتے جی ہاں چنانچہ انہوں نے اس رسید پر چندہ بھی کیا،مگرحضرت والدمحترم ذہناتیارنہ ہوئے ادھرمہتممین کی ریشہ دوانیوں سے بھی دلبرداشتہ تھے مدرسہ بنانابھی چاہتے تھے مگرایسا کہ میں خودمختارتوہوں لیکن چندہ نہ کرنا پڑے۔

مدرسہ کے مہتمم بننے کی آمادگی کی وجوہ:
پہلی وجہ:
ایک تو وجہ یہ تھی کہ حضرت والدمحترم کمال درجہ کے مدرس تھے،طلبہ کو جہاں بھی رہے زیادہ پڑھاتے تھے زیادہ گھلتے پگھلتے تھے توطلبہ کا مرجع ہوتے تھے،جس مدرسہ میں بھی ہوتے مہتمم کا اہتمام عملافیل ہوتاتھا،الاماشاء اللہ طلبہ ایک بھی انکی نہ سنتے تھے اورحضرت والدمحترم کمال کے مدرس تھے اورطلبہ کی عام عادت ہوتی ہے کہ وہ قدرکرتے ہیں تو استاذکی نہ کہ اہتمام کی تویہ بات منتظمین کیلئے بڑی ناگوارہوتی جس کی وجہ سے موقع بہ موقع حضرت والدمحترم کو انکی وجہ سے فطرتا تکلیف پہنچائی جاتی تھی۔
دوسری وجہ:
یہ تھی کہ کمال کے خوددارتھے اگرمہتمم نے ایک ہاتھ سے سلام کیا تو یہ بھی ایک ہاتھ سے سلام کرتے تھے،جس لہجہ میں مہتمم بات کرتے اسی لہجہ میں یہ بات کرتے تھے متعددمدارس کے بدلنے کی منجملہ دیگروجوہ کے یہ ایک اہم وجہ تھی کہ بیچارے مہتمم کااہتمام نہ چلتاتھا، انتہائی خوددارطبیعت تھی اورحق گوئی اورصاف گوئی کا بہت ساراحصہ فطرتی اورخاندانی تھا ۔
عظیم استاذسے مماثلت:
اوراس پررنگ بھراحضرت والدمحترم کے استاذمحترم حضرت مولاناسید فیض علی شاہ (سابق مدرس دارالعلوم دیوبند)کی صحبت نے ،گویاحضرت والدمحترم انکے مزاج کی تصویرتھے، بندہ نے بھی انکی خوب زیارت کی استفادہ بھی کیا بلاکے خودداربے حددرجہ بے باک تھے جو خیال میں آتاکہ دیتے کچھ بچاکررکھنے کے قائل نہ تھے،اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلندفرمائیں فنون کے کمال کے مدرس تھے،لاثانی فی زمانہ کہاجاسکتاہے،غالبا اسی حق وصاف گوئی کی وجہ سے انہیں بھی متعددمدارس میں تدریس کرنی پڑی بندہ کے علم کے مطابق انہوں نے جن مدارس میں دارالعلوم دیوبندکے علاوہ تدریس کی وہ یہ ہیں(١)دارالعلوم کبیروالا(٢)دارالعلوم فیصل آباد(٣)جامعہ اشرفیہ لاہور(٤)مدرسہ تعلیم القرآن راجہ بازارراولپنڈی (٥)جامعہ فاروقیہ کراچی (٦)مدرسہ دارالفیوض الھاشمیہ سجاول سندھ،(٧)مدرسہ اشرف العلوم گوجرنوالہ بالآخردلبرداشتہ ہوکرانگلینڈتشریف لے گئے،انگلینڈکے شہربولٹن میں رہتے تھے پاکستان میںتقریبا ٢٧سال تدریس کی تقریباتیس سال کے لگ بھگ برطانیہ میں رہے پاکستان میں انکاانتقال ہواہزارہ میںمدفون ہوئے حضرت والدمحترم نے بھی دارالعلوم کبیروالاکے علاوہ متعدد مدرسوں میں تدریس کی (١)مدرسہ تعلیم القرآن ٹھوکرچاون خانیوال(٢)جامعہ عثمانیہ شورکوٹ جھنگ(٣)جامعہ اشرف العلوم شجاع آباد(٤)جامعہ رحمانیہ جہانیاں منڈی خانیوال(٥)جامعہ اشرفیہ مان کوٹ(٦)مخزن العلوم خانپوردورہ صرف ونحو(٧)جامعہ قاسم العلوم ملتان دورہ صرف ونحو
جامعہ اشرفیہ مانکوٹ کاقیام:
غالبا١٩٨٨ئ میں مانکوٹ کے علاقہ میں لنگڑیا ل فیملی کے زمیندارگھرانہ مہرمحمدعبداللہ مرحوم کے فرزندمہرمحمداشرف لنگڑیال تقریبا تیس سال کی عمرمیں انتقال کرگئے اکلوتی بیٹی اورتین بہنیں اوروالدہ چھوڑی تووالدہ جن کو اماں صفوراں کے نام سے ماحول میں یادکیا جاتا ہے نے اپنے جواں سال بیٹے کے ایصال ثواب کیلئے بیٹے کے صدقہ جاریہ کے طورپرمدرسہ قائم کراناچاہااورکچھ زمین بھی وقف کرنے کا ارادہ کیا ۔
اہل مانکوٹ سے تعلق:
اس لنگڑیال فیملی کا دوطرح سے حضرت والدمحترم سے تعلق تھا،(١)ایک تویہ کہ یہ تقریباپوراخاندان بلکہ پوراعلاقہ حضرت ناناجان مولانامحمدعبداللہ بہلوی کے مریدین ومعتقدین کا ہے اس علاقہ میں حضرت کی آمدبکثرت رہی ہے یہی راز ہے اس علاقہ کے نادار وامیرلوگوں کے صحیح العقیدہ ہونے کابحمداللہ ،پھر یہ علاقہ ماموں جان حضرت مولاناعبدالحی بہلوی خلیفہ مجازحضرت شیخ الحدیث مولانامحمدزکریا سے متعلق ہوا،اس وقت ماموں جان بھی حیات تھے۔(٢)دوسری وجہ تعلق کی یہ تھی کہ اس اماں صفوراں رحمھااللہ کے چھوٹے داماد علاقہ کے متدین حاجی نورمحمدمرحو م کے فرزندمہرمحمدیوسف صاحب اوراماں صفوراں کے سوتیلے بیٹے مہرمحمدظفرصاحب اور اس علاقہ کے دیگرمتعددافرادنے حضرت والدمحترم کے زمانہ تدریس مدرسہ تعلیم القرآن ٹھوکرچاون میں حضرت والدمحترم سے نہ صرف پڑھابلکہ خصوصی طورپرزیرتربیت رہے،توشناسائی بہت مضبوط تھی مولانااحمدیارصاحب مدظلہ خلیفہ مجازحضرت مولاناعبدالحئی بہلوی چونکہ اس قوم کے عمومی پیشواتھے ان سے مشورہ کیا گیا توانہوں نے حضرت والدمحترم کی طرف راہنمائی کی اس راہنمائی کرنے میں معاون کے طورپرقاری محمداشرف صاحب راہ والا بھی رہے کہ اگرمولانامحمداشرف شاد کولایاجائے تو یہ جگہ آبادہوسکتی ہے اور ادارہ قائم ہوسکتاہے چھ ماہ تکحضرت والدمحترم کو اس دیہات میں آمد پر مجبورکرتے رہے،بات چیت بڑھی اورپل کے طورپرحضرت مولاناعبدالحئی بہلوی ماموں جان کو استعمال کیا گیاحضرت والدمحترم جب یہاں آئے تواماں صفوراں یہ سن کر بے حدخوش ہوئی کہ اس مولاناکانام بھی محمداشرف ہے بس وہ تو فداہونے پر تیارہوگئی ادھر مدرسہ اشرف العلوم کوچھوڑنے کی باتیں چلیں توماموں جان مولاناعزیزاحمدبہلوی صاحب مدظلہ پُراصرارہوگئے کہ ہمیں اول تو تازیست نہ چھوڑیں کم ازکم یہ سال یعنی ١٩٨٩ئکوبالکل نہ جائیں مگرخالق کائنات کے فیصلے ہوچکے تھے قدراللّٰہ وماشاء بات پکی ہوگئی اشرف العلوم شجاع آبادچھوڑکر اس جنگل نمادیہات میں آنے پر آمادہ ہوگئے جہاںبجلی تھی نہ سڑک نہ دوکان نہ ڈاکٹرالغرض سہولیات زندگی سے کوئی محروم جگہ ہوتی ہے تووہ یہ جامعہ اشرفیہ مان کوٹ کی تھی ملتان سے سائیکل سوارجلدی پہنچ جاتاتھا،بس دیر سے پہنچتی تھی گویا١٩٨٩ئکے رمضان المبارک کا دورہ صرف ونحواشرف العلوم شجاع آبادمیں پڑھاکرشوال کے آغازمیں یہاں مان کوٹ تشریف لائے۔
حضرت والدمحترم کی عمائدین واقفین سے خصوصی شرائط:
چونکہ علاقہ زمینداروں کا تھا اورعمومازمین داروں کے جو مولوی ہوتے ہیں وہ راکھویں مولوی ہوتے ہیں اولا تو زمینداران کو نوکروں کی طرح سمجھتے ہیں،ثانیاکسی وقت بھی ان مولویوں کواپنے مقاصدکیلئے استعمال کرتے ہیں تو حضرت والدمحترم نے جو شرائط ابتداء میں رکھیں وہ یہ تھیں۔(١)متولی وصدرمیں رہونگا(٢)امورادارہ میں میں ہمیشہ آزادہونگاآپ کی قوم کا کوئی فردبشمول واقفین کی اولاداوررشتہ داروں کے کوئی مداخلت نہ کرے گا،(٣)الیکشن کے موقع پر
میں آزادہونگا جس کو مناسب سمجھوں گا اس کی حمایت کروں گاووٹ دوں گا،ناحق سمجھتے ہوئے جس کی مرضی مخالفت کروں گا،آپ میں سے کسی کا دباؤمجھ پر نہ ہوگاان شرائط کو اماں صفوراں اوران کی دوسری واقفہ بیٹی اوردیگردوبیٹیوں اوران کے شوہروں مہربشیراحمدصاحب مہرمحمداقبال صاحب مہرمحمدیوسف صاحب اوراماں کے دوسوتیلے بیٹے مہراللہ یارصاحب مہرمحمدظفرصاحب اماں صفوراںکے بڑے بھائی جوکہ اصل میں امورکوڈیل کرنے والے تھے الحاج مہرغلام قادرمرحوم بڑے ہی خداترس بااصول آدمی تھے اوردیگرمہرحاجی محمدنوازصاحب مرحوم مہرخدابخش مرحوم مہرمحمد اکرم لنگڑیال سب نے نہ صرف یہ کہ دل وجان سے ان شرائط کو تسلیم کیا بلکہ آج تک عملی ثبوت بھی دیا منجملہ ترقی کے زینوں کے یہ بھی ایک زینہ ہے کہ ان لوگوں نے بلکہ اب تو بہت سے بڑے چلے گئے ہیں انکی اولادوں نے بھی جامعہ کے امورمیں کبھی مداخلت نہیں کی بلکہ کبھی ہوسکے تو تعاون کرتے ہیں اللہ تعالی ان کو اجرعظیم عطاکریں،امیدہے کہ ان کی نسلیں بھی اپنی خاندانی شرافت کو برقراررکھتے ہوئے ان شرائط پرپوری اترتی رہیں گی اماں صفوراں اوراس کی پوری قوم کا یہ عظیم صدقہ جاریہ پھلتاپھولتارہے گااورانکی نسلیں اجر پاتی رہیں گی انشاء اللہ۔
مرکزعلم وعمل جامعہ اشرفیہ مان کوٹ کبیروالاخانیول کے اغراض ومقاصد:
مرکزعلم وعمل جامعہ اشرفیہ مان کوٹ کبیروالاخانیوال (پاکستان)کادینی تعلیمی رفاہی ادارہ ہے جسکے درج ذیل اغراض ومقاصدہیں۔
(١)عقائدعلماء حق کی حفاظت کرنااورانکی مثبت اندازمیں اشاعت کرنا۔
(٢)قرآن وسنت کی ترویج کرنا۔
(٣)انبیاء کرام علیھم السلام صحابہ کرام علیھم الرضوان صوفیاء کرام رحمھم اللہ علماء ومحدثین ومفسرین کے علوم ومعارف کو سمجھ کر اوران پر اعتمادکرتے ہوئے ان کو عملی زندگی میں اپنانا۔
(٤)ایسے افرادپیداکرناجوزندگی کے تمام شعبوں میں نہ صرف یہ کہ خود دین کے مطابق زندگی گزارنا جانتے ہوں، بلکہ امت کے معماراورقائدبننے کی بھی صلاحیت رکھتے ہوں۔
(٥)ایسے ماہرین علوم وفنون پیداکرناجو تمام علوم دینیہ میں مضبوط مناسبت رکھتے ہوں۔
(٦)امت مسلمہ کے قیمتی افرادکو علوم دینیہ میں کامل بنانے کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم سے بھی روشناس کرانا۔
(٧)ایسے خاندان جو اپنی اولادوں کے تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کرسکتے ایسے افرادکی مفت تعلیم وتربیت کرنا اوران کے جملہ مصارف واخراجات برداشت کرنا۔
(٨)امت مسلمہ کے اوپرآنے والے نت نئے فتنوں کو سمجھنااوران آزمائشوں سے نبردآزماہونے کیلئے قران وسنت وفقہ کی روشنی میں راہنمائی کرنا۔
(٩)ایسے صالح افراد تیارکرناجو علوم ظاہریہ کے ساتھ ساتھ علوم باطنیہ کے بھی حامل ہوں۔
(١٠)اپنے اکابرین پراعتماد کرتے ہوئے انکی راہنمائی کی روشنی میں ان اغراض ومقاصدکی تکمیل کیلئے مسلسل جدوجہدکرتے رہنا۔
آغاز کی تقریب :
١٨شوال ١٤٠٩ھ بمطابق ١٩٨٩ئ کو منعقد ہوئی جس میں فقیہ العصر حضرت مفتی عبدالستا ر صاحب شیخ المشائخ حضرت مولانا عبدالحی بہلوی قدس اللہ سرہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیا نوی مدظلہم اورحضرت علامہ ظہورالحق شریک ہوئے ۔
دیہاتی علماء کا کردار:
مگران علماء کو صدآفریں ہے جو شہروں کو چھوڑکردیہاتوں کو آئے دیہاتی جملہ مشکلات کو برداشت کرکے دیہاتی لوگوں کی ہدایت کا سامان بنے اپنے آپ کو سہولیات سے محروم رکھا،اگران علماء کی یہ قربانیاں نہ ہوتیں تو دیہاتی لوگ اگرکافرنہ ہوتے کم ازکم دین کی مبادی سے ضرور محروم ہوتے مگران لوگوں نے روکھی سوکھی پر گزاراکرکے دیہاتیوں کے ایمان کو بچایااس علاقہ میں بھی ایساہی ہواہے،کہ علاقہ بھر کاکوئی گھرایسانہیں جسمیںا س جامعہ کا فیض نہ پہنچاہوبلکہ اس جامعہ نے تو پورے عالم کو اپنی ضیاء پاشیوں سے منورکیاانشاء اللہ تابندہ رہیں گی اس کی خدمات ۔
ابتدائی اساتذہ کرام:
چونکہ حضرت والدمحترم کا لابنگ سسٹم طلبہ اساتذہ سے مضبوط تھا حتی کہ جب جہانیاں چھوڑکرآئے اکثراساتذہ آپ کے ساتھ اشرف العلوم شجاع آبادآگئے اسی طرح کا خیال ان کا تھاکہ اشرف العلوم شجاع آباد سے بھی میرے ساتھ لوگ مان کوٹ آجائیں گے مگردیہات کی وجہ سے ان کے بعض رفقاء نے ساتھ نہ دیا صرف حضرت قاری سرداراحمدصاحب مدظلہ آپ کے ساتھ آئے دوسرے جید مدرس تھے حضرت مولاناعبدالمتین صاحب ہزاروی جامعہ رحمانیہ جہانیاں میں بھی آپ کے ساتھ رہے اشرف العلوم شجاع آباد بھی ساتھ آئے مان کوٹ میں آنے کا بھی اکٹھاعزم تھا اشتہاربھی چھپ گیاتھا مگرعین موقع پر نہ آئے۔
ذمہ داریاں:
ایک ایک استاذبیک وقت متعددآدمیوں کاکام کرتاتھا خودحضرت والدمحترم مہتمم مدرس ناظم محاسب ناظم تعمیرات کی ذمہ داریاں سالہاسال تک سرانجام دیتے رہے باورچی نے کوئی چیز پکانی ہوتی تو وہ آکرحضر ت والدمحترم سے ہی پوچھتاتھا۔
احتیاط کا غلبہ :
احتیاط کا غلبہ اتناتھا کہ بعض اوقات محسوس ہوتاکہ ضرورت کی جگہ پر بھی خر چ نہیں ہورہایا احساس ہوتاتھا کہ فلاں ضابطہ تکلیف مالایطاق کے درجہ میں ہے مگروہ اپنی طرف سے پوری دیانت اوراخلاص کے ساتھ چل رہے ہوتے تھے ایسے جیسے صحیح بخاری ص ٨٨٣ج٢میں روایت ہے ان تین آدمیوں سے متعلق جو غارمیں پھنس گئے تھے ہرایک نے اپنی اپنی دیانت اور اخلاص کے ساتھ کیے ہوئے ایک عمل کو واسطہ دے کراللہ تعالی سے کشادگی کی درخواست کی ان میں سے پہلے ایک آدمی نے عرض کیا کہ یااللہ میں ایک رات دودھ لایااورمیراضابطہ یہ تھا کہ پہلے والدین کو پلاؤں گا پھر اپنی اولادکومگرمیری تاخیرکی وجہ سے میرے والدین سو گئے تھے میں ساری رات والدین کی بیداری کا انتظارکرتارہااٹھانے میں بھی بے ادبی محسوس کی ،کہ جب اٹھیں گے تو پہلے ان کو پلاؤںگاپھر اپنے بچوں کو اوربچے میرے قدموں میں چیختے رہے مگرمیں نے ان بچوں کو دودھ نہ دیا جب تک کہ والدین نے نہ پی لیا،یااللہ اگریہ کام میں نے آپ کی رضاکیلئے کیاہے تو راستہ کشادہ کردے،چنانچہ اللہ تعالی نے ان کے اس عمل کو قبولیت سے نوازااورراستے کی کچھ کشادگی بخشی (اسی طرح دوسرے اورتیسرے نے اپنا عمل پیش کرکے دعاکی کہ راستہ مکمل کھل گیا)اب بظاہریہ عمل خلاف شریعت معلو م ہوتاکہ بچے چیخ رہے ہیں اوروہ ان کو دودھ نہیں دے رہاتھا بلکہ والدین کی انتظارمیں رہا،مگراللہ جل شانہ کے ہاں اس کے نیک نیتی کے جذبات مقبول ہوئے ،اسی لیے حضرت شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریا نے لکھا ہے کہ اللہ والوں کی الٹی بھی سیدھی ہوتی ہیںان کے کسی فعل پرنکیرنہ کرنی چاہیے اگرچہ بظاہرسمجھ نہ آتاہو۔
جامعہ کے مال میں احتیاط:
خلاف ضابطہ ومزاج ذرابھی جامعہ کی مملوکات اوراشیاء کے استعمال کو حرام سمجھتے تھے بچپن کا واقعہ ہے غالبا 1990ء کے ابتدائی ایام تھے حضرت والدمحترم جامعہ میں بیٹھے یادپڑتاہے مولی کھارہے تھے ہم سامنے کھیل رہے تھے جمعہ کا دن تھابندہ کو بلایااورفرمایامحمداحمد گھرسے نمک لاؤ،مطبخ قریب محسوس ہوا،اورکھیل کا بھی انہماک تھا تو بندہ جلدی سے گیا،اورمطبخ سے تھوڑاسانمک لیکرآگیایادپڑتاہے کہ فوراخدمت کا انعام تھپڑرسیدہوا،اورارشادہواکہ تیرے باپ کا نمک ہے جومطبخ سے اٹھالایاہے اگرچہ اس نمک کے حصول میں سو تاویلیں ہوسکتی تھیں،اس کا فائدہ یہ ہواکہ مدرسہ کا بے ضابطہ مال لینے اورکھانے کی شناعت دل میں بیٹھ گئی الحمدللہ
جامعہ کے آموں کا باغ:
جامعہ کے آموں کا باغ ،بلکہ کنوں اورآموں دونوں کا باغ تھا،ہمیں زندگی میں یادنہیں کہ کبھی آموں اورکنوں کے موسم میں ایک آم چکھنے کیلئے ہی کبھی استعمال کیا ہو یاگھرمیں اپنے بچوں کیلئے بھیجاہویہ اسکے باوجود تھا کہ ہم سب بھائی جامعہ میں زیرتعلیم بھی تھے،چونکہ یہ آموں کا علاقہ ہے تو طلبہ کیلئے عشرکی مدمیں بھی پھل آم وغیرہ آیاکرتے تھے بعض اوقات طلبہ میں خودبانٹتے ہمیں بارباریہ کہہ کر کہ یہ مدرسہ کا مال ہے ہم پر حرام ہے ایسی شناعت دل میں بٹھادی تھی ،اللہ کے فضل وکرم سے کبھی بھی کسی اچھی چیزکی آمدپر جامعہ کے مطبخ میں یا ویسے مطلق دھیان بھی نہ جاتاتھا،اورنہ ہی کبھی تانکا،الحمدللہ

درسگاہ کا پنکھا:
درسگاہ کا پنکھا عموماگرمیوں کے موسم دوپہر تک نہ چلاتے،کھلی فضا تو تھی ہی مگرہروقت کوئی ہوابھینہیں ہوتی تھی،کھڑکی کھول دیتے فرماتے ہواآئے گی،خودبھی پسینہ پسینہ ہوتے مگردوپہرتک گزاراکرتے،فرماتے بجلی بہت مہنگی ہے،جہدومشقت کی برداشت کی مثال اب ایسی نہیں ملتی اوردوسروں کو بھی اس مزاج پر آمادہ کرتے رہتے تھے۔
ضیافت ضیوف :
حضرت والدمحترم کی ساری زندگی میں مہمان نوازی کامزاج خوب تھا بلکہ اہتمام سے قبل تو جس طرح گھرمیں دیسی گھی استعمال فرماتے اورہمیشہ چھوٹاگوشت، مہمانوں کو بھی یہی استعمال کراتے ،البتہ جب سے جامعہ اشرفیہ مان کوٹ کی بنیادڈالی تو گھرمیں ڈالڈاگھی آیاالبتہ مہمان نوازی بدستوررہی، بلکہ اضافہ ہوگیا مگرمکمل خرچ خودبرداشت کرتے بندہ کا خیال یہ ہے کہ اپنی عمومی آمدنی ساری کی ساری مہمانوں پر خرچ کرتے اولاد اورگھروالوں کوبھلے مشقت برداشت کراتے کہنے والے تو کہہ دیاکرتے تھے کہ جی ایسی بات ہے مدرسہ سے خرچ کرتے ہوں گے مہمانوں کیلئے،ہمارے کان بھی سن لیتے تھے ۔
میزبانی کی وجہ سے مجاہدہ:
مگرمہمانوں کی میزبانی کی وجہ سے جو بظاہرقلت وتکلیف ہمیں برداشت کرنی پڑتی تھی وہ ہمیں پتہ ہے،سوائے دس محرم الحرام کے یاعیدین کے دنوں کے ہمیں یادنہیں کہ کوئی مزے کا قورمہ بریانی کی ڈشیں ہمارے گھرمیں پکی ہوں،یاہم نے کبھی تفریح طبع کے طورپرفرمائش کی ہو اورمنشاکے کھانے کھائے ہوں فرمائشوں کی عیاشی کی زندگی کا اس گھرمیں تصورنہیں تھا بلکہ جو حضرت والدمحترم کے مزاج میں ہوتااسپرساراگھرچلتاحضرت والدمحترم نے سچ تویہ ہے کہ اہتمام کے بعداپنی اوراہل وعیال کی زندگی پرُ مشقت کردی تھی،اوراس میں کوئی شک نہیں آپ اللہ جل شانہ کے سرکاری لوگوں میں داخل ہوچکے تھے خوب ہدایاتحائف آتے تھے مگرسب مہمانوں پر خرچ کردیتے تھے ساری زندگی نہ تو جمع کیا نہ پلاٹ خریدانہ مکان بنایاگاؤںمیں مکان بھی دادانے بنادیاتھا۔
طلبہ کے کھانے کی چیکنگ میں احتیاط:
بعض مرتبہ مطبخ کے پکے ہوئے سالن کو چیک کرنے کا طریقہ یہ ہوتاکہ جو طالب علم کھانالیکر جارہاہوتا،اسکو بلاتے، فرماتے کہ ذراچیک کراؤ،پہلے سونگھتے اگرسونگھنے سے اسکی نوعیت کا پتہ چل جاتاتو فبھا،وگرنہ فرماتے کہ آپ کی اجازت ہو تو ذراسا چکھ لوں ؟پھر ایک آدھ لقمہ لے لیتے۔
()تد ریسیات()
تدریس کی نیت:
کسی انسان کی کامیابی یاناکامی کا رازاصل میں اسکی نیت ہوتی ہے بدنیتی کیساتھ اگرکہیں کسی کام میںشہرت مل بھی جائے تو وہ استدراج(ڈھیل) ہوتاہے قبولیت سے اسکوتعبیرنہیں کیاجاسکتا۔
تاہم جو کمال نیت کی عمدگی کیساتھ نصیب ہوتوزہے قسمت ،پھر ایسوں کا مقابل نہیں ہوتا۔
حضرتساری زندگی حسن نیت کی جہاں دوسروں کو تلقین کرتے تھے وہیں ہرلمحہ اس کا خوداہتمام کرتے تھے کہ ہرکام سے قبل اسکی ایک نیت ہوتی بعض اوقات اس نیت کا اظہارکرتیکہ میں اس نیت سے یہ کام کررہاہوں ہمیںبھی تعلیم دیتے مثلابعض اوقات بندہ کورشتہ داروں کی کسی شادی پر بھیجتے توکچھ نہ کچھ مناسب رقم دیتے فرماتے صلہ رحمی کی نیت سے دے دینا متعددطلبہ کے اخراجات کی ذمہ داری لیتے فرماتے خرچہ اسلئے کرتاہوں کہ یہ طلبہ میرے لئے صدقہ جاریہ ہونگے ہم جب پڑھتے تھے تو جتنے پیسے دیتے فرماتے یہ پیسے میرے ضائع نہیں ہورہے کیونکہ آپ دین پڑھ رہے ہیں تومجھے انکا بھی اجرملے گا،چنانچہ آپ کے معاملات اورمباحات میں کوئی عمل بظاہربغیرنیت کے نظرنہیںآتاتھاتوتدریس جیساعظیم عمل جسکو انہوں نے اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنایاہواتھا وہ کیسے عظیم نیت کے بغیرہوسکتاتھا،بندہ کے ناقص خیال میں حضرت والدمحترم اس تدریس کو نہ تو محض ذوق طبعی سے سرانجام دیتے رزق اورروٹی کے حصول کیلئے کہ اپنااوربچوں کا پیٹ پل جائے اس رزق کیلئے اللہ جل جلالہ نے ان کومستغنی کردیاتھا،خوب ہدایاکی آمدنی ہوتی تھی انہوں نے اپنی زندگی گزارنے کاجو معیارمقررکیاتھا اسکے تحت مطلق جامعہ کی تنخواہ پرانکی گزران موقوف نہ تھی،اورنہ ہی کسی مدرسہ کی ملازمت کے طورپراس فریضہ کو سرانجام دیتے کیونکہ جو ملازم ہوتے ہیں وہ بے دریغ اپنی صلاحیتیں طلبہ پرقربا ن نہیں کیاکرتے،بلکہ وہ تو وقت پوراکرتے ہیں گھنٹہ ختم ہونے کی انتظاریں کیاکرتے ہیں،بارباراپنا وقت دیکھاکرتے ہیں اگرکہیں اضافی کام یا ڈیوٹی ادارہ کی طرف سے لگ جائے تواضافی الاؤنس کے بھی طالب ہوتے ہیں،حضرت والدمحترم مدرسہ کے وقت کو پوراکرنیکاہی اہتمام نہیں کرتے تھے بلکہ انکے ہاں معیارکام پوراکرنے کا تھا کہ کام پوراہواہے کہ نہیں؟یہی وجہ ہے کہ جب تک دوسروں کے زیراثرتدریس کرتے رہے توان اداروں کے مہتمم حضرات کسی ناظم تعلیمات یامطالعہ وتکرارکے مستقل اہتمام سے یانمازوں کی نگرانی سے مستغنی ہوجاتے تھے،کیونکہ تمام کام حضرت نے ازخوداپنے ذمہ لیے ہوئے تھے،لوگ سمجھتے ہیں کہ قبولیتیں محض کثرت مطالعہ اورزورزبان سے حاصل ہوجاتیں ہیں،حضرت والدمحترم کی اس تدریس کی عبادت کیلئے نہ صرف اپنی اللہ جل جلالہ کی رضاء کیلئے عظیم سے عظیم ترنیتیں ہوتی تھیں بلکہ اپنے تلامذہ کو بھی ان نیتوں کے حصول کیلئے نہ صرف تلقین کرتے بلکہ قسمیں تک اٹھوادیتے تھے چنانچہ جب درجہ اولی کاعربی سال شروع ہوتاتو پہلے دن کاپہلا سبق حلف نامہ کے عنوان کا ہوتاتھا جسکی عموماپانچ شقیں ہوتی تھیں جو کہ من وعن یہ ہیں۔
اندازتدریس:
انتہائی شگفتہ دلکش اورسادہ محققانہ ہوتاتھا مگرپرمغزہوتاعبارت باری باری چلاکرتی تھی باری والے سے عبارت پڑھواتے اوراسمیں بہت گرفت ہوتی تھی تقطیع کے ساتھ مسئلہ کی تشریح کرتے اکثروبیشتر آپ کے اسباق فنون کے ہوتے تھے،توان میں آنیوالے مسئلہ کوسلجھانے کیلئے متعددتمہیدات بتادیتے تھے بلکہ آنیوالی عبارت کی جو تشریح ہوتی وہ نکات کی صورت میں پہلے اجمالا ذہن میں آجاتی تھی پھر مسئلہ کی بھی مستقل تقریرفرمادیتے جس سے مسئلہ اوقع فی الذھن ہوجاتا۔
سبق پڑھاتے ہوئے یوں طلبہ کے ذہنوں پر سوارہوجاتے کہ طالب علم غفلت نہیں کرسکتاتھابلکہ یوں سمجھتاتھا کہ میں بہت قریب سے خصوصی طورپراستادصاحب سے پڑھ رہاہوں۔
فرماتے تھے کہ میں نے جس استاذسے بھی جوکتاب پڑھی اسکا ابتدائی حصہ اپنے پاس محفوظ کیاہے چنانچہ جو کتاب بھی پڑھاتاہوں شروع میں اپنے استادوں کاطرز ہی پیش نظررکھتاہوں،اس سے کامیابی ہوتی ہے۔
دوران درس بشاشت :
یہ بھی کوئی کرامت سے کم بات نہ تھی کہ تین تین گھنٹے جاری رہنے والے فنی خشک سبق میں بھی طلبہ بورہوکراکتاتے نہیں تھے،بیٹھے بیٹھے کوئی نہ کوئی لطیفہ یاکسی نہ کسی طالب علم سے برجستہ خوش طبعی کرلیتے تھے،اوریہ بات انکے مزاج میں درج تھی کہ ہرجماعت میں کوئی نہ کوئی طالب علم ایساہوتاتھا،جس سے بے تکلفی رکھتے تھے اسکی اوٹ میں دیگرطلبہ بھی محظوظ ہوتے تھے۔
درس کے دورانیہ کی برکت:
علاوہ حدیث وفقہ کے سبق کے کوئی سبق جو جتنا مشکل وادق کیوں نہ ہوتاصرف دس سے پندرہ منٹ میں سبق پڑھادیتے تھے بلکہ معمول یہ ہوتاتھا کہ گھنٹہ شروع ہوتے ہی سبق سننا شروع فرماتے سب سے سنکر پھرپڑھاتے پھرپانچ سات منٹ مل جاتے کہ وہیں تکرارکراکے بھیجتے یہ برکت زبان زدعام تھی۔
درس کے وقت کی پابندی:
متعددبارمشاہدہ ہواکہ اگرصبح سات بجے گھنٹہ شروع ہوتاتو یہ پہلے درسگاہ میں موجودہوتے بلکہ کئی مرتبہ ایساہواکہ ناشتہ کا ایک لقمہ توڑاکہ ادھر گھنٹہ بج گیا تووہ لقمہ منہ میںنہ جاسکتاتھاوہ لقمہ رکھ کرفورادرسگاہ میں پہنچ جاتے بعض اوقات جامعہ کے اساتذہ کوکہتے (جو کہ انکے تلامذہ میں سے ہی ہوتے تھے) کہ پولیس والا حرام کھاتاہے توجواستاذدرسگاہ کاوقت پورانہیں دیتا،وہ بھی حرام کھاتاہے،مہتمم ہونے کے باوجوداپنے آپ کو مدرس ہی سمجھتے تھے مدرسین والاسلوک ہی اپنے ساتھ رکھتے تھے۔
تدریس کا وظیفہ:
ایک مرتبہ بندہ سے فرمانے لگے کہ میں تدریس کی تنخواہ نہیں لیتابندہ نے یہی سمجھا کہ جو درج ہوتی ہے وہ غالبا اہتمام کی ہوتی ہوگی،اوراہتمام بھی آپ کا دوسروں پرکم اپنے اوپرزیادہ ہوتاتھا،کیونکہ تین چاربندوں کاتوخودکام کرتے تھے توکاموں کی دوسروں سے زیادہ اپنے سے وصولی لیتے تھے۔
سبق سننے کا ضابطہ:
سبق سنتے وقت عمومالال پیلے ہوتے ،انتہائی سختی سے سنتے فرمایاکرتے تھے پڑھاؤبھائیوں کی طرح سنو قصائیوں کی طرح،چنانچہ طلبہ درسگاہ میں جانے سے پہلے سخت پریشان ہوتے باربارسبق دوہراتے پھرحاضرہوتے جس دن خوب کسنے کا ارادہ ہوتاپہلے کمزورں سے سنتے۔
درس کی جان:
دراصل آپ کا اخلاص تھا وگرنہ یہ کوئی معمول نہ تھا کہ ہر سال کوئی نئی تحقیقات تدقیقات ہوتی ہوںالاماشاء اللہ بلکہ نپے تلے ایک ہی جامع تقریرکے الفاظ ہوتے تھے جوہرسال پڑھائے جاتے تھے۔
کامیابی کا راز:
محنت واخلاص تھا حضرت والدمحترم کے معاصرین میں یہ بات زبان زدعام تھی کہ انکے پاس کوئی گیدڑسنگھی ہے انکے پاس کوئی تسخیرطلبہ کاوظیفہ ہے کہ طلبہ ان پر فداہوتے ہیں،بلکہ یہ جملہ تو بندہ راقم کو بھی متعددمعاصرین واکابرین نے کہاکہ آپ کے والدجاتے جاتے آپ کے کان میں اس وظیفہ کی پھونک مارگئے ہیں کہ جسکی بنا پر طلبہ آپ کو بھی نہیں چھوڑتے،بعض بے تکلف معاصرین نے یہ کوشش کی کہ بتاؤکیاوظیفہ ہے؟بندہ راقم عرض کرتارہتاہے کہ بھائی! حضرت والدمحترمکی زندگی میں جوبندہ نے غورکیا تو انکا وظیفہ محنت واخلاص محسوس کیاہے انکے پاس تو واقعتا یہ وظیفہ موجودتھاہم اس کو حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں،اللہ نصیب کریں آمین۔
تدریسی گُر:
حضرت والدمحترم کے ایک ساتھی ،حضرت مولانامحمودالحسن صاحب مظفرگڑھ کے علاقہ کے تھے ایک عرصہ تک کبیروالامیں رہے حضرت صوفی سرورصاحب مدظلہم کے خلیفہ تھے اوراخیرعمرانہوں نے دارالافتاوالارشادناظم آبادکراچی میں گزاری انہوں نے بندہ کوایک مرتبہ فرمایاکہ آپ کے والدصاحب کے پاس حضرت مولانامنظورالحق کے خصوصی تدریسی گُرہیں،جوانہوں نے صرف آپ کے والد کوبتائے ہیں،اورکسی کو نہیں اسی لیے یہ ہر جگہ کامیاب ہوجاتے ہیں۔
اصل تویہ ہے کہ جس استاذکے ساتھ سچی عقیدت ہو خودبخوداس استاذیاشیخ کی عادات منتقل ہوجاتی ہیں حضرت والدمحترم کو اپنے تمام اساتذہ کے ساتھ بالعموم حضرت مولانامنظورالحق اورمولانافیض علی شاہ کے ساتھ خصوصی عقیدت تھی اسی لیے بجاطورپرآپ انکی ہر قسم کی خصوصیات وعادات کے حامل تھے۔
مگرایک بات تو بند ہ نے خودحضرت والدمحترم سے سنی تھی استاذمولانامنظورالحق فرمایاکرتے تھے کہ درسگاہ میں جب سبق پڑھاناشروع کروتوطلبہ کے سامنے جس کتاب کا سبق پڑھانا ہو تو اس کتاب کو چھ سات کتابوں کے نیچے سے نکال کرپڑھاؤکہ اگرچہ پہلے سے اس کتاب کا مطالعہ کیابھی ہوتومطالعہ کرکے کتاب چھ سات کتابوں کے نیچے رکھ دو،تاکہ طالب علم پر رعب پڑے کہ استاذصاحب تو بلامطالعہ اتنا اچھا سبق پڑھالیتے ہیں بغیرمطالعہ کے یہ حال ہے تومطالعہ کے ساتھ کیاحشرہوگا۔اورایک گریہ بھی حضرت والدمحترم کی زندگی کو دیکھ کر حاصل کیاکہ کبھی کتاب درسگاہ میںاپنی لیکرنہ گئے بلکہ درسگاہ میں ہی جس کتاب کا سبق ہوتاکسی طالب علم سے وصول کرکے سبق پڑھادیتے تھے،نیزیہ بھی کہ جو سبق ہوتاحافظہ میں محفوظ کرکے جاتے کوئی پرچی یاحاشیہ لگاکرنہ پڑھاتے تھے،البتہ جب بڑھاپاہوگیاتومشکوة کی کاپی آگے رکھ کرمباحث لکھوادیتے تھے،مگراس وقت تدریس کی دھاک بیٹھ چکی تھی،طلبہ مرعوب بھی رہتے تھے۔
اورجوچیزبندہ نے حضرت والدمحترم کے گُرکے طورپر محسوس کی وہ یہ تھی طلبہ کے سامنے کبھی بھی مطالعہ نہیں کرتے تھے الاماشاء اللہ، اوربلاکی خوداعتمادی تھی جب بندہ نے تدریس شروع کی تو بندہ کو اپنے استاذحضرت مولانافیض علی شاہ کاگربتایافرمانے لگے،کہ وہ فرمایاکرتے تھے کہ نیامدرس مطالعہ توخوب کرکے جائے مگرکہیں غلطی بھی ہوجائے سبق میں، توطلبہ کے سامنے غلطی پربھی ڈٹ جائے،کہہ د ے یہی بات ٹھیک ہے تاکہ شروع میں خوداعتمادی پیداہومگریہ گرفقط نئے مدرس کیلئے ہے لیکن سچ یہ ہے کہ کسی کی اس میدان میں کامیابی کااصل رازاگرکوئی چیزہوسکتی ہے تو وہ اخلاص اوراللہ کی رضاہے اورساتھ محنت۔
مقوِّیات کاذوق:
یہ حضرت والدمحترم کا اصول تھا کہ کھاؤنوابوں والاپہنوںدرویشوں والا،طلبہ کو بھی اسکی تلقین کرتے تھے،اپنی ذاتی استعمال کی چیزیں انتہائی مقوی ہوتی تھیں زندگی کا اکثرحصہ انہوں نے بادام روغن سر پر استعمال کیا،ایک موقع پر فرمایاکہ بادام روغن پر میں نے اتنے پیسے خرچ کیے ہیں،اگرانکو جمع کرتاتوکئی پلاٹ خریدسکتاتھا،عمدہ قسم کی معجونیں خمیرے ،اطریفل ہروقت موجودرہتے تھے،متعدداطباء اورحکیم حضرات آپ کے دوست تھے جن سے ادویات بنواکراستعمال کرتے تھے آخرمیں توویسے بھی کئی بہی خواہ ادویات بناکربھیج دیتے تھے،حضرتوالدمحترم استعمال کرتے تھے حضرت استاذمولاناعبدالمجیدلدھیانوی دامت برکاتہم العالیہ بہت منع کیاکرتے تھے کہ ہر قسم کی ادویات مت استعمال کیاکریںاورفرماتے کہ مولانااشرف نے اپنے پیٹ کودواخانہ بنا رکھا ہے،سچ بھی یہ تھاحضرت والدمحترم کے دفترکی الماری اورڈیسک کے درازادویات سے بھرے ہوئے ہوتے بعض اوقات کوئی دوائی نکالتے فرماتے کہ بھائی فلاں ساتھی بڑے اخلاص سے بنواکے لایاہے چلواستعمال کرلیتے ہیںیہ پتہ نہیں ہوتا تھا کہ یہ کس مرض کی دوا ہے بعض اوقات موجودطلبہ گزارش کرتے ہمیں بھی دوائی کھانی ہے تو انکو بھی استعمال کروادیتے بادام اخروٹ منقہ اوردودھ تقریبامسلسل استعمال کرتے تھے سونے چاندی اصلی کستوری کے کشتے بھی استعمال کرتے،بندہ کاخیال ہے زندگی میں بارباراستعمال کیے ہوں
گے،غالباانہیں مقویات کافائدہ ہواکہ خوب محنت کرتے تھے خوب پڑھاتے کام کرتے تھے شایدانہیں کااثرہوکہ غذاروٹی وغیرہ بہت کم استعمال کرتے صحت وعافیت کے زمانہ میں صبح وشام ایک روٹی استعمال کرتے، سخت بھوک جس دن بتلاتے تو ڈیڑھ چپاتی استعمال کرلیتے تھے۔
مرغوبات:
مچھلی کواپنی محبوبہ کہتے تھے،خوب ذوق سے کھاتے بشرطیکہ دریائی ہوتی، فارمی مچھلی ہو یامرغی، حرام تو نہیں کہتے تھے،مگرترک اتنا تھا کہ سلوک حرام والامحسوس ہوتاتھا،کہیں جاتے برائلرپکاہوتاتوبھوکے آجاتے، برائلرکاشوربہ بھی استعمال نہ کرتے ،مرغوبات میں دودھ ،شہداصلی چھوٹا،مقویات جیساکہ ذکرہوا،دودھ والی چائے جس میں خوب سونف الائچی خوردڈالی ہوتی نوش کرتے اورگرمیوں میں بادام مغزیات کی سردائی خوب شوق سے استعمال کرتے اورسویاں اورشکار کاگوشت استعمال کرتے، عموماطلبہ پرندے شکارکرکے لاتے تھے۔
معمولات دن رات:
عام طورپرتہجدکے وقت اٹھ جاتے تہجدکی ادائیگی کے بعداذکارمیں مشغول رہتے پھراذان ہوتی عموماطلبہ کو خودجگاتے پھرسنت فجراداکرکے ذکرواذکارمیں مشغول رہتے،نمازکے وقت میں نمازکی خودامامت کراتے نمازکے بعدسورہ یسین شریف کاوردہوتاجسمیں تمام طلباء و اساتذہ کرام شریک ہوتے حضرت والدمحترم اپنے معمولات (تلاوت وغیرہ)پورے کرکے مطالعہ کرتے مختصرناشتہ اگرپہلے تیارہوجاتاتو فبھاوگرنہ بروقت درسگاہ میں پہنچ جاتے ہلکی پھلکی چائے اورمقویات وغیرہ سے ناشتہ کرتے مسلسل دوپہرتک اسباق پڑھاتے ایسابکثرت ہوتاکہ صبح سات بجے سے دوپہر کے بعدایک بجے تک مسلسل پڑھاتے درمیان میں ایک مرتبہ بھی نہ اٹھتے الاماشاء اللہ کبھی اگرپیشاب کاتقاضاہوتا،توفراغت کے بعدباوضوہرکردرسگاہ میں تشریف لے جاتے اس دوران اگرکوئی مہمان آجاتاتو درسگاہ میں ہی سائیڈپربٹھا کربات سنتے ،حسب مرتبہ اکرام کرتے ،اسباق سے فراغت کے بعدکھانااورپھر مختصرقیلولہ مسنونہ کااہتمام فرماتے عین اذان ظہر سے قبل بیدارہوکراذان کا اہتمام کراتے سنتوں کے اہتمام کے بعدظہرکی نمازکی امامت خودکراتے ۔
رمضان المبارک کے معمولات:
چونکہ سالانہ چالیس روزہ دورہ صرف ونحوکااہتمام ہوتاتھا جسمیں متعدددینی مدارس کے طلبہ
اوراساتذہ بھی مستفیدہوتے تھے اسمیں فن صرف ونحوکی مبتدی اورمنتھی کتب پڑھاتے بے حدمحنت کراتے عام طورپریہ دورہ صرف ونحودس شعبان سے بیس رمضان تک ہوتاتھا(جو کہ بحمداللہ اب تک جاری ہے)،رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی عبادات کے معمولات میں اضافہ ہوجاتاتھا،تراویح میں قرآن کریم سنانے کا ہمیشہ معمول رہادن بھر اسباق ہوتے ہم نے رمضان المبارک میںنیندسے اٹھ کر سوئے ہوئے حضرت والدمحترم کوکبھی نہیں دیکھا،بلکہ ہمارے اٹھنے سے پہلے تہجدپڑھ کر سحری مختصرتناول کرکے ذکرمیں مشغول ہوجاتے تانماز،امامت کراتے بعدازنمازسورہ یسین شریف کا وردہوتادیگرمعمولات سے فراغت پرقرآن کریم کی ترکیب اوراسکا اجراء ہوتااسکے بعداشراق وغیرہ کے بعدایک ڈیڑھ گھنٹہ آرام کرتے پھر فن صرف پر طویل درس ہوتااوریہ درس دوتین گھنٹے پر مشتمل ہوتااس دوران کوئی ملاقاتی آتے تو سبق کے بعدملاقات کرکے مختصرقیلولہ مسنونہ ،ظہرکی ادائیگی کے بعدفن نحوکاسبق ہوتادورہ میںبھی صرف ونحوکے کثیرتعدادطلبہ سے سبق سنکرہی پڑھاتے تھے،یہ سلسلہ عصرتک جاری رہتابعدازعصرمنزل سناتے افطاری کادسترخوان لگتاجوکہ وسیع ہوتاتھا متعددساتھیوں کواپنے ساتھ شریک کرتے مغرب کے بعدنوافل وغیرہ سے فراغت پرکھاناتناول کرتے خبریں سنتے نمازعشاء اداکرتے اورتراویح میں قرآن سناتے تراویح کے بعدمعمولات پورے کرتے پھردورہ صرف ونحووالوں کااجراء شروع ہوتا،عموماڈھائی تین گھنٹوں پر مشتمل ہوتابمشکل رمضان البارک میں تین چارگھنٹے آرام کرتے ہونگے۔
()شمائل وخصائل()
لباس وعادات:
زندگی کا عام معمول سفید کرتا سٹیپل کی رنگ دار لنگی زیب تن فرماتے اور عموما مفتی رومال اگر آسانی سے میسرہوتاوگرنہ عربی لال رومال یا سفید، سرمبارک پر سجاتے تھے کپڑے عموما جب تک میلے نہ ہو جاتے نہ اتارتے بلکہ والدہ محترمہ قدس اللہ سرھاتاکید کر کے بدلواتیںکہ دھونا مشکل ہو جاتاہے۔

ہم نے زندگی میں کبھی نہ سنا کہ فرمائش کی کہ کپڑے استری کر کے دو جیسے کیسے میسر آگئے پہن لیے بلکہ بعض اوقات یہ دیکھا گیا استری کر کے دیتے توکپڑوں کوموڑ توڑ کر پہن لیتے گویا استر ی ہونے پرایک قسم کی ناگواری ہوتی تھی اکثر و بیشتر فرماتے کہ یہ میری ٹوپی رومال کرتہ چادرسب ایسے ہیں کہ میں نے ان پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا ۔
حضر ت حکیم الامت رحمة اللہ علیہ نے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے سرکاری لوگوں میں شمار کیا ہے جن کے رزق کا خود اللہ تعالی ٰ انتظام فرماتے ہیں ۔

حیاکااہتمام:
حیاکابہت اہتمام تھا،کبھی بھی ایسانہیں ہواکہ آپ کے جسم کو جوعورت(ستر) کے علاوہ حصہ ہوتاہے پشت پیٹ کسی غیرمحرم نے دیکھا، ہوحتی کہ گھرمیں کبھی اپنی بیٹی کے سامنے بھی کرتہ اتارکرنہ بیٹھے، البتہ بیٹوں کے سامنے اتارلیتے تھے ،طلبہ کے سامنے یاکسی اورکے سامنے کرتہ اتارنے کا تصورنہ تھا اورنہ ہی کبھی تہبندباندھ کر کھلی جگہ پر نہاتے، جبکہ دیہاتمیں رہنے والے کم ہی ایساکرنے سے بچتے ہیں اسی طرح جب تک میچورنہ ہوگئے اس وقت تک کسی باریش طالب علم کوبھی دبانے کی اجازت نہ دیتے تھے،تدریس کے تقریبادس سال بعدایک بڑی عمرکا نابیناآپ کا شاگردتھا جو زبردستی آپ کو دباتاتھا جس سے آپ کی دبوانے کی عادت ہوگئی تھی۔
عادات و اطوار :
عموما سادہ اوربے حد سادہ بود وباش والے تھے بیٹھنے کا انداز ہو یا کھانے کا اندازیا بولنے کا انتہائی بے تکلف اقرب الی السنةالنبویہ ہوتا جو جس وقت جو ضرورت لیکر آرھا ہے اس کی سن رہے ہیں جوپوری کر سکتے ہیں تو پوری کر رہے ہیں۔
ھدیہ میں شرکت:
ایسا کبھی نہ ہوا کہ کسی مجلس میں ہدیہ آیا ہو یا گھر سے کھانے کی چیز آئی ہواسمیں تمام مجلس والے شریک نہ کر لیے گئے ہوںبھلے سیب کی ایک ایک قاش آتی یا دو دو چنے سب میں تقسیم ہوتے حتی کہ اگر چائے تھوڑی ہوتی تو فرما تے ایک ایک گھونٹ سب پی لیں عمومی مجالس میں دل شکنی کا تصور نہ تھا ۔
دوسروں کی تکلیف کا احساس:
ایک مرتبہ حضرت والد محترم کھانا کھا رہے تھے تو ایک فون آگیا بندہ نے کال ریسیو کی اور صاحبِ فون کو عرض کر دیا کہ حضرت کھا نا کھا رہے ہیں تھوڑی دیر بعد فون کر لیجیے فورا بندہ کو ڈانٹا اور فرمایا ادھر دو فون، جب فون سن لیا تو فرمایا مجھے کیاہو گیا ہے اگر کھانا کھا تے ہوئے فو ن سن لیا ہے تو،ہر ایک کو یوںنہیں کہ دینا چاہیے ،نہ جانے اگلا کس حال میں ہے اور کیسے فون کر رہا ہے انتظار کر بھی سکتا ہے یا نہیں ۔ بس ا نکے مزاج میں یہ بات رچی ہو ئی تھی کہ میں اپنے لیے نہیں پیدا کیا گیا کہ مجھے راحت و فرحت پہنچے بلکہ میں اس لیے دنیا میں آیا ہوں کہ دوسروں کے لیے پگھلوں کیسے دوسروں کو مجھ سے نفع پہنچ جائے بھلے مجھے کتنی ہی تکلیف کیوں نہ ہو ۔ حضرت کی زندگی پر غور کیا جائے تو اس ذوق سے آپکی حیات مبارکہ کے تمام لمحات لبریزہیں۔
سادگی کی انتہاء:
یہ تھی گھریلو معاملات یا اولاد کی کوئی بات کسی پر مخفی نہ رہتی ہر ایک کو اپنی طرح صاف دل سمجھ کریہ کہتے ہوئے کہ میرے عزیز آپس میں بیٹھے ہیںسارا حال سنا دیتے ،کسی کو کوئی سمجھانے کی بات کہنی ہوتی یا راز کی بات ہوتی ارشاد فرما دیتے، انکے ہاں یہ کوئی بڑی بات نہ ہوتی تھی،البتہ بعض اوقات اس رویہ سے دوسروں کی گت بن جاتی بلکہ بعض اوقات عیب کشائی بھی ہوجاتی۔
سفارشی مزاج:
کوئی کسی نسبت سے سفارش کی درخواست کرتا توفوراسفارش کردیتے یہ عذرنہ ہوتاکہ فلاں مانے گا یانہیں اگر چل کرجانے کا کوئی کہتاتوفوراجانے کیلئے تیارہوجاتے ۔
سائل کو مایوس نہ کرتے:
یہ عادت مستمرہ تھی کہ کوئی کسی قسم کی مالی یا اورحاجت لیکرآتا توفوراجتناہوسکتاپوری کردیتے،بلکہ متعددبیوائیں ایسی ہوتی تھیں جن کو ماہانہ کچھ نہ کچھ دیا کرتے تھے،اسی طرح متعددغریب طلبہ آپ کے خرچہ پہ پڑھ گئے۔مگر یہ ساری نیکیاں پوشیدہ کرنیکی کوشش کرتے تھے۔
قرضوں سے معاونت:
بیشترلوگوں نے آپ سے قرض مانگے ،آپ نے دے دیے، ایک مرتبہ 1984ء کی بات ہے آپ نے چوبیس ہزارروپے سفرحرمین کیلئے جمع کررکھے تھے،کہ آپ کے ایک عزیزکوپتہ چلگیاکہ انکے پاس پیسے ہیں،قرضہ مانگنے آگئے آپ نے اٹھا کر دے دیے وفات 2008ء تک غالبا آٹھ مرتبہ بھی ان سے نہ مانگے ہونگے اب تک انہوں نے ادانہیں کیے۔
جذبہ استغنائ:
استغناء میں توبس ایک پہاڑتھے بقول شخصے جس آدمی میں استعدادواستغناء ہوتووہ وقت کا بادشاہ ہے اس کا پورانمونہ آپ کی ذات میں دیکھا کسی سے اگرتعلق ہے تومحض اللہ کی رضاکیلئے، یاتوخدمت خلق کے طورپر،یاجذبہ ہدایت کے طورپرہے۔
معاملات کی صفائی:
ہمارے جامعہ اشرفیہ مان کوٹ میں مروج مدارس کی نسبت سے تنخواہیں تھوڑی ہوتی تھیں مگرحضرت والدمحترم کا معمول تھا کہ اساتذہ کرام کے وظائف مہینہ کے اختتام پرانکو مل جاتے ،زیادہ سے زیادہ تین تک تاریخ بڑھتی فرماتے میاں! ہے اگرچہ قوت لایموت مگربروقت تومل جاتی ہے،بحمداللہ حضرت والدمحترم کی یہ اخلاص سے جاری کردہ ترتیب اب تک بحال ہے اگرچہ اب تنخواہوں کابے تحاشہ اضافہ ہے اس دورکے مقابلہ میں دل سے دعاہے کہ اللہ تعالی اس ترتیب کو برقراررکھنے کے ساتھ اورزیادہ اساتذہ کرام کی سہولیات کاانتظام کرائیں آمین۔
اولاد سے صفائی معاملات:
ایک مرتبہ مولانامیاں محمداجمل قادری مدظلھم تشریف لائے انہوں نے سب بھائیوں کیلئے غالباپانچ پانچ صدروپے دیے جنکا ہمیں پتہ نہیں تھا تو بندہ سے فرمایاکہ مجھے پیسوں کی ضرورت ہے پیسے میاں صاحب آپ کیلئے دے گئے تھے،آپ کی اجازت ہوتوخرچ کرلوں؟یہ صفائی معاملات کے ساتھ ساتھ دلجوئی کا بھی ثبوت تھا۔
حضرت والدمحترم کوتادم تحریرایں الفاظ چارسال دوماہ ہوگئے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی آدمی نہیں آیاکہ حضرت مولانانے ذاتی یاجامعہ کے کھاتے میں ہماراکچھ دیناہے۔
ہدایاکاتبادلہ:
اللہ تعالی نے انبیاء علیھم السلام کی عمومی گذران ہدایاپر رکھی تھی تو اسی طرح وارثان انبیاء کویہ شرف ہمیشہ حاصل رہاہے حضرت امیرشریعت مولاناعطاء اللہ شاہ بخاریکوچھپاکراگرکوئی ہدیہ دیتاتوفرماتے ذرادکھلاکراونچاکرکے دو،تاکہ لوگوں کو پتہ چلے ہماراگذاراکیسے ہوتاہے؟ہدیہ اونچاکرکے لوگوں کودکھادیتے۔
یہاںہدایاکی آمدورفت تھی، مگرفقط آمدکامزاج نہیں تھابلکہ تَہَادَوْاتَحَابُوْاپرعمل تھا کہ ایک دوسرے کو ہدیہ دواورباہمی محبت کروحتی کہ اپنے تلامذہ اورانکی اولاد تک کو ہدیہ دیتے،کسی پڑھتے ہوئے شاگردکی بھی شادی ہوتی خودشرکت کرتے یامجھے اپنانمائندہ بناکربھیجتے تو یہ شرکت خالی ہاتھ نہ ہوتی۔
یہی وہ رازہیں جو جاذبیت ومقبولیت ومحبوبیت کاغالباسبب ہیں،ایک مرتبہ کسی ایسے طالب علم نے جو ہدایالایاکرتاتھاتواس سے کوئی شرارت صادرہوگئی تو ببانگ دُہل فرمایا،یہ مت دماغ میںرکھوکہ آپ نے مجھے ہدایاتحائف دیے ہوئے ہیں لہذاتمہاری شرارتیں برداشت ہوتی رہیں گی اگراپنے اورمیرے ہدایاکاتقابل کرومیں زیادہ دے چکاہوں،لہذادماغ ٹھیک کرلواس دن موجود سب طلبہ کی آنکھیں کھلیں۔
طرزگفتگوونشست:
بڑوں یعنی اساتذہ اورپیروں یابڑے علماء کے سامنے بہت کم بولتے ہوئے دیکھے گئے بلکہ سراپاادب ہمہ تن گوش ہی دیکھے گئے، البتہ معاصرین ورفقاء تعلیم ہوں یا رشتہ دارمعاصرین ”بھائی جان ”کے القاب کے ساتھ پکارتے ہوئے سنے گئے اورمجالست یوںقائم فرماتے کہ آپ بس ایک رشتہ دارہیں یادوست ہیں اسکے علاوہ اندازگفتگومیں بڑاپن یاتکبر،تصنع یا تکلف کی بو تک بھی نہ آتی تھی،بلکہ اپنے اصلی تعلق کی کیفیت میں اترکرماحول پیداکردیتے تھے چنانچہ اس اداسے اگلااپنا دل دے کر چلاجاتاتھا،یہ احساس تک نہ ہونے دیتے کہ میں کوئی بڑااستادیاعالم ہوں۔
طلبہ کے ساتھ گفتگوکا انداز:
تلامذہ کے ساتھ میرے عزیزسے گفتگوکاآغازفرماتے یوں اپنی قدآورحیثیت طلبہ وتلا مذہ میں فناکرتے کہ بعض اوقات طلبہ اپنی نافہمی سے بے ادبی بھی اس ماحول میں کرلیتے تو ماتھے پر بل نہ آنے دیتے یہی وجہ تھی کہ طلبہ جان تک قربان کرنے کیلئے تیارہوتے تھے،ہونگے ،واقعتاایسے اسلاف واکابر جنہوں نے اپنے تلامذہ کی گرویدگی حاصل کی تھی مگراس دورمیں اسکی بہترین مثال حضرت والدمحترم کی جاذب شخصیت تھی کہ جس کے گردگھومنے والے طلبہ نے اکابرین کے ناسمجھ آنے والے واقعات بھی سچ کردکھائے تھے،جہاں جاتے مٹھائی کی طرح محبوب ہوجاتے۔
بعض طلبہ پاؤں کی انگلیاں چوستے دیکھے گئے،بعض میلی ،پسینہ سے شرابورقمیص کودھوکر(کہ علم میں برکت واضافہ ہوگا،کی نیت سے) پی لیا کرتے، سبحان اللہ!
حسن معاشرت:
رہن سہن سادہ تھا صاف ستھراتھا اساتذہ طلباء جو سال بھر رہتے تھے سال کے اخیرمیں عمومااپنیکوتاہیوں کی ان سے معافی مانگ لیتے الفاظ یہ ہوتے: کہ میں آپ کا خادم تھا مجھ سے جو کمی کوتاہی ہو ئی ہو آپ کی خدمت و تربیت سے متعلق تو مجھے اللہ واسطے معاف کرکے جائیں قیامت کے دن آپ کی وجہ سے مجھے سزانہ ملے۔آ پ کا عمومی میل جو ل طلبہ دین سے ہوتاتھا کبھی بھی ذاتیات کو نہ لائے بلکہ طلبہ اورجامعہ اورسامنے والے کی بھلائی ہمیشہ پیش نظررکھتے۔

غریب نادارطلبہ پر توجہ:
عموما غریب نادارطلبہ کو زیادہ تنبیہ ہوتی تھی فرماتے: کہ دنیا تو تمہارے پاس ہے نہیں دین بھی نہ آیا تو کیسی ذلت کی زندگی گزاروگے ؟کسی مال دارطالب علم کی طرف اشارہ کرکے کہتے کہ فلاں نہ پڑھے تو زندگی تو گزارسکتاہے۔
چشم پوشی:
عادتِ ثانیہ بن چکی تھی حتی کہ طلبہ کی بڑی بڑی غلطیاں بھی معاف کردیتے تھے،فرماتے :کہ یہ کوئی جنیدبغدادی ہمارے پاس تھوڑاآتے ہیں اصلاح کیلئے آتے ہیں آہستہ آہستہ بن جائیں گے،کم ایسے طلبہ تھے جنہوں نے چشم پوشیوں سے ناجائزفائدہ اٹھایا،اکثربن گئے۔
حفظِ مراتب:
عوام، خواص، اخص الخواص کی درجہ بندی خاص طورپر ملحوظ رکھتے تھے اپنے بڑوں کے سامنے فناء الفناء کا منظرہوتے،معاصرین کو بہت قدرومنزلت دیتے طلباء اوراپنے چھوٹے عزیزوں کی بے پناہ درجہ کی حوصلہ افزائی فرماتے،طلبہ میں بھی خوب حفظ مراتب ہوتاتمام طلبہ کیلئے کبھی ایک اصول نہ بناتے بلکہ ہرایک کے مزاج کے مطابق سزابھی تجویز کرتے اور اسکی حیثیت کے مطابق سلوک کرتے یہی وجہ ہے کہ بہت سے اب وہ ان کے تلامذہ جوپڑھ گئے ہیں کہاکرتے ہیں کہ اگرہم استاذمولانامحمداشرف صاحب کے پاس نہ آتے تو ہم نہ پڑھ سکتے،کیونکہ دوسری جگہ نہ ہماری رعایت ہوتی اورنہ ہم ضوابط کی تاب لاسکتے ۔
اتباعِ سنت:
اتباع سنت کا حتی الوسع اہتمام کرتے ،کبھی بھی ہاتھ دھوئے بغیرکھاناکھاتے نہ دیکھے گئے کھاناکھانے کے بعدہمیشہ ہاتھ دھوتے کھاناعموماچباکرکھاتے تھے،اپنی جانب سے کھانے کی مسلسل عادت تھی،قناعت سے کھاناکھاناعادت ثانیہ بن چکی تھی،گھرمیں جس طرح کھاتے کسی دعوت پر یامہمان ہونے کی حالت میں بھی اسی طرح قناعت سے کھاتے۔وضواکثرلوٹابھرواکرکرتے تھے قبلہ رخ ہوتے وضومیں مددنہ لیتے تھے باوجودیکہ بایاں پاؤں معذورتھا مگرنمازکی ادائیگی میںمستحبات کو بھی فراموش نہیں کرتے تھے،چال چلن عموماجھک کر ہوتاتھا۔
بڑوں کاادب:
اپنے اساتذہ کرام کا نام بہت احترام سے لیتے ایک مرتبہ بندہ نے آپ کی موجودگی میں استاذمنظورالحق صاحب کہہ دیا تو بچپن بھی تھافرمایاکہ ادب سے کہواستاذمولانا،اپنے اساتذہ کے بارے میں فنا ء فی الادب تھے،اپنے اساتذہ کے سامنے سراپاسمع وطاعت ہوجاتے اساتذہ کی محض رائے کو حکم سمجھتے اپنے مشائخ اوراساتذہ کے سامنے کبھی رائے تک نہ دی اپنی رائے کو بے ادبی سے تعبیرکرتے اپنے بیٹوں اورتلامذہ سے بھی اسی کے متمنی رہتے تھے اس کے خلاف کو نافرمانی قراردیتے،اپنے بڑوں کے مشورہ اوررائے کوجس طرح اپنے لئے حکم سمجھتے تھے تواپنی رائے اورمشورہ کو چھوٹوں کے لئے بھی حکم کا درجہ دیتے تھے خلاف پر ناراض ہوتے تھے،بعض اوقات ہم کسی طالب علم کو جوعمرمیں بڑے ہوتے نام لیکر پکارتے تو فوراًٹوکتے کہ بھائی کہہ کرپکارو،یہ آپ کے بھائی ہیں۔
حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ادب:
حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا جب بھی نام لیتے حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہہ کرلیتے ،اپنی صحت کے زمانہ میں فضائل اعمال کی تعلیم عصرکے بعدکھڑے ہوکرخودکرواتے تھے مگردیگرعمرمیں بھیعصرکے بعد ہمیشہ فضائلِ اعمال کی تعلیم کا معمول تھا،دوزانوں ہوکرخوب ادب وتوجہ سے ہمہ تن گوش ہوکرسنتے۔
بامیدشفاعت درودشریف:
بکثرت آپ اپنی ادعیہ کے شروع میںیہ درودشریف پڑھتے تھے اللّٰھُمَّ صَلِّی عَلٰی سَیِّدِنَاوَشَفِیْعِنَاوَمَوْلَانَامُحَمَّدٍوَّعَلٰی آلِ سَیِّدِنَاوَشَفِیْعِنَاوَمَوْلَانَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَسَلِّمْ۔یقینابہت اچھی فال ہے۔
اللّٰہ جل شانہ کا ادب:
اللہ جل شانہ کانام مبارک ”اللہ سبحانہ وتعالی” کہہ کرلیتے فکرِآخرت، قبرحساب وکتاب کو ہمیشہ دامن گیررکھتے،بکثرت کہتے ہوئے سنے گئے خداکاخوف نہیں ہے؟ خداکاخوف کرو،خداکاخوف ہوتاتوایسانہ کرتا۔
سفرِحرمین شریفین:
تین مرتبہ سفرحرمین شریفین کی سعادت سے سرفرازہوئے دومرتبہ حج کیلئے ایک مرتبہ عمرہ کیلئے پہلاسفر١٩٨٥ئمیں اپنے خرچہ پر کیا١٩٩٢ئمیں دوسراحج،حج بدل کے طورپرمفت کیاتیسراسفرسفرعمرہ تھا جو آپ نے ١٩٩٩ئمیں مفت کیا۔
عربیوں کا ادب:
ہرحرمین کے راہی کو نصیحت کرتے عربیوں کی کمی کوتاہیوں کو دیکھ کرشکوہ نہ کرنا کیونکہ ان کو جوچیزحاصل ہے یعنی قرب بیت اللہ اورقرب رسول اللہ ۖوہ ہمیں حاصل نہیں ہر جانے والے اورنصیحت پوچھنے والے کو اپنا عمل بتاتے ہوئے فرماتے کہ روضہ رسول کی حاضری پر حضورنبی کریم ۖکو ایمان کا گواہ بناکرآؤمیں بھی گواہ بنا کر آیاتھااوریہ الفاظ تلقین کرتے کہ یوں کہنا اُشْہِدُکَ عَلٰی اِیْمَانِیْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَشْہَدُاَن لَّااِلٰہَ اِلاَّاللّٰہُ وَاْشْہَدُ اَنَّکَ مُحَمَّدرَسُوْلُ اللّٰہِ٭ فرماتے کہ ساتھ سوئے ہوئے سیدناابوبکرسیدناعمرفاروق رضی اللہ عنھماکو بھی ایمان کا گواہ بناناچاہیے،اسی سے آپ کے حیات ِانبیاء علیھم السلام کے عقیدے کا اہتمام بھی معلوم ہوتاہے۔
مکہ مکرمہ مدینہ منورہ کا ادب:
کبھی بھی ایسانہ ہوا کہ مکہ مدینہ منہ سے نکلاہوجب بھی نام لیتے تو ”مکہ معظمہ ”اور”مدینہ طبیہ” کہتے وہاں سے آئی ہوئی کھجورکی گٹھلی کبھی بھی نیچے نہیں پھینکی بلکہ سنبھال کررکھتے پھینکنے کو بے ادبی سے تعبیرکرتے۔
تصوف وسلوک:
حضرت والدمحترم کو اپنے اساتذہ کرام سے بے پناہ عقیدت تھی ان کی اطاعت اور ان کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے اس لئے ابتداء ً بیعت نہ ہوئے کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالی نے اساتذہ کرام بھی ایسے دیے تھے کہ ہر ایک آفتاب مہتاب تھا،مرشدبھی راہنمائی کرتاہے اورمرشدہوتے ہی اس لئے ہیں،کہ ان کی تمام امورمیں اطاعت کی جائے اورزندگی کو شریعت کے تمام امورکا پابندکیاجائے اوریہ کام اپنے اساتذہ کرام کی ہدایت سے پوراکرتے تھے تاہم مستقل طورپرفراغت کے بعد حضرت سیدنیازاحمدشاہ گیلانی نوَّراللہ مرقدہ تلمبہ والے خلیفہ مجازحضرت اقدس مولاناعبدالقادررائے پوری کی صحبت خصوصاً میسررہی ،ان کی عقیدت ومحبت کے خوب تذکرے کرتے تھے ،غالبا١٩٧٣ئ کے الیکشن میں بھی خوب رفاقت اٹھائی چونکہ حضرت شاہ صاحب کا حلقہ ہمارے آبائی گاؤںپربھی مشتمل تھا تو اپنی قوم جوناکے بالمقابل شاہ صاحب کی کمپین کی ،اسی طرح حضرت سیدخورشیداحمدشاہ خلیفہ اجل شیخ الاسلام حضرت مدنی قدس اللہ سرہ کی بھی خاصی عقیدت رکھتے تھے ان کی صحبتیں اٹھائیں اسی طرح قطب الارشادحضر تمولانامحمدعبداللہ بہلوی سے تلمذوعقیدت کا تعلق پھر رشتہ دامادی کا شرف نصیب ہوا،توا نکی توجہات کا بھی ایک عرصہ تک مرکزرہے۔
باضابطہ بیعت:
غالبا١٩٨٢ء میں سیدالعارفین حضرت حافظ غلام حبیب صاحب چکوالی کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے پھر یہ بیعت ارشادعقیدتوں محبتوں کا محوربن گئی ”جو ہرراجوہری شناسد”کے تحت حضرت حافظ صاحب کی توجہ نے طالب صادق کونکتہ کمال تک پہنچادیا،فرمایاکرتے حضرت حافظ صاحب کہ مولانامحمداشرف بھاری عالم ہیں حضرت والدمحترم نے خوب تعلق رکھاسال میں بعض اوقات متعددمرتبہ چکوال شریف تشریف لے جاتے،ایک مرتبہ بندہ بھی بچپنے میںحضرت والدمحترم کے ساتھ چکوال شریف کے سفر پر ساتھ گیا جب کہ عمرسات برس ہوگی،جامع مسجددارالعلوم حنفیہ زیرتعمیرتھی جہانیاںجامعہ رحمانیہ میں بھی حضرت حافظ صاحب کی تشریف آوری بند ہ کویادہے ٹھیک بچپن تھاحضرت حافظ صاحب نے بندہ کو کیلاعنایت فرمایا مدرسہ اشرف العلوم شجاع آبادمیں بھی حضرت والدمحترم کی دعوت پر تشریف لائے تھے غالبا١٩٨٨ئمیں حضرت والدمحترم کو خلعتِ خلافت سے سرفرازفرماکرسلسلہ کی اشاعت کی ذمہ داری سونپی حضرت والدمحترم فرماتے کہ جب مجھے خلافت دینے لگے تو بندہ نے حضرت مرشد کو عرض کیا کہ میں تو بالکل اہل نہیں ہوں تو حضرت مرشدحافظ صاحب قدس اللہ سرہ نے فرمایاکہ مجھ پر آپ کو بدگمانی ہے ؟یہ الہام ربی القاء ربی سے ہواکرتی ہے۔مگرچونکہ مزاج حضر ت والدمحترم کا مدرِّسانہ تھا اورتدریس ہی اوڑھنابچھونا تھا تو سلسلہ کا کام متصوفانہ ذوق سے نہ کرسکے۔
ذکروشغل:
ذاتی طورپر اذکارواشغال میں بہرحال مصروف رہتے مگرمتعدی کرنے کاذوق نہ تھا بلکہ ہم عاجزوں کی درخواست پر کہ جی سلسلہ کا کام شروع فرماویں خلق خداکو فائدہ ہو،رائے کی تائید کرتے مگرغالبا ان کا طبعی ذوق ساتھ نہ دیتا بعض اوقات اہتمام فرماتے عشاء کی نمازکے بعد بعض متصوف باذوق طلبہ بھی جڑتے ،حضرت والدمحترم مراقبہ بھی کراتے مگرانقطاع بھی ہوجاتاتھا بس حضرت والدمحترم کے اس طرز عمل اوروصل ووصال کی مثال یوں ہی ہے ۔
علماء مدرسین کا وصول الی اللّٰہ:
ایک مرتبہ بندہ حضرت استاذمحترم مولاناعبدالمجیدصاحب لدھیانوی دامت برکاتہم کی صحبت میں حاضرہواتو بندہ نے سیرفی اللہ اور سیرالی اللہ کی اصطلاح سے متعلق دریافت کیا،توحضرت لدھیانوی دامت فیوضہم فرمانے لگے کہ بھائی مجھے ان چیزوں کاکوئی زیادہ پتہ نہیں چلتاپھر فرمایاکہ میں ایک مرتبہ حضرت اقدس قطب العارفین سیدنفیس الحسینی کے پاس حاضرہواعرض کیا کہ حضر ت مجھے تو ان تصوف کی اصطلاحات اور دقائق کی پوری پہچان نہیں ہے حضرت شاہ نفیس الحسینی نے فرمایاکہ آپ کو انکے معلوم کرنے کی ضرورت نہیں آپکی مثال اس مسافرکی سی ہے جو لاہور سے کراچی جاناچاہتاہے مگرگاڑی پرسوار ہوکرسوجاتاہے ،کراچی اسٹیشن پر جب پہنچتاہے تو آنکھیں کھلتی ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ساراسفرطے ہوچکاہے۔
عام سالک ومتصوف:
اورعام متصوف کی مثال ایسی ہے کہ وہ لاہورسے کراچی تک سفرکرتاہے مگربیداری سے کرتاہے،ہراسٹیشن کو دیکھتاہے درختوں کودیکھتاہے، راستے کے ہمہ قسم کے نشیب وفرازکا مشاہدہ کرتے ہوئے پہنچتاہے تو وصول پہنچنے میں دونوںبرابرہیں،ہمیں حضرت شاہ نفیس نے فرمایاکہ آپ اول الذکرکی طرح ہیں لہذاگھبرانے کی ضرورت نہیں آپ بھی منزل مقصودتک پہنچے ہوئے ہیں،توغالباحضرت والدمحترم بھی اسی قبیلہ کے آدمی تھے حضرت قاری رحیم بخش ملتانی پانی پتی کے متعلق حضرت والدمحترم سے سناتھا کہ ان کو جب حضرت شیخ الحدیث مولانامحمدزکریا نے خلافت سے نوازاتوحضرت شیخ الحدیث سے کسی نے کہاکہ حضرت قاری رحیم بخش نے سلسلہ کے اذکارتوعبورکیے نہیں تو پھرخلافت کیسے ؟حضرت شیخ الحدیث نے فرمایاکہ یہ قرآن کریم پڑھاپڑھا کر اس مقام تک پہنچ چکے ہیںکہ ان کو اذکارکی ضرورت ہی نہیں ہے،تو جس بندے نے مکمل زندگیاخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کی ہوقرآن اورسنت اورعلوم دینیہ کا انہماک رکھا ہوتوکیا بعیدہے کہ ایسے شخص کو وصول الی اللہ کامقام عظیم حاصل ہوچکاہو۔
بیعت وارشاد:
بیعت و ارشاد کا نظم فی الجملہ (کچھ نہ کچھ)رہامتعددطلبہ ودیگرافرادمردوزن بیعت ہوئے اورذکرواذکارکو معمول بنایامگرایساکوئی نہ تھا جس نے اس وادی کی تمام منزلیں عبورکی ہوں
اورنسبت کامقام حاصل کیاہوالبتہ آپ نے یہ نسبت اپنے ایک مایہ نازشاگردمولانامحمداسماعیل ارشداستاذالحدیث دارالعلوم کبیروالاکو منتقل کردی جن کو ان الفاظ میں اجازت دی من وعن اس کا مضمون یہ ہے،
”بندہ کی طرف سے اس پیارے بیٹے کو ہرلحاظ سے تمام علوم ظاہریہ ،باطنیہ ،روحانیہ جنکی بندہ کو اساتذہ کرام سے اجازت حاصل ہے،اورمشائخ عظام سے نعمت ملی ہے بخوشی نہایت اعتمادکیساتھ انکوبھی بخوشی برضا ورغبت دل سے اجازت دیتاہے ربناتقبل مناانک انت السمیع العلیم

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
شفیع المذنبین رحمة للعالمین سیدناومولانامحمدوعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔
خلیفة رسول اللہ امیرالمؤمنین ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ
صاحب رسول اللہ سلمان الفارسی رضی اللہ تعالی عنہ
الشیخ الامام جعفرالصادق رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ ابو یزید البسطامی رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ ابو الحسن الخرقانی رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ ابو القاسم الجرجانی رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ ابو علی الفارمدی رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ یوسف الہمدانی رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ عبدالخالق الفجدوانی رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ محمدعارف الڑیوجری رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ محمود الفغنوی رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ عزیزان علی الرامیتنی رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ باباالسماسی رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ امیرالکلال رحمة اللہ تعالی علیہ
شیخ المشائخ محمدبہاء الدین نقشبندالبخاری رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ علاء الدین العطاررحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ یعقوب الصرخی رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ عبیداللہ الاحرار رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ محمد الزاہدرحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ درویش محمدرحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ محمد الامکنکی رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ عبدالباقی رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ ومولنااحمدالفاروقی السھرندی رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ محمد المعصوم رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ محمدسیف الدین رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ محمدمحسن الدھلوی رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ نورمحمد البدایونی رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ مظہرجان جاناں رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ عبداللہ شاہ الدھولی رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ ابو سعید الاحمدرحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ احمدسعید المدنی رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ دوست محمد القندھاری رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ محمدعثمان الدامانی رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ سراج الدین رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ مولانامحمدفضل علی المسکین فوری رحمة اللہ تعالی علیہ
الشیخ مرشدعالم الحافظ غلام حبیب رحمة اللہ تعالی علیہ
شیخ المعقول والمنقول امام الصرف والنحومولانامحمداشرف شادرحمة اللہ تعالی علیہ
دیگراکابرین کی توجہ :
حضرت والدمحترم کو بعض دیگراکابرین نے خصوصی توجہ اورخلافت سے نوازاتھا مثلاحضرت مولاناحسین احمدصاحب خلیفہ مجازحضرت خلیفہ عبدالمالک چوک قریشی مظفرگڑھ جوکہ انتہائی صاحب کشف اللہ والے بزرگ تھے انہوںنے اپنے تمام سلاسل کی نسبت سے اجازت مرحمت فرمائی اسی طرح حضرت میاں محمداجمل قادری صاحب مدظلہ بھی اپنے سلسلہ کی طرف سے خلافت دے گئے تھے۔
()آغازازدواجی زندگی()
نکاح اول:
آپکا عقداول قطب الارشادحضرت مولانامحمدعبداللہ بہلوی کی لخت جگرسے ہوا،ویسے تو خاندان میں چچاخالہ پھوپھوماموں کے گھروں میں بھی رشتے تھے مگرحضرت والد محترم کی کوئی بہن نہ تھی ہمارے خاندان میں اول تو بٹہ سٹہ کے بغیرآسانی سے رشتہ نہ ملتاتھا دوسری اہم وجہ حضرت والدمحترم کو خاندان سے رشتہ نہ ملنے کی یہ تھی کہ یہ مولوی ہے ،سگے چچانے بچپن کی منگنی واپس کردی ،سگی اورحقیقی خالہ نے رشتہ صرف مولوی ہونے کی وجہ سے نہ دیا،اورتھے بھی خاندان کے پہلے حافظ اورعالم ،ناقدری کی انتہاتھی البتہ ملتان شہرمیں دوجگہ رشتہ کی بات چل رہی تھی، کہ حضرت بہلوی کے ہاں رشتہ کی بات چل نکلی تو حضر ت والدمحترم کا سارارخ ادھر ہی ہوگیا،واسطہ حضرت استاذمولانامفتی علی محمد تھے،رشتہ کی بات نتیجہ خیزہوتے ہوتے بعض نادانوں کے حسد اورنامخلصی کی بنیادپر حضرت بہلوی کی جانب سے انکارہوگیاتھا،مگرپھرحالات اچھے ہوگئے حضرت والدمحترم فرماتے تھے کہ میں نے اس دوران وظیفہ کیا تھا ۔
رکاوٹ کاازالہ:
یہ کہ اکیس رات کاعمل ہے،روزانہ دورکعت نمازصلوة الحاجت عشاء کی نمازپڑھنے کے بعد اکیلے کمرہ میں یارب انی مغلوب فانتصر١٠١بارآنکھیں بندکرکے پڑھتااس کے بعدروکر یا رونے کی شکل بناکردعاکرتاتو فرماتے کہ پس دریں اثناء ماموں جان حضرت مولاناعبدالحی بہلوی نے شادی پرآمادگی کا پیغام بھیج دیا یہ عمل اپنے مجربات میں شمارکرتے ہوئے بہت سوں کو بتلاتے تھے ۔بعض اپنے مخلصوں کو اپنا واقعہ بھی سنا دیتے تھے ۔
نکاح کی شرط:
تو حضرت بہلویکی ابنیت کے شرف سے مشرف ہوئے نکاح حضرت مولانامفتی علی محمدصاحب نے پڑھایاالبتہ یہ شرط آغازمیں طے کردی گئی تھی کہ حضرت مولاناعبداللہ بہلوی نے فرمایاکہ میری زندگی تک مدرسہ اشرف العلوم شجاع آبادمیں پڑھائیں گے میرے مرنے کے بعد ان کی مرضی جہاں رہیں،حضرت بہلوی نے اپنی رہائش کے گھر کے بالکل متصل سامنے آٹھ مرلے کا پلاٹ بمع مکان انتقا ل دیا آج کل یہ مکان جو حضرت مرحومہ والدہ محترمہ قدس اللہ سرھا کے نام انتقال شدہ تھا ماموں جان مولاناعزیزاحمدصاحب بہلوی کے حصہ میں آئے ہوئے گھرکے بالکل سامنے ہے اوران کے قبضہ میں ہے۔یہ ماشاء اللہ ہماری والدہ محترمہ ہوئیں انتہائی صالحہ متقیہ خاتون تھیں صوم صلوٰة کی پابند امور خانہ میں انتہائی چاک وچوبند تھیںحضرت والد محترم کی تمام زندگی کے ہر قسم کے مزاج اوروقت کوانتہائی صبر وشکرسے انہوں نے گذاراساری زندگی کبھی شوہر کاشکوہ اپنے سسرال نہ کیاگھر کے ہر اچھے برے وقت کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتیں۔
لُطف کی بات:
چونکہ یہ رشتہ محض دینی نسبت سے ہواہے تجربہ یہ ہے کہ جو رشتے محض دینی نسبتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہوں اللہ تعالی ان رشتوں سے علماء پیداکرتے ہیں اس کی بے شمارمثالیںدرج کی جاسکتی ہیں بشرطیکہ طرفین میں مقصوددین ہواورکوئی چیزمطلوب نہ ہوچنانچہ لگتاہے کہ اس رشتہ میں طرفین کی نیت خالص تھی کہ اس رشتہ سے حاصل ہونے والی اولادکو اللہ تعالی نے علم وعمل کی نسبت سے خوب مالا مال فرمایاہے،وگرنہ یہ سعادت ہمارے کسی ماموں اورخالہ کو حاصل نہ ہوئی،کہ ان کی تمام اولادپورانصاب تعلیم پڑھ چکے ہوں ،کہ تمام اولادحافظ عالم قاری مفتی ہوں،اگرچہ ان کی اولادوں میں بھی بعض عالم ہوئے ہیں مگرتمام نہیں،”الحمدللہ والمنة اللھم انانعوذبک من زوال نعمتک” محض اللہ کریم کے فضل سے والدہ محترمہ بھی متعدداوصاف حمیدہ سے مالا مال تھیں۔
والدہ محترمہ کے امتیازی اوصاف :
اللہ تعالیٰ نے انہیں کئی خصوصی اوصاف سے نوازا تھامثلاً
(١)نماز کی پابندی:
اذان ہوتے ہی فوراًاٹھ کرنماز پڑھتیںکبھی ایسا نہ ہواکہ اذان کی آواز سن کردس منٹ بھی بیٹھی رہی ہوںہمیں یاد نہیں،اذان ہوتے ہی فوراًدوپٹہ جوڑتیںاور نمازکے لیے تیارہوجاتیںنماز پڑھ کر ہی چین لیتیںاذان کے بعد نہ پر سکون رہتیں اور نہ رہنے دیتیںگھر کے ایک ایک فرد کومتوجہ کرتیں کہ اذان ہو گئی ہے نماز پڑھیں صبح کی اذان ہوتے ہی نمازپڑھ لیتیں۔
والدہ محترمہ نے نمازی بنادیا:
پھر ہمارے سروں پر کھڑی ہو جاتیںکہ نماز کے لئے اٹھو نماز کے لئے جائونماز کا وقت بہت کم رہ گیا ہے خدانخواستہ اگر کبھی ہم سے صبح کی نمازرہ جاتی تو شام تک گھر میںجینا حرام ہو جاتاجب گھر جاتے فوراًفرماتیںکہ میرا بیٹا تو نمازنہیں پڑھتامیری اولاد تو بے نمازی پیداہو رہی ہے یہ بات اس وقت کی ہے کہ ہم ابھی بالغ نہ ہوئے تھے،شام تک دل میں تہیہ ہوجاتاکہ کل سے نمازباجماعت اداکرنی ہے شام تک ہمیں اتنی مرتبہ تنبیہ کردیتیں کہ ہمیں احساس ہوجاتاتھا کہ آج ہم نے انتہائی براکام کیاہے جس کی برکت یہ ہوئی کہ بلوغ کے بعدنمازقضاء نہ ہوئی اورالحمدللہ اب تک ذمہ میں کوئی نمازنہیں ہے ۔
(٢)روزہ کی پابندی:
زندگی میں نمازقضاکرتے دیکھانہ روزہ چھوڑتے،الاّیہ کہ ایام مخصوصہ ہوتے توپھربھی ہمیں پتہ نہ چلنے دیتیں رمضان المبارک گزرنے کے بعد اپنے ان ایام مخصوصہ کی پابندی سے قضاء کرتیں والدہ محترمہ نے روزہ داربنادیااورہماری عادت یوں ڈلواتیں کہ ہم چھوٹے بھی ہوتے تو صبح سحری کے وقت اٹھادیتیں فرماتیں کہ بچوں کو بھی روزہ رکھنا ہے بچوں کے دوروزے ہوتے ہیں بندہ کو یا دہے کہ ہمارے بچپن میں رمضان المبارک گرمیوںمیں آیاکرتاتھا صبح سحری میں کھلادیتیں پھر دوپہرکو بلاتیں اورفرماتیںاب بارہ بج چکے ہیں بچے روزہ کھول لیں ہم کھاناکھا لیتے خوب پانی پی لیتے اب فرماتیں کہ شام کو افطاری ہوگی توشام کو ہم یوں بیٹھتے جیسے روزہ داربیٹھتے ہیں والدہ محترمہ کی اس تربیت کا فائدہ یہ ہواکہ روزہ کی اہمیت دل میں بیٹھ گئی بلوغ کے بعد ایک روزہ بھی قضاء نہ ہوا۔
(٣)قرآن کریم سے لگاؤ:
قرآن کریم سے لگاؤخوب تھا کہ بس حرز جان تھا ساری زندگی اپنے بچپنے سے لیکر وفات تک محض اللہ کی رضاکیلئے مفت قرآن کریم پڑھایابلاشبہ سینکڑوں لڑکیوں اورعورتوںنے ان سے قرآن کریم پڑھارمضان المبارک میں وہ ہوتیں اورقرآن ،ہم سحری کھا کر نمازکے بعد سوجاتے والدہ محترمہ جو سب سے پہلے اٹھ کر تہجد پڑھتیں پھرکھانابناتیں سب کو سحری کھلاتیں مگرفجرپڑھ کر کبھی نہ سوتیں صبح کی نمازپڑھ کر قرآن کریم کی تلاوت شروع کرتیں کم وبیش چارگھنٹے مسلسل تلاوت میں مشغولرہتیں پھر گھرکے کام کرتیں بعدازظہرپھر تلاوت ،یوں رمضان المبارک میں آٹھ دس مرتبہ قرآن کریم ختم کرتیں ۔
(٤)پردہ کا اہتمام:
بندہ ایک مرتبہ والدہ محترمہ کو ان کے آبائی وطن بہلی شریف لے گیاجہاں اس وقت ہماری خالہ رہتیں تھیں تو اسٹاپ سے اترکر گھرتک جو کہ اصلی حضرت بہلوی کا گھرتھا دوگلیاں آتی تھیں تو والدہ محترمہ جس گھرمیں پیداہوئیں بیس پچیس سال کا عرصہ گزارااس گھرکاراستہ بھول گئیں بندہ نے عرض کیا کمال ہے اماں جی آپ کو اپنے گھرکا راستہ بھی نہیں آتا؟فرمانے لگیں بیٹا!کیا پوچھتے ہو ہم کبھی گھرسے بھی باہرنکلی ہوں توہمیں پتہ ہو! چھ سات سال کی عمرمیں ہم پرپابندی ہوگئی تھی کہ باہر نہیں جاسکتیں رشتہ داروں کے گھروں میں بھی آناجانانہ ہوتاتھا،دوائی لینے کیلئے جانے کی نوبت نہ آتی خودڈاکٹرآتے جو علاج ہوتاوہیں پہنچ جاتاتھا،زندگی بھر میں ایک مرتبہ بھی بازارجاکراپنے کپڑے اورجوتانہ خریداتو ہمیں گھرکاراستہ کیسے یادہوتا؟
(٥)اولادکی تربیت:
بس انہی کا حصہ تھامشہور جملہ سوفیصدسچاہے، مردپڑھافردپڑھاعورت پڑھی کنبہ پڑھاپوراکنبہ پڑھاکر چلی گئیں،۔۔۔۔۔۔رحمھااللہ رحمة واسعة،وتغمدھابغفرانہ۔
والدہ محترمہ کے بطن سے اولادامجاد:
چھ بچے پیداہوئے جن میں سے اول اول ہمارے ایک بھائی پیداہوئے مگرپیدائش کے کچھ وقت کے بعدانتقال کرگئے جنکا نام محمدبلال رکھا گیاتھا۔
دوسرے نمبرپرہماری بڑی ہمشیرہ ام سعد١٩٧٨ئمیں پیداہوئیںماشاء اللہ خوب بختوں والی ہیں، خوب ذہین ہیں، سات سال کی عمرمیں قرآن کریم حفظ کرلیا اس کے بعدحضرت والدمحترم سے تمام کتب پڑھ کر گھرمیں تکمیل کی تقریبااٹھارہ سال سے درس وتدریس میں مشغول ہیں درجہ قرآن کریم کی کلاس جو کہ حفظ وناظرہ پر مشتمل ہے ان کے پاس ہوتی ہے،درجہ کتب کے بنات کے بھی بعض اسباق ان کے زیرتدریس رہتے ہیں والدہ محترمہ کے انتقال کے بعدہمشیرہ نے
حضرت والدمحترم اورہم سب بھائیوں کو خوب سنبھالاان کا عقدنکاح حضرت والدمحترم نے اپنے بھتیجے مولوی حبیب الرحمن سے کیا جس کی مکمل تعلیم وتربیت خود کی تھی جس سے دوبچے ہوئے محمدسعداشرف،یہ نام بندہ نے ہی رکھا تھا اس عزیزنے حضرت والدمحترم کاپیاربھی خوب لیا ہے،اورتربیت کیلئے ان کے ہاتھ سے پٹائی بھی کھائی اب قرآن کریم پڑھ رہاہے دوسری ان کی بیٹی طوبی ہے مولوی حبیب الرحمن نے حال میں دوسری شادی بھی کرلی ہے۔
تیسرے نمبرپر راقم الحروف محمداحمدانورہے جو کہ بروزجمعہ صبح چاربجے ١٩٨٠ئمیں ١٦فروری بمطابق ١٤٠٠ھ٢٧ربیع الاول کو پیداہواابتداء ہی سے اللہ کی جانب سے اہمیت کے اسباب بنے چونکہ پہلے ایک بھائی پیداہوکرفوت ہوچکے تھے دوسرے نمبر پر ہمشیرہ تھیں توراقم کی پیدائش پر غیرمعمولی خوشی کی گئی کیونکہ حضرت حافظ الحدیث مولانامحمدعبداللہ درخواستی کے متعددبیٹے حضرت والدمحترم کے پاس جامعہ رحمانیہ جہانیاں منڈی میں پڑھتے تھے رشتہ داری کا اضافی تعلق بھی تھا تو بندہ کی پیدائش پر خان پور سے حضرت درخواستی جامعہ رحمانیہ جہانیاں منڈی مبارک کیلئے تشریف لائے مسنون گھٹی دی ،نام شمس الدین مجاہدتجویزفرمایاکیونکہ اسی سال جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے بڑے عالم مولاناشمس الدین مجاہدشہیدکردیے گئے تھے ،حضرت درخواستی کو ان سے بہت الفت تھی اس نسبت سے یہ نام تجویز فرمایاحضرت والدمحترم (یہ تمام تفصیلات ہرمحبت والے مہمان کو تعارف کراتے وقت والہانہ اندازمیں سنایاکرتے تھے)کاچونکہ حضرت دین پورشریف والوں سے بھی گہراتعلق تھا تو حضرت میاںسراج احمد دین پوری نے نام محمدانورتجویزکربھیجا کہ علامہ انورشاہ کاشمیری کی نسبت سے یہ ذہین بنے گا،ادھر ہمارے ایک جواں سال ماموں فرزندحضرت مولانامحمدعبداللہ بہلوی فوت ہوچکے تھے ان کا نام محمداحمدتھا تو نانی اماں جان کی رائے تھی کہ اس بچے کانام محمداحمدرکھا جائے اصرار تھا تو بقول حضرت والدمحترم کہ میں نے حضرت درخواستی کے سامنے یہ تفصیل ذکرکردی کہ دین پورشریف والے یوں فرماتے ہیں اماں جان یوں کہتی ہیں آپکا ارشادبھی ہے آپ جو فیصلہ کریں گے وہی منظورہوگاحضرت درخواستی نے ذراسے توقف کے
بعدفرمایاکہ نام محمداحمدہے اور لقب ابھی سے انورتجویزکرتاہوں یوں پیدائش سے ہی اللہ والوں کی توجہ لعاب اوردعامیسرآئی خوب دعوت ہوئی اباجان نے دوبڑی بکریوں کا عقیقہ کیا۔
بندہ کی تعلیم کاآغاز:
بچپن سے ہی ہواحضرت قاری سرداراحمدمدظلہھم کے پاس نو سال کی عمرمیں قرآن کریم حفظ مکمل کیایہاں جامعہ اشرفیہ مان کوٹ کے قیام کے پہلے سال میں یوں اس جامعہ کے پہلے حافظ ہونے کا شرف بھی بندہ کوحاصل ہے،الحمدللہ۔ ١٩٩٣ئمیں تجویدوقرأت عشرہ مکمل کرلی حضرت قاری محمدعبداللہ صاحب مدظلہم کے پاس ملتان میں پھر کیونکہ اباجان اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کے حق میں بالکل نہ تھے تو استادماسٹراللہ بخش صاحب مرحوم کی خدمات حاصل کی گئیں تو بندہ نے آٹھ ماہ میں مکمل پانچ جماعت کا نصاب پڑھ کر پرائمری کا امتحان دیا پھر فارسی کی تمام کتب حضرت والدمحترم نے خودپڑھائیں دوسال متوسطہ پڑھاکامیاب ہوا١٩٩٦ئمیں اولی پڑھاتمام بھائیوں سے زیادہ حضرت والدمحترم نے توجہ دی جس درجہ میں بندہ ہوتااس درجہ کے دوسبق اپنے پاس رکھتے خوب دعائیں دیتے ایک سال تکمیل کے اسباق طاہروالی میںحضرت اقدس مولانامنظوراحمدنعمانی قدس اللہ سر ہ کے پا س پڑھے ،خوب دعائیں لیں عرض کیاکرتاہوں کہ محنت حضرت والدمحترم سے اورتدریس حضرت نعمانی سے سیکھی،ہر سال سالانہ چھٹیوں میں کوئی نہ کوئی کورس کیاصرف ونحوپر خوب توجہ دی ٢٠٠٣ئمیں دودرجے موقوف علیہ اور دورہ حدیث جامعہ دارالعلوم کراچی میں پڑھ کر وفا ق المدارس کا امتحان دیکردرجہ ممتازمیںکامیابی حاصل کی ختم صحیح بخاری کے موقع پر حضر ت والدمحترم نے کراچی کا سفرکیا خوب خوش ہوئے دعائیں دیں راستہ کے رفقاء کہ(قاری محمدعبداللہ صاحب ،قاری سرداراحمدصاحب مولاناعبدالرشیدبلال صاحب وغیرہ)کو کہاکہ محمداحمدسے کہوکہ میں تھک چکاہوں اب میرے ساتھ پڑھائے بندہ کے اصرار پر کہ تخصص کرناہے دارالعلوم کراچی میں اورکراچی یونیورسٹی میں عصری علوم کیلئے داخلہ لینا ہے،توحضرت مولاناعبدالمجیدصاحب لدھیانوی دامت برکاتہم کا شدت سے اباجان کو مشورہ ہواکہ محمداحمدکوکراچی سے جلدی نکالوورنہ مان کوٹ کا نہ رہیگا،حضرت والدمحترم اپنے اساتذہ کی بات سے سرموانحراف پرآمادہ نہ ہوتے ،بندہ کوکراچی کی اجازت نہ ملی فقط ایک سال فقیہ العصرحضرت مولانامفتی عبدالستارصاحب قدس اللہ سرہ کی صحبت میں خیرالمدارس ملتان کی اجازت ملی حضرت والدمحترمداخلے کیلئے خودگئے حضرت مفتی صاحب نے خوب توجہات سے نوازاحضرت بہلوی کی نسبت خوب کام آئی اگلے سال ٢٠٠٥ئمیں تدریس کا آغازہواحضرت والدمحترم نے بندہ کی تدریس کے آغازپر شادی جیسی خوشی کی ،حضرات اکابرین کو دعوت دی جلسہ اورشادی کا ساسماںہوا،حضرت والدمحترم بے حدخوش ہوئے تقسیم اسباق میں بندہ کے سامنے متوسطہ تا درجہ سابعہ موقوف علیہ تک کے اسباق کی لسٹ سامنے رکھی اورفرمایاجو اسباق چننے ہیں چن لو باقی ہم تقسیم کریں گے بندہ نے تفویض میں برکت وسعادت سمجھی،اولی تاموقوف علیہ اسباق د یے پہلے سال سے ہی منتھی اسباق کی تدریس کا آغازہواپہلے سال ہی ناظم تعلیمات بنایاگیا٢٠٠٦ئمیں حضرت والدمحترم نے نائب مہتمم کی جگہ پر کاغذات جامعہ میں بندہ کے نام کی رجسٹریشن کرائی ”الانوارالاشرفیة فی الفوائد الصرفیہ” تالیف کی تکمیل پر خوشی کااظہارکرتے ہوئے جب عاجزنے کتاب پیش کی تو پیشانی چومی اورسرپرہاتھ رکھااورایک ہزارروپے انعام دیا فرمایامحمداحمدانورکی وجہ سے میرانام روشن ہواہے،کھل کر حوصلہ افزائی کی ہرسال ادق اورمشکل اسباق دے کر تربیت کی ہمیں ہمیشہ شیرکی نظرسے دیکھاذراسی کوتاہی پر تنبیہ کی اخیرکردی مگرخصوصی سرگوشوں کو جابجاکہاکہ میں نے اپنا جانشین تیارکرلیاہے صرف ونحوودیگراسباق سے جا بجا اطمینان کااظہارفرمایاحضرت والدمحترم کے انتقال کے بعد٢٠١٠ئمیں دورہ حدیث شریف کا آغازکرنے کی سعادت نصیب ہوئی اساتذہ جامعہ اشرفیہ مانکوٹ واکابرین بالخصوص حکیم العصرحضرت مولاناعبدالمجیدصاحب لدھیانوی دامت فیوضہم کے حکم سے صحیح البخاری جلداول اورجامع ترمذی زیرتدریس آئی اورمشکوة جلد اول اس سے قبل زیرتدریس تھی، والحمدللّٰہ علی ذلک الحمدللّٰہ حمداکثیراطیبامبارکا فیہ۔
حضرت مولانامحمداسماعیل ارشداستاذالحدیث دارالعلوم کبیروالانے اپنی بیٹی کا نکاح دیا، مسنون سادہ نکاح سے اللہ تعالی نے دوبیٹیاںعطافرمائیں ایک کانام بندہ نے حمدرکھا دوسری کا نام ثنا رکھااللہ جل شانہ صالح بابرکت بیٹا دیں،آمین۔
تیسرے نمبرپر قاری محمدعمرمجاہد کی پیدائش ١٩٨٢ئمیں ہوئی حضرت والدمحترم فرماتے کہ میراخیال تھا کہ محمداحمدکے بعد محمداسعدمحمدامجدنام رکھوں گا مگراس کی پیدائش کے بعدحضرت مولانادوست محمدقریشی سے ملاقات ہوئی تو میں (حضرت والدمحترم )نے عرض کیا کہ یہ خیال ہے حضرت قریشی لیٹے ہوئے تھے تو اٹھ بیٹھے فرمایاکہ مولانا،محمدعمرنام اچھا لگتاہے اَ حِبَّ لِلنَّاسِ مَاتُحِبَّ لِنَفْسِکَ پر عمل کرتے ہوئے مشورہ دیا چونکہ حضرت قریشی کے اپنے فرزندارجمندبھی محمدعمرہیں حضرت والدمحترم نے اسی کو منتخب فرمایاملامحمدعمرمجاہد حفظہ اللہ ورعاہ کی حکومت میںبندہ نے ان کی نسبت سے لقب مجاہدتجویز کیا جو کہ مقبول ہواموصوف عزیزنے حفظ قرآن کریم حضرت قاری محمدعبداللہ صاحب کے پاس کیا حافظے کی کمزوری کی وجہ سے خاصاعرصہ لگایابعضوں نے انکی دقت کے پیش نظراباجان کو مشورہ دیا کہ اس کو ناظرہ پڑھادیں ،تواباجان نے جو ابافرمایاکہ بھائیوںمیں کمزورنہ سمجھاجائے اس لئے حافظ بناناہے ۔
بندہ راقم نے بائیس پارے انگلی رکھ کران کو یادکرائے،سبق یادکراکراستادمحترم کے پاس بھیجتا درجہ کتب تمام یہیں جامعہ میںپڑھیں بندہ کے پاس شرح نخبة الفکر،شرح عقودرسم المفتی پڑھی ،درس نظامی کی تکمیل کی، جامعہ قاسم العلوم ملتان سے ،دورہ حدیث مکمل کرکے سند فراغت حاصل کی فراغت کے بعدحضر والدمحترم کے حکم سے درجہ تحفیظ میں ان کی تشکیل ہوئی بندہ راقم نے پہلے دن جاکر ان کو درسگاہ میں چھ بچوں کے ساتھ بٹھایااوردعاکرائی بحیثیت ناظم تعلیمات ،اس وقت جامعہ کے کامیاب درجہ تحفیظ کے مدرس ہیں تجارت وزراعت کا خوب ذوق ہے،متنوع مصروفیات کے ساتھ زندگی گزاررہے ہیں، جس میں جامعہ کے شعبہ بجلی کی ذمہ داری بھی ان پر ہے ان کے تین بیٹے ایک بیٹی ہے،چچاکے ہاں عقدہوا،محمداسامہ محمدعکاشہ محمدعروہ بیٹی عفیفہ بی بی ہیں۔
چوتھے نمبر پرعزیزم مولوی محمدابوبکرمدنی ہیں ان کی پیدائش غالبا ١٩٨٣ئمیں ہوئی اب ان کانام خودحضرت والدمحترم نے محمدابوبکرتجویزکیا عجمیوں کی روایت کے مطابق والدہ محترمہ نے محبت سے مدنی کہ کرپکاراتو نام کا جزوبنا یاگیا،انہوں نے حفظ قرآن کریم جامعہ اشرفیہ مان کوٹ میں مکمل کیا درجہ کتب کے اکثردرجات درجہ سابعہ تک یہیں پڑھے، درجہ سابعہ میں راقم کے پاس شرح نخبة الفکراورشرح عقودرسم المفتی پڑھی دورہ حدیث ٢٠٠٦ئمیں جامعہ اشرفیہ لاہورسے کیا وفاق المدارس العربیہ کا امتحان دے کرکامیاب ہوئے ۔اسوقت جامعہ کے شعبہ کتب کے مدرس اورفعال ناظم ہیں، بندہ کے معاون ہیں۔انکی شادی بھی بندہ نے کی ،اللہ تعالیٰ ان کوایک بیٹااورایک بیٹی سے نوازاہے۔
پانچویں نمبر پر مولوی محمد عثمان مکی ہیں ١٩٨٧ء میں ہے،انہوں نے حفظ قرآن کریم نو سال کی عمر میں مکمل کیا ذہین فطین ہیں قراء ت عشرہ پڑھی متوسطہ پڑھا پرائیویٹ ایف اے کرایا،حضرت والدمحترم کے بعد درجہ سابعہ تک جامعہ اشرفیہ مانکوٹ میں ہی تعلیم حاصل کی بندہ سے صرف و نحو کا اجراء کیا شرح وقایہ ثالث، ہدایہ ثانی،مشکوٰة جلد اول پڑھی ہیں دار العلوم کراچی سے دورہ حدیث کیا وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تحت دورہ حدیث کا امتحان دیکر درجہ ممتاز میں کامیابی حاصل کی بندہ کی تحریک پر مدرسة الحسنین فیصل آباد میں رہ کر عربی تقریر وتحریر پر عبور حاصل کیابندہ کی نگرانی میں حسن الخط ہوئے،بندہ کے مطیع اورانیس ہیں جامعہ کے قابل ومقبول وسطانی درجات کے ہونہاراستاذہیں امتحان کا شعبہ بھی اس سال سے ان کے پاس ہے پرامیدہیں اللّٰھم زدفزد،وآمین یارب العالمین۔ ان کواللہ تعالی نے ایک بیٹاعطافرمایاہے۔
حضرت والدمحترم کا عقدثانی:
چونکہ ہماری والدہ محترمہ عارضہ بخارمیں مبتلاء ہوکر ٢١جولائی ١٩٩٥ئ میں داربقاء کی طرف انتقال فرماگئیں تھیں تو حضرت والدمحترم نے آٹھ سال بعد ٢٠٠٣ئمیں عقدثانی کیایہ عقدثانی ضلع مظفرگڑھ کے زمیندارفیملی دھنوترمیں ہوایہ قبیلہ خانگڑھ کے قریب بستی اناروں والی میں مقیم ہے اس عقدسے کوئی اولادنہ ہوئی یہ دوسری والدہ محترمہ یہیں مان کوٹ میں ہمارے پاس ہی ہیں۔
حضرت والدمحترم بکثرت جوا پنے اساتذہ کرام کی حکیمانہ باتیںسناتے بکثرت اپنے اساتذہ کرام کے جو ملفوظات نقل فرماتے تھے بندہ نے باربارسنے،حضرت والدمحترم نے فرمایاحضرت مولاناعبدالخالق جب تین یا تین سے زیادہ طلباء کو ایک چارپائی پر بیٹھا دیکھتے تو فرماتے کہ تم نے مدرسہ کی چارپائی کو کشتی نوح بنا رکھا ہے ۔
٭فرمایا!حضرت مولاناعبدالخالق فرماتے کہ جس دن مجھے طلباء کی معلومات حاصل ہونابندہوجائیں گی تو میں اہتمام چھوڑدوں گا یہاں تک کہ بعض طلباء کو بتاتے تھے کہ فلاں طالب علم نے فلاں وقت میں پانی پیا ہے اوراتنے سانس میں پیاہے۔
٭فرمایا!کہ حضرت مولاناعبدالخالق فرماتے بادشاہوں نے کھانے پینے کی حسرتیں شایدپوری نہ کی ہوں، عبدالخالق ساری حسرتیں پوری کرکے جارہاہے، حضرت والدمحترم فرماتے کہ حضرت
موصوف خوش خوراک اور خوش پوش تھے،بقول حضرت والدمحترم کتاب کھول کر سبق پڑھانے کو اپنی توہین سمجھتے تھے ،جب دارالعلو م دیوبندپڑھانے گئے تو شرح عقائد کا سبق کتاب بند کرکے پڑھاتے تھے فرماتے کہ شروع میں طلباء دارالعلوم دیوبند نے سوچاکہ اس ملتانی استاذ کو نہ چلنے دیں گے خوب سوال کرتے لیکن جب موصوف نے پڑھاناشروع کیاتوطلبہ کی روح بن گئے۔
٭فرمایا!حضرت مولانامفتی علی محمد فرمایاکرتے تھے کہ جس مہتمم کے پاس سال کی گندم اوراساتذہ کرام کی تنخواہ کا انتظام ہواسکا اہتمام ناکام نہیںہوتا،گندم ہوگی تو طلبہ جمے رہیںگے۔ تنخواہ ہوگی تو اساتذہ جمے رہیں گے،باقی نظام چلتارہتاہے۔
٭فرمایا!حضرت مولانامفتی علی محمد فرماتے کہ یاریہ اہتمام چپڑاس پونہ ہے۔
فرمایاکہ حضرت مولانامفتی علی محمدصاحب ایک مرتبہ میری درسگاہ میں آئے اورفرمایاکہ مولوی اشرف آج مسلم الثبوت کا ایک مقام سمجھنے آیاہوں مجھے سمجھ نہیں آرہاذراتقریرتوکردو،تو حضرت والدمحترم فرماتے کہ میرے قدموں کے نیچے سے زمین نکل گئی کہ اتنے جلیل القدراستاذہیں کیا فرمارہے ہیں اباجان نے عرض کیا کہ حضرت میں آپ کے سامنے کیا تقریرکرکے سمجھاسکتاہوں تو پھر حضرت مفتی علی محمدقدس اللہ سرہ نے فرمایاکہ مولوی اشرف سچ کہتاہوں کہ یہ مقام مجھے سمجھ نہیں آرہامیں نے یہ کتاب بہت پرانی پڑھی ہے آپ نے تازہ پڑھی ہے ذراتقریرکردواباجان فرماتے کہ میں نے مجبورااس مسئلہ کی تقریرکی تو حضرت استاذمحترم مولانامفتی علی محمد نے دعائیں دیتے ہوئے فرمایاکہ اب تشفی ہوگئی ہے اس کو کمال تواضع کہیے تو بجا،طلب علمی کاانہماک کہیے تو بجا(اس دورمیں تو طلباء اپنے اساتذہ کرام سے پوچھنے میں اپنی توہین سمجھتے ہیں۔)اپنے اصاغرپراعتمادکہیے تو بجا۔
٭فرمایا!کہ حضرت مولانامفتی علی محمد فرمایاکرتے تھے کہ یہ طلبہ بڑے چالاک ہوتے ہیں کمزورطالب علم جس نے نہ بھی پڑھناہوتومدرسہ ایساتلاش کرتاہے جس میں پڑھائی اچھی ہونظم وضبط ٹھیک ہو ۔
٭فرمایا!کہ حضرت مولانامنظورالحق بکثرت فرماتے تھے کہ میں اس کو مدرس نہیں مانتا جو صبح سے دوپہرتک پانچ سبق پڑھائے مگراس کے سرمیں دردنہ پڑے ،کہ جو شوق ومحنت سے مطالعہ کرکیذوق سے سبق پڑھاتاہے توضرور تھک جاتاہے۔
٭فرمایاکہ حضرت استاذمولانامنظورالحق غریب محنتی طلبہ پر خصوصی توجہ دیتے تھے ان کے حوصلے بڑھاتے تھے ۔
٭فرمایا!حضرت مولانافیض علی شاہ صاحب اورمیں (حضرت والدمحترم) دارالعلوم کبیروالامیں اکٹھے کھڑے تھے ،حضرت استاذمولانامنظورالحق کسی معاون کو انتہائی (متواضعانہ اندازمیں)محبت سے مل رہے تھے تو حضرت شاہ صاحب نے فرمایاکہ دیکھومولوی اشرف یہ مولوی منظورہماری خاطر دنیاداروں کے ساتھ کیسے تواضع سے پیش آرہاہے کیاحرج ہے ہم ان کے ساتھ تواضع سے رہیں یہ ہمارے مہتمم عالم تو ہیں سبحان اللہ کیساوفاداری اور حسن سلوک کا درس بڑے اپنے چھوٹوں کو دیتے تھے۔
٭فرمایا!حضرت مولانافیض علی شاہ صاحب فرمایاکرتے تھے باوجودیکہ خود بھی پٹھان تھے،ہم پٹھان لوگوں میں اعتدال نہیں ہوتابلکہ افراط وتفریط ہوتاہے فرماتے کہ ہم پٹھانوں میں اگرکوئی غبی ہوگاتو گدھے سے کم نہ ہوگا،ذہین ہوگاتو علامہ شمس الحق افغانی ہوگاپٹھان نیک ہوگاتو مولاناعبدالحق اکوڑہ خٹک ہوگابدہوتوپھر کسی چکلے کا ٹھیکہ دارہوگا،یہ ملفوظ جب حضرت والدمحترم سناتے تو مجلس کشت وزعفران بن جاتی۔
٭فرمایا!کہ حضرت مولاناصوفی محمدسروردامت فیوضہم نے اس اختلافات کے دورمیں جب جمیعت علماء اسلام اور مرکزی جمیعت علماء اسلام کی تقسیم ہوچکی تھی حضرت صوفی صاحب چونکہ ذہنامرکزی جمیعت سے ہم آہنگ تھے تو دوران سبق حضرت صوفی صاحب سے کوئی جملہ حضرت مفتی محمود سے متعلق نکلاتوفورافرمایاکہ مجھ سے غیبت ہوگئی ہے میں آپ سب کے سامنے اللہ سے
معافی چاہتاہوں یہ تھا اکابرین کا تقوی اور درسگاہ میں بیٹھے طلبہ کی تربیت کا اندازتھا،بھلاایسے اساتذہ کی صحبت میں بیٹھاہوابندہ غیبت کا خوگرہوسکتاہے؟
٭فرمایا!ایک مرتبہ حضرت مولانافیض علی شاہ صاحب نے حضرت مولانامنظورالحق کوفرمایاکہ مولانامنظورآپ کُشتہ کھاتے ہیں اسی وجہ سے آپ زندہ ہیں،وگرنہ اتنی محنت کرنے والاشخص (جتنی آپ کرتے ہیں)زندہ ،صحت مندنہیں رہ سکتا،مولانامنظورالحق نے ان کاانکارکیا،شاہ صاحب نے پھرکہاکہ مولاناآپ کُشتہ کھاتے ہیں،مولانامنظورالحق نے پھراصرارکے ساتھ انکارکیاکہ نہیں مولاناکوئی کشتہ نہیں کھاتاحضرت شاہ صاحب نے فرمایاکہ مولانامیں جوکہتاہوں (ذرازوردے کر)کہ آپ کشتہ کھاتے ہیں،توحضرت مولانامنظورالحق نے دھیمے پڑتے ہوئے فرمایااچھاشاہ صاحب بتاؤکیاکشتہ ہے؟حضرت شاہ صاحب نے فرمایاکہ یہ اہتمام کاکشتہ ہے،یہ جو آپ صبح شام پیسے گن گن کرلوگون دیتے ہواوریہ جوآپ کے اختیارات ہیں کہ فلاں کو نکالدوفلاں کو رکھ دوفلاں کو یوں کردویہ کشتہ ہے اگرایساہوجائے کہ آپ کے تمام اختیارات آپ سے چھن جائیں تو پھر میں دیکھوں گا کہ اتنے کام کرکے کیسے صحت مندرہ سکتے ہو؟
٭فرمایا!حضرت مولانافیض علی شاہ صاحب فرمایاکرتے تھے کہ میں نے دارالعلوم دیوبندمیں سات سال پڑھاسات سال پڑھایااس عرصہ میں حضرت شیخ الاسلام حضر ت مدنی کے گھرکوئی چیزایسی نہیں پکی تھی کہ جس میں میراحصہ نہ ہو۔
٭فرمایا!حضرت شاہ صاحب فرمایاکرتے تھے کہ سات سال دارالعلوم دیوبندمیں پڑھایامگرکبھی دارالعلوم کے انتظامی معاملات میں مداخلت نہیں کی نہ کبھی نمازپڑھائی نہ ذمیہ کاموں کے علاوہ کوئی کام کیا۔
٭ فرمایا!حضرت شاہ صاحب فرمایاکرتے تھے کہ مولوی اشرف کھدرلے لیتاہوں اور اس کو دھوبی سے دوتین مرتبہ دھلوالیتاہوں گرمیوں کیلئے کپڑاقابل استعمال ہوجاتاہے نرم ہوجاتا ہے غریب آدمی کا بڑی مشکل سے گزاراہوتاہے۔
٭فرمایا!حضرت شاہ صاحب فرمایاکرتے تھے کہ حضرت مدنی کے گھروالے جب کہیں جاناچاہتے تو تانگہ آتاتانگے والاگھرکھڑاکرکے چلاجاتامقدس خواتین باپردہ اندربیٹھ جاتیں پھرتانگے کے اوپرکپڑاڈالاجاتاپھر تانگے والاآکرتانگہ لے جاتا۔
٭فرمایا!حضرت شاہ صاحب فرماتے کہ ایک مرتبہ حضرت مدنی سے طلبہ نے درسگاہ میں کہہ دیا کہ حضرت اس وقت خواتین کے جوتے توسارے انگریزی ہوتے ہیں تو آپ کی خواتین بھی انگریزکے بنے ہوئے جوتے پہنتی ہونگی،توحضرت مدنی نے اپنے گھرکی خواتین کے جوتے اٹھواکردکھائے کہ دیکھویہ دستی بنے ہوئے ہیں انگریزی مصنوعات نہیںہیں ،یہ تھی اللہ جل شانہ کے دشمنوں سے نفرت۔
٭فرمایا!کہ حضرت صوفی محمدسرورصاحب مدظلہم جب دارالعلوم کبیروالامدرس ہوئے تو ایک سال تک حضرت مولاناعبدالخالق کی درسگاہ میں سبق پڑھاتے تھے یہ ان کی ڈیوٹی تھی تاکہ ان کی تدریس پر اطمینان ہوجائے یہ چونکہ حضرت مولاناعبدالخالق کے شاگردنہ تھے تو اعتماد کے حصول کے لئے ایساہواان کا پڑھاناسنتے تھے،کیا معیارتھا مہتمم کا،اورکیا اعتمادتھا مدرس کو اپنے علم پر؟ آج اگرکسی مدرس کیلئے یہ شرط کردی جائے اس کی تدریس کیلئے تومدرس اپنی گستاخی سمجھتے ہوئے تشریف لے جائے گا۔
٭فرمایا!کہ حضرت صوفی صاحب دامت برکاتہم دارالعلوم کے جلسہ میں مطبخ میں مہمانوںکے کھانے کے نگران ہوگئے،تو چائے کا میٹھا چکھنے کیلئے دوتین قطرے ہاتھ پرڈال کرچکھتے تھے پوراگھونٹ بھر کرچکھنے کو خلاف احتیاط سمجھتے تھے ۔
٭فرمایا!کہ حضرت صوفی صاحب مدظلہم جب مطبخ کے نگران تھے تو ایک استاذمحترم کا بچہ آگیاکچھ لینے تو حضرت صوفی صاحب نے فرمایاکہ چلے جاؤ”شیقو”(شفیق الرحمن حضرت کا بیٹاتھا) بھی آجائے گایوں کمالِ احتیاط سے زندگی گزارنے والوں کے پڑھانے میں کیا برکات اترتی ہونگی اورانکی صبحت میں بیٹھنے والے اسی وجہ سے باکمال ہوئے ۔
٭فرمایا!کہ حضرت مولاناظہورالحق بڑے سادہ استاذتھے بہت بڑے علامہ ،بعض اوقات خوش طبعی کرتے ہوئے فرماتے کہ دارالعلوم والے تنخواہ ہدایت النحو کی دیتے ہیں پڑھواتے ہدایہ ثالث ہیں کسی نے کہا حضرت فلاں مدرسے والے تو آپ کو چاہتے ہیں تنخواہ زیادہ ملے گی فرمایاکہ بھئی تنخواہ کی وجہ سے ہم دارالعلوم نہیں چھوڑیں گے۔
٭فرمایا!کہ حضرت مولاناعلامہ ظہورالحق فرمایاکرتے تھے کہ مولانااشرف ہمارے بہت شاگردہیں مگرجو محبت آپ سے ہے،وہ کسی سے نہیں ہے۔
٭فرمایا!کہ حضرت مولاناعبدالمجیدلدھیانوی دامت فیوضہم فرماتے تھے کہ میرے قریب رہنے کی تین شرائط ہیں،(١)طالب علم لائق ہو تاکہ کوئی یہ نہ کہ سکے کہ امتحانات یا دیگرمواقع پر رعایت کے حصول کیلئے استاذکے قریب ہے (٢)باکردارہو،تاکہ یہ کوئی نہ کہہ سکے کہ یہ طالب علم بدکرداری کو ہضم کرنے کے لئے استاذکے قریب ہے (٣)مال دارہو تاکہ یہ الزام نہ ہو کہ لالچ میں یہ استاذکے قریب ہے ۔
٭فرمایا!میرے ایک بریلوی استاذنے کہاتھا (جب میں بریلوی مکتب فکرکے مدرسہ انوارالابرارملتان میں پڑھتاتھا)کہ اشرف یہ دعاپڑھاکرواللھم اھدنا الصراط المستقیم،کہ یااللہ مجھے سیدھاراستہ دکھا تو میں یہ دعاپڑھتارہاکہ ایک دوسرے( بریلوی مکتب فکرکے ہی) استاذنے کہہ دیاکہ ان دیوبندیوں کی صرف ونحواچھی ہوتی ہے،آپ دارالعلوم کبیروالامیں جاکرصرف ونحوپڑھ کرآؤ۔
اساتذہ کرام کا ادب اوران سے محبت:
ادب کا عالم تو یہ تھا کہ کبھی استاذو ں کے سامنے دوزانوں کے بغیرنہ بیٹھے آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات نہ کی اونچی آوازسے بات نہ کی، محض رائے کو حکم سمجھا محبت کا عالم یہ تھا کہ حضرت والدمحترم کی کوئی مجلس درس یا غیردرس کی ایسی نہ ہوتی تھی کہ جس میں وہ اپنے کسینہ کسی استاذکا تذکرہ نہ کرتے ہوں،اوران کی کوئی نہ کوئی بات نہ سناتے ہوں اپنے سب کچھ کو اپنے اساتذہ کافیض سمجھتے تھے اور ان کی دعاؤں کا نتیجہ اور اس کا باربارتذکرہ کرتے فرماتے کہ میں ہر نمازمیں اپنے اساتذہ کرام کیلئے دعائیں کرتاہوں اپنے استاذوں سے اگرفون پر بات کرتے تو دوزانوںہوجاتے فون کے پاس یوں بیٹھے ہوتے جیسے استاذوں کے سامنے بیٹھے ہیں۔
اساتذہ کرام کی خدمت :
ان کی عادت ثانیہ تھی بلکہ حضرت والدمحترم کی آمدنی میں سے ایک خاص حصہ اساتذہ کرام کیلئے مختص ہوتاتھا جو اساتذہ کرام حیات تھے وقتا فوقتا حسب وسعت ان کی طرف ہدایاتحائف بھیجتے اورجو چل بسے تھے ان کی بیواؤں کے ساتھ حسن سلوک رکھتے تھے ہدایاتحائف وغیرہ دیتے تھے اوریہ عمل سالانہ تو ضرور ہوتاتھا۔
مرشدواساتذہ کرا م کی اولادکاادب:
حضرت والدمحترم اپنے مرشداوراساتذہ کرام کی اولادکے ساتھ بھی اساتذہ کرام جیسا سلوک کرتے تھے وہ فرزندان اساتذہ ان کے شاگردہی کیوں نہ ہوتے ان کیلئے اٹھ کھڑے ہوتے،اپنی جگہ پربٹھاتے استاجی استاجی کہہ کرپکارتے بوقت رخصت ہدیہ دیتے یہ صنف ادب کی انصاف کی بات ہے،بندہ نے اپنی نظروں سے کہیں نہیں دیکھی بلکہ آج مزاج یہ ہے کہ اگرقسمت سے کوئی اپنے مرشداوراستاذکا باادب نکل بھی آئے تو اس تلمیذ رشیدیامریدصاحب کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ یہ مرشدواستاذزادے ہمارا یوں ادب واحترام کریں جیساکہ ہم نے ان کے باپ کا کیاہے،بلکہ یہ مرشدیااستاذزادے ہمارے مرید اورشاگرد ہیں،الاماشاء اللہ۔
اپنی اولادکے اساتذہ کاادب:
ہمارے متعدداساتذہ خودحضرت والدمحترم کے شاگردتھے مگرچونکہ ہمارے استاذہوگئے تھے تو حضرت والدمحترم ان کا بھی ادب کرتے ان کے ساتھ ہدیہ وغیرہ کے ذریعے حسن سلوک کرتے بلکہ ہمیں اگرایسے اساتذہ مارتے تو اباجان کبھی بھی ان سے نہ پوچھتے،بھلے انہوںنے بے جا ہی کیوں نہ ماراہو،بلکہ بندہ کے ایک استاذجو حضر ت والدمحترم کے شاگردتھے اباجان ان سے ناراض ہوگئے ان کے کسی عمل کی وجہ سے،تواباجان نے صرف اس وجہ سے ان کو معاف کردیا کہ یہ میرے بیٹے کااستاذہے،کہیں میرے بیٹے کو بددعاء نہ کردے بھلے میراشاگردہے،اس بات کا بندہ کے سامنے اظہارفرمایاتھاکہ میں نے انکو کیوں معاف کردیاہے؟
ملفوظات حضرت شاد:
جو اس وقت ذہن میں مستحضرہیں وہ درج کررہاہوں۔
٭فرمایامیرے عزیزطلباء کرام ان ماؤں کا دودھ پاک ہے جن کے بیٹوں کو اللہ تعالی نے دینی تعلیم حاصل کرنے کیلئے قبول فرمایاہے۔
٭فرمایااس وقت کائنات کابہترین طبقہ تم ہو تم سے بہترکوئی اورنہیں۔
٭فرمایاکہ میں اگردنیاکی لالچ کرتاتومیرے بھی بینک بیلنس کوٹھی ہوتے مگرشایدمیرے پانچ بچے حافظ عالم قاری نہ ہوتے۔
٭فرمایادنیاتو بہت اچھی گزری ہے اللہ آخرت بھی اچھی کردیں۔
٭فرمایاکہ جس آدمی کی نیکی پرکھنی ہوتو اس کے معاملا ت دیکھ لو یا اس کے قریبی لوگوں سے اس کے بارے میں رائے لے لویاسفرکرلو،معلوم ہوجائے گا۔
٭فرمایاکہ جو علماء اپنی اولادوںکو محض عصری علوم پڑھاتے ہیں حقیقت میں وہ اپنے کیے پر نادم ہیں کہ ہم نے جو کیا براکیا اپنی اولادوں کو ایسانہیں کرنے دیں گے۔
٭فرمایاکہ قناعت اوراحتیاط اختیارکرواخراجات خود پورے ہوجائیں گے ۔
٭فرمایاکہ میں نے اپنی اولادکو دانست سے حرام اورمشکوک مال نہیں کھلایاہے،اورنہ اسکو ل میں بھیجا ہے۔
٭فرمایاکہ مہتمم کو اگرخداکاخوف نہ ہوتوجتنامرضی چاہے حرا م کھاسکتاہے،کہ مدرسہ کا مال بے ضابطہ استعمال کرے گا۔
٭فرمایااہل مدارس تصوف کے ماحول سے خالی ہورہے ہیں مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اہل مدارس تصوف کے عدم جواز کا فتوی نہ دے دیں۔
٭فرمایاایک دورمیں اساتذہ صاحب نسبت ہوتے تھے طلباء کو کسی مرشدسے بیعت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی،خودا ن اساتذہ کرام کی صحبت ہی کافی ہوتی تھی اس دورمیں بیعت ہوناضروری ہے۔
٭فرمایاجو طلباء تبلیغی جماعت سے جڑجاتے ہیں میں ان سے مطمئن ہوجاتاہوں کہ جامعہ کے قانون کی خلاف ورزی اوراساتذہ کی بے ادبی نہ کریں گے۔
٭فرمایاایک دورتھا کہ جو طلبہ جہادی کاموں سے جڑتے تھے یا جہادمیں جاتے تھے وہ تہجد گزاراورباادب ہوتے تھے اب اکثرنافرمان اوربے ادب ہوتے ہیں۔
٭فرمایامیں نے اس وقت سے مجاہدین کی معاونت کی ہے جب ان مجاہدین کو کوئی مدرسوں میں داخل نہیں ہونے دیتاتھا میں ان کے مدرسے میں بیان کرواتاتھا۔
٭فرمایاتبلیغی جماعت کے اجتماع میں اس وقت جاتاتھا،جب رائیونڈکی مسجدمیں اجتماع ہوتاتھا،اوردوصفیں لگا کرتی تھیں۔
٭فرمایامدرس جب تک کھپے گا نہیں ،طلبہ کو فائدہ نہیں پہنچے گا ۔
٭فرمایاکہ میری طبیعت ہے کہ بات منہ پر کہہ دیتاہوں۔
٭فرمایاایک دورہوتاتھا کہ طالب علم استاذکے پاس پڑھتااستاذکو استاذسمجھتاتھا جب پڑھ کر چلاجاتاتھا پھر بھی استاذکو استاذسمجھتاتھا،وقتافوقتاملنے آتا،ہدایااورتحفے لاتااستاذکی سنبھال کرتااستاذکیلئے دعائیں کرتا۔
٭فرمایاکہ یہ استاذاورشاگرددونوں مرگئے وہ دورختم ہوگیا۔
٭فرمایاکہ دوسرادورآیاکہ طالب علم استاذکے پاس پڑھتااستاذکو استاذسمجھتاخدمت ادب کرتاجب پڑھ کر چلاجاتابس استاذکو بھول جاتا۔
٭فرمایایہ دوسرادوربھی ختم ہوگیااستاذوشاگردمر گئے۔
٭فرمایاکہ تیسرادورآیاکہ طالب علم استاذکے پاس پڑھتابس خاموشی سے علم حاصل کرتااورچلا جاتااوربس۔
٭فرمایایہ دوربھی ختم ہوگیاہے۔
٭فرمایااب یہ چوتھادورہے کہ استاذکے پاس پڑھتے ہیںمگراستاذکو استاذنہیں سمجھتے بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارااحسان ہے کہ ہم تیرے پاس پڑھنے آئے ہوئے ہیں اگرہم نہ آتے تو تجھے مدرسہ میں رکھ کرتنخواہ کو ن دیتا۔
٭فرمایاپھر نتائج بھی تو اسی طرح ہیں ۔
٭فرمایاجو طالب علم چاہتاہے کہ میں مدرس بنوں وہ سبق کا ناغہ نہ کرے اور ہر سبق اس نیت سے پڑھے کہ میں نے اس کو پڑھاناہے۔
٭فرمایاکافیہ( نحو کی کتاب ہے)کتاب کا ایک سبق ایساہے جس کو میں نے کسی عذرکی وجہ سے استاذسے نہیں پڑھاتھا اوراب ستائیسویں مرتبہ کافیہ پڑھارہاہوں جب اس مقام پر پہنچتاہوں پڑھاتولیتاہوں مگراطمینان نہیں ہوتا(یہ اس وقت فرمایا١٩٩٨ئمیںجب راقم کافیہ پڑھ رہاتھا)بندہ راقم نے دوران درس پوچھ لیا کہ وہ کون سا مقام ہے توفرمایاکہ اگرآپ کو وہ مقام بتادوں تو آپ بھی کہیں گے کہ ہمیں بھی وہ مقام سمجھ نہیں آیا اندازہ لگائیے کہ ناغہ کی نحوست کا اثرجو ستائیس مرتبہ ناغہ والامقام پڑھالینے کے باوجود بھی اس مقام کی نحوست محسوس کی جارہی تھی۔
٭فرمایاجو طالب علم ایک جگہ پڑھتاہے استاذسے تعلق رکھتاہے تو اس کو استاذکی توجہ نصیب ہوتی ہے جو اس کی ترقی کا رازبن جاتاہے ،جو مدرسے بدلتارہتاہے فیض سے محروم رہتاہے۔
٭فرمایاآپ اس جامعہ اشرفیہ مان کوٹ کے ماحول میں کتنے خوش نصیب ہیں کہ غیراختیاری
طورپرآپ بہت سے گناہوں سے محفوظ ہوتے ہیں۔
٭فرمایامدرس کوچاہیے کہ سال کے دوران مدرسہ سے جتناتنگ ہو بے وفائی نہ کرے اور مہتمم بھی مدرس سے جتنا تنگ ہو درمیان سال میں اس کو جواب نہ دے۔
٭فرمایا(جب کسی مدرس کی جگہ بناتے)توکہتے کہ مہتمم صاحب کے مزاج کی رعایت رکھنا ضابطہ ہے کہ مزاجِ مہتمم قانونِ مدرسہ، اگراس بات کی رعایت رکھوگے تو دیرتک رہوگے۔
٭فرمایاکہ جس طرح مشہورہے کہ تھانیدارحرام کھاتاہے رشوت لیکر ،تو جو مدرس اپنا پوراوقت درسگاہ کو نہیں دیتاوہ بھی حرام کھاتاہے۔
٭فرمایاکہ بکثرت اساتذہ جامعہ کو فرماتے یہ قو ت لایموت ہے جو وظیفہ جامعہ سے آپ کو ملتا ہے ،
٭فرمایاکرتے طلبہ کو،
محنت کرودوستومحنت سے کام ہوگا کہتے ہیں بخت جس کووہ آکر غلام ہوگا
٭فرمایاکرتے طلبہ کو کہ طالب علم حقیقت میںوہی ہوتاہے جس کا مدرسہ میں دل لگے گھرمیں دل نہ لگے ۔
٭فرمایاکہ پنجابی پٹھان کی تفریق میرے نزدیک کفرہے بلکہ آپ سب طلبہ بھائی ہیں ۔
٭فرمایا(کرتے تھے اپنے ہدیہ کے عادی تلامذہ کو )ہرملاقات پر ہدیہ نہ لایاکروبعض اوقات ہدیہ مانع ملاقات بن جاتاہے ملاقات ہی بڑی چیزہے ۔
٭فرمایا(ایک مرتبہ مان کوٹ اڈے سے جامعہ تک پیدل چلنا پڑا دعائیہ انداز میں) یا اللہ میں معذور درویش آدمی تھا آپ چاہتے تو شہر میں بھی مجھ سے کام لے سکتے تھے مگر آپ نے میری تشکیل اس دیہات میں کی ہے تو مجھ معذورپر رحم فرمافرماتے کہ پھرمجھے کبھی پیدل نہیں چلنا پڑا۔
٭فرمایاکہ اصطلاحی قاری تو وہ ہوتاہے جو قرأت عشرہ کا قاری ہو ورنہ حافظ ہوتاہے حافظ آج کل تو اس کو کہتے ہیں جوپرانے زمانے کا پڑھاہواہواس زمانہ کے پڑھے ہوئے سارے قاری ہوتے ہیں۔
٭فرمایامیں نے دماغ پر خرچ کیا ہے بادام روغن پر اتناخرچ کیا ہے اگران پیسوں کو جمع کرتاتوآج میرے کئی پلاٹ ہوتے۔
٭ فرمایاکہ میں تعویذ اس لیے دیتاہوں کہ مخلوق خداکی خدمت ہوجائے اگرہم تعویذان کو نہ دیں گے تو غلط عقیدہ والے لوگوں کے پاس جائیں گے ۔
٭فرمایاکہ اساتذہ سے رابطہ رکھنے سے بہت فوائدملتے ہیں ہمیں جو کچھ ملا اپنے اساتذہ کرام سے رابطہ رکھنے اوردعاؤں سے ملاآج کل تو رابطہ بالکل آسان ہے ایک روپیہ خرچ کرکے رابطہ کیا جاسکتاہے ۔
٭فرمایاکہ اگرمیں ارادہ کرلوں کہ درسگاہ میں بیٹھے ہوئے طالب علم کو سبق سمجھ نہ آئے تو نہیں آسکتاطالب علم جتنی مرضی کوشش کرلے نہیں سمجھ سکتایہ استاذکا روحانی تعلق ہوتاہے ۔
٭فرمایا یہ جو اکثرطلبہ جہاد سے تعلق قائم کرلیتے ہیں وہ اساتذہ کے پکے نافرمان ہوتے ہیں،یہ پھرقرآن وحدیث پڑھانے والے اساتذہ کی بجائے ان کی اطاعت کرتے ہیں جو ان کو ٹریننگ دینے کیلئے الٹاسیدھاکرتے ہیں۔
٭فرمایاکہ میں اس لئے طلبہ پر محنت کرتاہوں یہ طلبہ دین قیمتی بن جائیں گے دین کی خدمت کریں گے میری مغفرت کا ذریعہ ہوںگے ۔
٭فرمایاکہ ایک دورمیں ہم طلبہ کو مارتے تھے توطلبہ احسان سمجھتے تھے کہ استاذوں نے ہماری تربیت کی ہے اب سمجھتے ہیں کہ استاذدشمن ہیں۔
٭فرمایاکہ باربارایساہوا کہ میں نے ایک طالب علم کی کسی تعلیمی یا تربیتی جرم پر پٹائی کی شام کووہی طالب علم میرے پاؤں پکڑکربیٹھاہوتاتھاکہ استاجی میری وجہ سے آپ کو تکلیف ہوئی ہے معاف کردیں۔
٭فرمایااب اگرطالب علم کو کسی غلطی پر سزادوتو پوچھناپڑتاہے کہ حضرت ناراض تو نہیں ہوگئے ہو؟
٭فرمایاکہ ایک دورہوتاتھا کہ ہم طلبہ سے ان کی کوتاہیوں کی وجہ سے ان سے ناراض ہوتے تھیطلبہ ہمیںمناتے تھے استاذکی ناراضگی برداشت نہیں کرتے تھے اب ناراض ہوں تودفع ہوجاتے ہیں ہم نے بھی ناراض ہوناچھوڑدیا ہے مناتاتو کوئی ہے نہیں۔
٭فرمایاکہ بیٹی بھی اللہ کی رحمت ہے ہمارے عرف میں بھی ہے کہ کوئی پوچھتاہے تو کہتاہے کہ کوئی بیٹی بیٹاہے؟یہ قدرتابیٹی کی تقدیم زبان پر ہوتی ہے اللہ تعالی نے بھی بیٹی کو مقدم کیا ہے یَھَبُ لِمَنِ یَشَآئُ اِنَاثاًوَیَھَبُ لِمَنْ یَشَآئُ الذُّکُوْرَ۔
٭فرمایامیں چاہتاتوشہرمیں ادارہ قائم کرتامگرشہرمیں تعلیمی ماحول کی یکسوئی نہ ہوتی یہاں (جامعہ اشرفیہ مان کوٹ میں )بہت سکون ہے۔
٭فرمایادین کے جس شعبہ میں بھی بندہ کام کررہاہوتودوسرے شعبے والوں کو اپنامحسن سمجھے کہ وہ دین کے کام مجھے بھی کرناچاہیے تھے مگروہ میرے بھائی کررہے ہیں توکم ازکم میری کمی تو پوری ہورہی ہے،یہ میراکفارہ ہیں۔
فرمایا(راقم کہیں پڑھتاتوخط میں لکھتے)بیٹاآج وقت کی قدرکروآنے والاوقت تمہاری قدرکرے گا،اگرآج وقت کو ضائع کردوگے تو آنے والاوقت تمہیں ضائع کردے گا۔
٭فرمایا(بیٹا!اکیلے بیٹھے ہوئے، مرض میں)کبھی کسی سے خیرکی امیدنہ رکھنابس ہرمشکل میں اللہ جل جلالہ کی طرف رجوع کرنا،اورانہیں پربھروسہ کرنا۔
٭فرمایابھائیوں میں تو بڑاہے لالچ نہ کرنااللہ تجھے بہت دیں گے۔
٭فرمایا(زندگی میں اہم لوگوں کو)میں نے اپناجانشین تیارکرلیا ہے یہ جامعہ چلتارہے گا۔
٭فرمایا(جب رشتہ کی تلاش تھی)محمداحمد!اللہ تجھے ایسارشتہ دیں گے کہ تو کہے گا کہ اللہ نے فضل کردیا ہے۔
٭فرمایامیں چاہتاہوں کہ آپ کو ایسی بیوی ملے جو آپ کے آگے نہ بولے۔
٭فرمایانیک ولائق بن جاؤلوگ میرانام نکال دیں گے میں تو جٹ آدمی کا بیٹاہوں بلکہ کہیں گے کہ یہ نواسہ حضرت بہلوی ہیں۔
٭فرمایاحسن یاحسین ابن علی کم کہتے تھے بلکہ نواسہ رسول اللہ ۖزیادہ کہتے تھے ۔
٭فرمایاحضرت بہلوی واقعتاجامع الشریعت والطریقت تھے۔
٭فرمایاحضرت بہلوی نقداصلاح کردیتے تھے۔
٭فرمایاہمارے مرشدحضرت حافظ غلام حبیب تعویذدینے کو پسند نہیں کرتے تھے۔
٭فرمایاکہ یہ تعویذدیناکوئی دوکانداری نہیں ہے،بلکہ خدمت خلق کی نیت سے میں دیتاہوں۔
٭فرمایا طلبہ کا اصول یہ ہوکہ کھاؤنوابوں والاپہنودرویشوں والاتاکہ خوب پڑھ سکو۔
٭فرمایااستاذپڑھائے تو بھائیوں کی طرح سبق سنے قصائیوں کی طرح۔
٭فرمایااب مارنے کادورنہیں رہا۔
٭فرمایااستاذکو چاہیے کہ طلبہ کے ساتھ ذاتیات نہ رکھے۔
٭فرمایا(اگرکوئی تعویذلیکراجرت پوچھتاتو)کہہ دیتے ہماری عادت مانگنے کی نہیں جس کا جوجی چاہے ،دے یانہ دے۔
٭فرمایالوگ رشتہ دارسے نہیں مال داررشتہ دارسے رشتے ناطے کرتے ہیں اسی وجہ سے شریعت نے میراث میں خصوصی تناسب رکھا ہے تاکہ سب کی ملکیت میں کچھ ہو۔
٭فرمایاعجیب بات ہے کہ لوگ اپنی بیٹی تو غیرکو نکاح میں دے دیتے ہیں جب زمین کا مسئلہ آتاہے توکہتے ہیں کہ غیرہماری زمین میں آجائے گا اس لئے بیٹی کوزمین نہ دویاشریک رشتہ دارہماری زمین میں آجائے گابیٹی کی زمین سے مٹی کی زمین توزیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔
تعویذات کا معمول:
روزانہ بعدازنمازعصرتعویذات اوردم دعاکیلئے لوگ خوب دوردراز سے آتے تھے فرماتے تھے کہ یہ خدمت خلق ہی ہے،کوئی روزی کا دھندانہیں ہے نیزاس میں لوگوںکے عقیدے کی بھی حفاظت ہے،کیونکہ جو ہمارے پاس آجاتے ہیں وہ کم ازکم بدعقیدہ لوگوں سے بچ جاتے ہیں اور تبلیغ دین بھی ہے،کیونکہ میں ان کو تعویذدیتاہوں تو نمازوں کے بعد پینے کا کہتاہوں آخری عمرمیں جب خوب رش ہونے لگا تو بندہ راقم الحروف کے پاس یہ کہہ کربھیجتے کہ مفتی صاحب سے جاکرلو اگرکوئی پس وپیش کرتاکہ جی ہم نے آپ سے لینے ہیں توفرماتے کہ یہ اصلی پیرہیں کیونکہ ان کے ناناپیرہیں میں جٹ آدمی کا بیٹاہوں بندہ بہت شرمندہ ہوتاایک مرتبہ بندہ نے جاکرعرض کیا کہ حضرت آپ اتنے لوگوں کو میرے پاس بھیج دیتے ہیں مجھے تو کچھ نہیں آتامختلف امراض لوگ بتاتے ہیں تومیںکیا کروں؟توفرمایاکہ میرے عزیزجو جی میں آئے قرآن کی آیت یا دعالکھاکرواثرہوگافرمایامیں بھی اسی طرح کرتاہوں البتہ بندہ بعض اوقات جب حضرت والدمحترم تعویذدے رہے ہوتے تھے،ساتھ جاکربیٹھ جاتاتھاان کا طرزان کی باتیں سنتاامراض اوران کا تجویزکردہ عمل دعائیں سنتادیکھتااس سے بھی بہت فائدہ ہوا،بہت سارے حضر ت والدمحترم کے ہی مجربات یادہوگئے اوران کی وہ دعابھی بہت کام آئی کہ جو لکھواثرہوگاواقعی ایساہوا،الحمدللہ۔
چندمجربات:
رزق کی برکت کیلئیاللّٰہ اَلصَّمَدُکثرت سے پڑھنے کی تلقین کرتے(٢)ہرنمازکے بعدیااللہ،یابَاسِطُ،یاوَھَّابُ،یارَزَّاقُ،یافَتَّاحُ،یاغَنِیُّ،یامُغْنِیْ اکیس مرتبہ پڑھنے کی تلقین کرتے (٣)حدیث کے مطابق مغرب کے بعدسورة الواقعة پڑھنے کی تلقین کرتے
قبولیت دعاکیلئے:
صبح تلاوت کرنے کے بعدقرآن کریم کے شروع میں لکھے ہوئے اللہ کریم کے ننانوے نام تلاوت کرکے دعاکریں مگرپڑھنے کا اندازیوں ہو کہ ہراسم کے ساتھ یالگاکریوںپڑھیں ھُوَاللّٰہُ الَّذِیْ لاَاِلٰہَ اِلَّاھُو،یَارَحْمٰنُ،یَارَحِیْمُ،یَامَلِکُ،یاقُدُّوْسُ آخرتک پڑھیں۔خوب توجہ اورلجاجت کے ساتھ پھر دعاکریں،اللہ تعالی کے فضل وکرم سے دعاقبول ہوگی۔
قوت حافظہ کیلئے :
اکتالیس دن روٹی پر انگلی کیساتھ لکھ کر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ٭رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا٭پھر کھالیں حافظہ بے پناہ ہوگا۔
امتحان میں کامیابی کیلئے :
عین پرچہ دینے کے وقت اول آخرتین مرتبہ درودشریف پڑھیں،درمیان میں تین مرتبہ یااللّٰہُ ٭یَا مُصَوِّرُ٭یَامُبْدِیُٔ ٭یَامُعِیْدُ ٭پڑھ کر سینہ وقلم پر دم کرکے پرچہ لکھناشروع کردیں خوب کامیابی ہوگی،انشاء اللہ ۔
ہرقسم کی بواسیرکیلئے اورموذی زخم یاپھوڑے کیلئے:
مونج کے بان کی ایک گزنئی رسی ہواس پر مرض کی شدت وخفت کے بقدرتین یا پانچ یاسات یا گیارہ گرہیں لگائیں،ہر گرہ لگاتے ہوئے تین مرتبہ یہ آیات وَمَثَلُ کَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ کَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِنِ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَالَھَامِنْ قَرَارٍ٭فَقُطِعَ دَابِرُالْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا٭وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰالَمِیْن٭
پڑھ کر دم کریں اورگرہیں لگاتے جائیں پھر اسی رسی کوپاک پتلے کپڑے میں لپیٹ کر کوڑاکرکٹ کی جگہ پر ایک گزگڑھاکھودکردفن کردیںانشاء اللہ جوںہی رسی گلے گی مرض سے شفاہوگی۔
ہرقسم کے بخارکیلئے:
جمعہ کے دن عصر کے بعدتین مرتبہ سورة المجادلة پڑھ کر مریض کو پانی پلائیں شفاء ہو گی انشاء اللہ اور سات سلام لکھ کر گلے میں بھی ڈالیں اور طشتری پر لکھ کر دیں شدت وخفت کے بقدرہر گھنٹہ یاہرتین گھنٹے کے بعدپلائیں شفاہوگی ،انشاء اللہ۔

مشکل کے حل کیلئے:
اکیس رات عشاء کے بعددورکعت نمازصلاة الحاجت اکیلے کمرے میں پڑھے پھرایک سوایک مرتبہ یَارَبِّ اِنِّیْ مَغْلُوْب فَانْتَصِرْ ٭ آنکھیں بندکرکے اس تصورسے پڑھے کہ یااللہ میں مغلوب ہوں میری مددفرماپھرروکریارونے کی شکل بناکردعاکرے اکیس رات تک کرتارہے خوشخبری سنے گا،انشاء اللہ۔
بینائی کی قوت وحفاظت کیلئے:
ہرنمازکے بعدیَانُوْرُ گیارہ مرتبہ پڑھ کر آنکھوں پردم کرے،بلکہ بندہ راقم کا تجربہ یہ ہے کہ آنکھوں پر دم کرنے کے ساتھ ساتھ دل پربھی دم کرنے سے بصیرت وبصارت دونوں کو تقویت ملتی ہے،مگراس عمل کے نتائج کو حاصل کرنے کیلئے ایک عرصہ تک معمول بناناہوگا۔
ماہواری کو کھولنے کیلئے:
اکتالیس لونگ ٹوپی والے ہوں ان میں سے ہر ایک لونگ پر سات مرتبہ یہ آیت پڑھیںدم کریں اَوْکَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍلُجِّیٍّ یَّغْشٰہُ مَوْج مِنْ فَوْقِہ مَوْج مِنْ فَوْقِہ سَحَاب٭ آخرآیت تک،پھر روزانہ رات کو خاتون ایک لونگ چباکرسوجائے اوپرکوئی چیزکھائے نہ پئے ،انشاء اللہ کشادگی ہوگی۔
معمول سے زیادہ ماہواری کیلئے:
آیت وَقِیْلَ یَااَرْضُ ابْلَعِیْ مَائَ کِ وَیٰسَمَآئُ اَقْلِعِیْ وَغِیْضَ الْمَائُ ٭ تک اول بسم اللہ الرحمن الرحیمآخردرودشریف لکھ کرگلے میں بھی ڈالیں اورطشتری پرلکھ کر اکیس دن تک مسلسل پئیں،انشاء اللہ اعتدال ہوجائے گا۔
امید(جوعرصہ سے نہ ہورہی ہو)کیلئے:
اکیس چھوہارے صاف ستھرے لے کرا ن میں سے ہر چھوہارے پر یہ تین آیات ایک ایک مرتبہ پڑھ کر دم کریں۔
(١)وَالسَّمَائَ بَنَیْنٰھَابِاَیْدٍوَاِنَّالَمُوْسِعُوْن٭ وَاْلاَ رْضَ فَرَشْنٰھَافَنِعْمَ الْمٰاہَدُوْن٭
(٢)اَللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ لَااِلٰہَ اِلَّاھُوْ(٣)رَبِّ لَاتَذَرْنِیْ فَرْدًاوَاَنْتَ خَیْرُالْوَارِثِیْنَ٭
طریقہ استعمال:
یہ ہے کہ جس دن خاتون اپنی ماہواری (حیض)کے بعدغسل کرے اس دن شام کو سات چھوہارے لے کرتین پاؤایسے دودھ میں ڈالیں،کہ اگروہ دودھ گائے کا ہوتو اس کے نیچے بچھڑاہواوراگربھینس کاتواس کے نیچے کٹا(مذکر)ہوآگ پر رکھ کر خوب ابالیں کہ آدھاکلو بچ جائے اس دودھ میں مصری اورزیرہ تھوڑاسااورالائچی خوردڈالیں عشاء کے بعدخاوندبیوی نصف نصف چھوہارے کھالیں اوراسی طرح نصف نصف دودھ بھی پی لیں پھر دورکعت نمازصلوة الحاجت خاوندبیوی دونوں پڑھیں اللہ تعالی سے خوب الحاح وزاری کے ساتھ دعاکریں،اولادنرینہ کے حصول کیلئے پھراکٹھے سوجائیں،ہمبسترہوں اگلی دوراتوں میں بھی اسی طرح عمل کریں اوران تین راتوں کیلئے اس آیت اَللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ لَااِلٰہَ اِلاَّھُوْ٭کی تین ٹکڑیاں لکھ لیں ہررات ایک ٹکڑی خاوندبیوی پانی میں بھگوکرمغرب کے بعدپی لیں اللہ کے فضل وکرم سے انشاء اللہ اس ماہ دن چڑھ جائیں گے،اور امید ہوجائے گی ورنہ دوسرے ماہ یہ عمل پھر کیا جائے دوسرے ماہ امید ہوجائے گی ورنہ تیسرے ماہ یہ عمل کیاجائے مجرب المجرب ہے اللہ کے فضل وکرم سے تین ماہ کے اندراندرسالہاسال کے ناامید پرامیدہوئے صاحب اولاد ہوگئے ان ایام میں صبح شام کے اعمال یہ ہونگے،صبح شام ایک سوایک باررَبِّ لَاتَذَرْنِیْ فَرْدًاوَاَنْتَ خَیْرُالْوَارِثِیْنَ ٭صبح شام ایک سو ایک باررَبِّ ھَبْ لِیْ مِنَ الصَّالِحِیْنَ٭ صبح شام ایک سو ایک باررَبِّ ھَبْ لِیْ مِنْ لَدُنْکَ ذُرِّیَةً طَیِّبَةً اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَائِ٭سوباراَسْتَغْفِرُاللّٰہَ الَّذِیْ لاَاِلٰہَ اِلاَّھُوَالْحَیُّالْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ٭پڑھیں،یہ اعمال بھی خاوندبیوی جاری رکھیں۔
گرد ے وغیرہ کی پتھری کیلئے:
قرآ ن کریم کی آیت لَوْاَنْزَلْنَاھٰذَاالْقُرْآنَ سے لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ٭ تک ہر نماز کے بعداکیس مرتبہ پڑھ کر پانی پر دم کرکے مریض کو پلائیں،بہت جلدی پتھری گھل کر ختم ہوجائے گی اوراسی آیت کا بسم اللہ اول اوردرود شریف آخرمیںلکھ کرگلے میں تعویذ بھی ڈالیں،بفضل اللہ شفاہوگی۔
ہرمرض کیلئے بھلے موذی ہو:
آیات شفائبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ٭ وَاِذَامَرِضْتُ فَھُوَیَشْفِیْن٭ وَیَشْفِ صُدُوْرَقَوْمٍ مَؤْمِنِیْن٭فِیْہِ شِفَآئ لِلنَّاسِ٭وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَاھُوَ شِفَائ
٭وَالَّذِیْنَ آمَنُوْ اھُدًی وَشِفَائ٭وَشِفَائ لِمَا فِیْ الصُّدُوْرِ٭صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ٭ لکھ کر گلے میں ڈالیں اورسفیدطشتری پر لکھ کر مرض کی شدت وضعف کے حساب سے مریض کو تین وقت صبح ظہرعشاء یاہرنمازکے بعدیاہرتین یا ایک گھنٹہ کے بعدباوضوپانی سے دھوکرپلائیں،انشاء اللہ شفاہوگی عجیب چیزہے۔
لاعلاج مرض کیلئے:
فجرکی سنتوںاورفرضوں کے درمیان اکتالیس دن اکتالیس مرتبہ سورة فاتحہ پڑھ کر پانی پر دم کرکے مریض کو پلائیں مسلسل اس طرح پڑھنے سے تسخیربھی حاصل ہوتی ہے ہر مشکل میں مفیدہے مگرپڑھنااسطرح ہے بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم میں اَلرَّحِیْم کی میم کو اَلْحَمْدُکے لام کے ساتھ ملاکرپڑھناہے اگرکبھی فجر کے وقت نینداس وقت کھلے کہ جب صرف فرض نمازپڑھنے کا وقت ہوتوسنت مؤخرکردے،نمازکے بعدمعمول پوراکرے سورج طلوع ہونے کے بعدسنت فجرپڑھ لے توبھی فجر کی سنتوں اورفجرکے فرضوں کے درمیان معمول ہوجائے گا۔
زوجین کے درمیان محبت کیلئے:
ہرنمازکے بعداکیس مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر جس کو محبت نہ ہواس پر دم رکھاجائے یااس کی جانب تصورکرکے دم رکھ لیاجائے۔
جانوروں میں امراض ہوں توسورة المزمل کا روزانہ شام کو کڑادیاجائے،بندہ پڑھتاجائے لکڑی کیساتھ لکیریں لگاتاجائے جہاں سے شروع کیا وہیں پہنچادے انشاء اللہ امراض دورہوں گی شرط یہ ہے کہ جانورایک جگہ کھڑے ہوں۔
چلتی مشینری بند ہوجائے :
تو وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُوْنَ٭ اول آخردوردشریف کے ساتھ گیارہ مرتبہ پڑھ کر دم کردیں اورتعویذبناکرباندھ دیں۔
شہدکی مکھی یا بھڑڈس لے :
تووَاِذَابَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ٭ سات مرتبہ پڑھ کر دم کردیں،دردبھی کم ہوگااورسوجے گا بھی نہیں،انشاء اللہ
دشمنوں حاسدوں سے حفاظت کیلئے:
الَلّٰھُمَّ اِنَّانَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ ٭ دشمنوں کی دشمنی کی شدت اورضعف پر اس کی مقداربڑھائی جاسکتی ہے کم ازکم سات مرتبہ ہے،ھم پردشمن کا تصورکرے،بہت مجرب ہے لاجواب ہے(٢)اگرمزیدشدت ہوتومذکورہ دعاکے ساتھ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ وَھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ٭ بھی اتنی ہی مقدارساتھ ملائے۔ (٣)دیگرسورة الفیل مغرب کے بعدگیارہ مرتبہ پڑھے اورنوکیلی چیزکو زمین پرٹھوکرمارنے کیساتھ یہ آیت ہرمرتبہ میں فَجَعَلَھُمْ کَعَصْفٍ مَأْکُوْلٍ٭ بھی گیارہ بارپڑھے،گیارہ رات یہ عمل کرے ھم پر دشمن کا تصورکرے،یہ اجازتِ خصوصیہ والے اعمال ہیں،ناجائزپرالٹااثرکرتے ہیں،پڑھنے والے کابیڑہ غرق کردیتے ہیں ۔
الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ٭پڑھیں،یہ اعمال بھی خاوندبیوی جاری رکھیں۔
گرد ے وغیرہ کی پتھری کیلئے:
قرآ ن کریم کی آیت لَوْاَنْزَلْنَاھٰذَاالْقُرْآنَ سے لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ٭ تک ہر نماز کے بعداکیس مرتبہ پڑھ کر پانی پر دم کرکے مریض کو پلائیں،بہت جلدی پتھری گھل کر ختم ہوجائے گی اوراسی آیت کا بسم اللہ اول اوردرود شریف آخرمیںلکھ کرگلے میں تعویذ بھی ڈالیں،بفضل اللہ شفاہوگی۔
ہرمرض کیلئے بھلے موذی ہو:
آیات شفائبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ٭ وَاِذَامَرِضْتُ فَھُوَیَشْفِیْن٭ وَیَشْفِ صُدُوْرَقَوْمٍ مَؤْمِنِیْن٭فِیْہِ شِفَآئ لِلنَّاسِ٭وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَاھُوَ شِفَائ
٭وَالَّذِیْنَ آمَنُوْ اھُدًی وَشِفَائ٭وَشِفَائ لِمَا فِیْ الصُّدُوْرِ٭صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ٭ لکھ کر گلے میں ڈالیں اورسفیدطشتری پر لکھ کر مرض کی شدت وضعف کے حساب سے مریض کو تین وقت صبح ظہرعشاء یاہرنمازکے بعدیاہرتین یا ایک گھنٹہ کے بعدباوضوپانی سے دھوکرپلائیں،انشاء اللہ شفاہوگی عجیب چیزہے۔
لاعلاج مرض کیلئے:
فجرکی سنتوںاورفرضوں کے درمیان اکتالیس دن اکتالیس مرتبہ سورة فاتحہ پڑھ کر پانی پر دم کرکے مریض کو پلائیں مسلسل اس طرح پڑھنے سے تسخیربھی حاصل ہوتی ہے ہر مشکل میں مفیدہے مگرپڑھنااسطرح ہے بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم میں اَلرَّحِیْم کی میم کو اَلْحَمْدُکے لام کے ساتھ ملاکرپڑھناہے اگرکبھی فجر کے وقت نینداس وقت کھلے کہ جب صرف فرض نمازپڑھنے کا وقت ہوتوسنت مؤخرکردے،نمازکے بعدمعمول پوراکرے سورج طلوع ہونے کے بعدسنت فجرپڑھ لے توبھی فجر کی سنتوں اورفجرکے فرضوں کے درمیان معمول ہوجائے گا۔

زوجین کے درمیان محبت کیلئے:
ہرنمازکے بعداکیس مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر جس کو محبت نہ ہواس پر دم رکھاجائے یااس کی جانب تصورکرکے دم رکھ لیاجائے۔
جانوروں میں امراض ہوں توسورة المزمل کا روزانہ شام کو کڑادیاجائے،بندہ پڑھتاجائے لکڑی کیساتھ لکیریں لگاتاجائے جہاں سے شروع کیا وہیں پہنچادے انشاء اللہ امراض دورہوں گی شرط یہ ہے کہ جانورایک جگہ کھڑے ہوں۔
چلتی مشینری بند ہوجائے :
تو وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُوْنَ٭ اول آخردوردشریف کے ساتھ گیارہ مرتبہ پڑھ کر دم کردیں اورتعویذبناکرباندھ دیں۔
شہدکی مکھی یا بھڑڈس لے :
تووَاِذَابَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ٭ سات مرتبہ پڑھ کر دم کردیں،دردبھی کم ہوگااورسوجے گا بھی نہیں،انشاء اللہ
دشمنوں حاسدوں سے حفاظت کیلئے:
الَلّٰھُمَّ اِنَّانَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ ٭ دشمنوں کی دشمنی کی شدت اورضعف پر اس کی مقداربڑھائی جاسکتی ہے کم ازکم سات مرتبہ ہے،ھم پردشمن کا تصورکرے،بہت مجرب ہے لاجواب ہے(٢)اگرمزیدشدت ہوتومذکورہ دعاکے ساتھ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ وَھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ٭ بھی اتنی ہی مقدارساتھ ملائے۔ (٣)دیگرسورة الفیل مغرب کے بعدگیارہ مرتبہ پڑھے اورنوکیلی چیزکو زمین پرٹھوکرمارنے کیساتھ یہ آیت ہرمرتبہ میں فَجَعَلَھُمْ کَعَصْفٍ مَأْکُوْلٍ٭ بھی گیارہ بارپڑھے،گیارہ رات یہ عمل کرے ھم پر دشمن کا تصورکرے،یہ اجازتِ خصوصیہ والے اعمال ہیں،ناجائزپرالٹااثرکرتے ہیں،پڑھنے والے کابیڑہ غرق کردیتے ہیں ۔
(٥)بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ٭ یَابُنَیَّ اِنَّھَااِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَکُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْفِیْ السَّمٰواتِ اَوْفِیْ الْاَرْضِ یَأْتِ بِھَااللّٰہ٭ اِنَّ اللّٰہَ لَطِیْف خَبِیْر٭اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْآنَ لَرَادُّکَ اِلٰی مَعَادٍ٭یَاجَامِعَ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَارَیْبَ فِیْہِ٭ اَجْمَعُ عَلٰی ضَالَّةِ فُلَانِ ابْنِ فُلاَنٍ َالّٰھُمَّ اَلِّفْ بَیْنَ قَلْبِ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ اِلٰی جَانِبِ فُلَانِ ابْنِ فُلَانٍ حَبِّبْ حَبِّبْ حَبِّبْ یَاوَدُوْدُیَاوَدُوْدُیَاوَدُوْدُ
فلان ابن فلان کی جگہ آدمی لکھیں اگرآدمی مطلو ب ہو اگرکوئی چیزمطلوب ہوتووہ لکھ دیںکسی گول پہیہ پر صبح وشام اس تعویذ کو ایک گھنٹہ تک گھماتے رہیں سورة فاتحہ بھی پڑھتے رہیں۔
محبت زوجین کیلئے دیگر:
بسم اللہ الرحمن الرحیم٭ اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ٭ وَھُوَاللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ٭اول آخردرودشریف روزانہ کثرت سے پڑھیں۔
محبوب ومطلوب کی حاضری کیلئے:
نوچندی جمعرات کو عشاء کی نمازکے بعدسوتے وقت مٹی کا کوراپیالہ پانی کا بھر کر قبلہ رخ ہوکرسامنے رکھے اورگلے میں کپڑاڈال کر مطلوب کا تصورکرتے ہوئے اول آخردرود شریف گیارہ بار درمیان میں ٤٠مرتبہ آیت فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْالِیْ وَلَاتَکْفُرُوْنِ٭پڑھے پھردعاکرے اورسوجائے عمل کرتارہے ،جب تک مطلوب حاضرنہ ہوجائے ۔
برائے حاضری جنات:۔
سورة المؤمنون کی آخری آیات اَفَحَسِبْتُمْ سے آخرتک تین مرتبہ آیت کریمہ نو مرتبہ سورة الصفت ِمنْ ِطیْنِ لاَّزِبْ٭ تک ایک مرتبہ سورة الحشر کی آخری چارآیات ایک مرتبہ سورة الرحمن
کی یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ آیت مکمل ایک مرتبہ آخری دوسورتیں سات یا نویاگیارہ بارپڑھیں مرد ہوتو انگلی چھنگلی پکڑے،عورت ہو تو بال اگنے کی جگہ پر کپڑارکھ کر تین چارمرتبہ انگوٹھے سے دبائیں پھر جنوں کی حاضری پرمعاہدہ کریں۔
برائے رفع جنا ت بقول جنات:
اللہ الصمد ہزارمرتبہ پڑھیں سورة الملک گیارہ مرتبہ پڑھیں سورة الناس اکتالیس مرتبہ پڑھیںیہ تمام پڑھ کر ملتان کی طرف پھونک ماریں جنات چلے جائیں گے۔
جنات کے شرسے بچنے کیلئے:
حضرت بہلوی کا عمل ہرنمازکے بعد گیارہ مرتبہ آیت الکرسی پڑھ کر دم رکھنا بتلاتے تھے۔

برائے دفع جنات ازکمرہ:
بسم اللہ الرحمن الرحیم وَبُسَّتِ الْجِبَاَلُ بَسًّافَکَانَتْ ھَبَآئً مُنْبَثًّایہ آیت سات مرتبہ لکھ کر کمرہ میں لٹکائیں اور سورة الفاتحہ اور معوذتین لکھ کر مریض کو پلائیں انشاء اللہ شفاہوگی۔
برائے دفع جنات وسحر:
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
کشتگان
خنجر
تسلیم را
خنجر
تسلیم را
ہرزماں
تسلیم را
ہرزماں
ازغیب جانے
ہرزماں
ازغیب جانے
دیگراست
کشت گان خنجر
تسلیم راہرزماں از
غیب جانے دیگراست
اَیُّھَا الْجَانُّ الْمَارِدُوَاخْرُجْ عَنَّا فِانْ لَمْ تَخْرُجْ عَنَّافَاْذَنْ بِحَرْبٍ مِنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ شَاہَتِ الْوُجُوْہُ شَاہَتِ الْوُجُوْہُ وَعَنَتِ الْوُجُوْہُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ وَقَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ
ظُلْمَاوَبُثَّتِ الْجِبَالُ بَثًّافَکَانَتْ ھَبَائً مُنْبَثًاوَخَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلاَتَسْمَعُ اِلَّاہَمْسًا٭ لکھ کر مریض کے گلے میںڈالے۔
برائے دفع سحر وجنات:
بِسْمِ اللّٰہِ ا لرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ٭یَا حَیُّ حِیْنَ لَاحَیَّ فِیْ دَ یْمُوْمَةِمُلْکِہ وَبَقَائِ ہ یَاحَیُّ سَلَام عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ٭یَا نَارُکُوْنِیْ بَرْداً وَسَلَاماً عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ٭ سَلَام قَوْلاً مِنْ رَّبِ رَّحِیْمِ٭سَلَام عَلٰی نُوْحٍٍ فِیْ الْعٰلَمَیْنَ٭ سَلاَم عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ٭سَلَام عَلٰی مُوْسٰی وَہَارُوْنَ٭سَلَام عَلٰی اِلْیَا سِیْنَ٭سَلَام عَلٰی الْمُرْسَلِیْنَ٭سَلَام عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْھَا خٰلِدِیْنَ٭ سَلَام ھِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ٭ یہ تمام لکھ کر مریض کے گلے میں ڈالیں۔
برائے گم شدہ آدمی اورچیزکی واپسی:
چالیس آدمی باوضو ہوکرسورج نکلنے کے بعددورکعت نفل صلوة الحاجت پڑھیں،پھر ہرآدمی سورة الضحی وَوَجَدَکَ ضَالاًّفَھَدٰی٭تک پڑھے اورہرآدمی اس آیت وَوَجَدَکَ ضَالاًّفَھَدٰی٭کو ١٠٠٠بارپڑھے ہر١٠٠مرتبہ پر اِنَّہ عَلٰی رَجْعِہ لَقَادِرْ٭ایک مرتبہ پڑھے اوررَجْعِہ پر مطلوب کی واپسی کا تصورکرے اول آخرتین تین باردرودشریف پڑھیں یہ عمل تین دن متواترکرے عجیب چیزہے ۔
چوری کی وصولی کاعمل:
جس جگہ سے چوری ہوئی ہو اس جگہ پرروزانہ سات مرتبہ، کھڑے ہوکراذان دیں، بہترہے سحری کے وقت دیں ،دوسرے نمبرپہ یہ نقش بنائیں،چاروں کونوں پرلفظ حق لکھ دیں صبح سحری کے وقت اس نقش کو دائیں ہتھیلی پررکھ کر آسمان پردیکھتے ہوئے ١٠١مرتبہ حق حق پڑھیں پھر دعاکریں، یقین سے عمل کریں چورمال گھردے کر جائیں گے،یاوصولی کی غیب سے صورت سامنے آئے گی ،انشاء اللہ ۔
مال کی کثرت کیلئے:
یَاکَثِیْرَالْخَیْرِیَادَائِمَ الْمَعْرُوْفِ یَارَبَّ کُلِّ شَیْئٍ اَسْئَلُکَ بِقُدْرَتِکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ اَلاَّتَسْأَ لَنِیْ عَنْ شَیْئٍ وَاغْفِرْلِیْ کُلَّ شَیْئٍ ہرنمازکے بعد٢١بارپڑھے۔
انتباہ:
ا ن معمولات میں بعض انتہائی حساس ہیں یہ بات پیش نظررہے کہ حضرت والدمحترم کوئی مروجہ عاملوں کی طرح نہ تھے کہ انہوں نے زندگی میں کوئی چلے کاٹے ہوں پھر انکے یہ معمولات کامیاب ہوئے ہوں،بلکہ انکی شخصیت ایک متقی صاحب علم وعمل کی شخصیت تھی اصل جان کسی لکھنے اوربتانے والے کے اعمال کی ہوتی ہے، تو اگرکوئی بے عمل، غیرمتقی شخص ان اعمال کو استعمال کرے ،نتیجہ نہ نکلے یا الٹ نکلے ،تو اپنی علمی وعملی کوتاہی سمجھے ،جس طرح ایک روایتی عاملوں کا جہان ہے اسی طرح ایک جہان علمائ، صوفیاء ،اتقیاء کابھی ہے کہ جنکی ایک نظر،ایک پھونک ،ایک دعاء کی، ایک ارشادکی اللہ جل شانہ کے یہاں اتنی لاج ہوتی ہے کہ اللہ جل شانہ ایسوں کے تصورات وخیالاتِ خیربھی کسی کے بارے میں ہوجائیں تواللہ جل شانہ انکی مشکلات دورفرمادیتے ہیں۔
حضرت ناناجان قطب الارشادمولانامحمدعبداللہ بہلوی قدس اللہ سرہ کے پا س کوئی جنات والامریض آتایاکوئی جنوں کی شرارت کی شکایت کرتاتو اتنافرمادیتے کہ جاؤعبداللہ بہلی والے کے سلام کہہ دو،جنات اس آدمی کا گھرعلاقہ چھوڑکرچلے جاتے تھے،پھر یہ معمولات اکثرایسے ہیں کہ حضرت والدمحترم کے القائی ہیں یااللہ والوں سے لئے ہوئے ہیں یاانکے دیئے ہوئے ہیں لہذاان اعمال کواگراعتماد، اعتقادوتقوی کے قیام کے ساتھ کیاگیاتوضروربالضرورذود
اثرونتیجہ ثابت ہونگے،انشاء اللہ ۔
مرض الوفات:
حضرت والدمحترم کو غالبا١٩٩٩٥ئسے شوگرجیسی موذی مرض لگ چکی تھی قبل ازیں ١٩٩٠ئمیں ٹی بی کے مریض رہ چکے تھے،جس کے جراثیم پوری طرح اس وقت علاج معالجہ سے ختم نہ ہوسکے تھے، آخر٢٠٠٧ئ غالباجنوری کے آغازسے ہی شوگرکااتارچڑھاؤبہت زیادہ ہو ااس دوران ہچکی بھی شروع ہوگئی،چار پانچ ماہ ہچکی کے علاج کراکراکرتھک گئے چوبیس گھنٹے پریشانی میں گزرتے اخیرمیںایک دوست نے ہچکی کا علاج کچاپیازسونگھنے کا کہاتواللہ جل شانہ کے فضل وکرم سے شفاء ہوگئی وگرنہ ایک مرتبہ تو ڈاکٹروں نے جواب دے دیاتھا ، متعددڈاکٹراسکو مرض ہی تسلیم نہیں کرتے تھے۔
پھرکان کا دردشروع ہوگیا،جس نے تین چارماہ پریشان کیا، متعددطبیبوں سے علاج کے بعد خداتعالی نے اپنے وقت مقررہ پر شفاعطافرمائی،اس دوران ٹی بی کی شکایت ہوگئی اس کا کورس چار ماہ تک رہا،تاآنکہ شوگربے قابوہوگئی جس کی وجہ سے نقاہت نے گھیرلیابس مسلسل یوں امراض نے گھیرلیاآخرکارشوگرکااتناسخت حملہ ہواکہ گردے ختم ہوگئے۔
اللہ والوں کو تکلیف کیوں آتی ہے؟
مشکوة ص١٣٧ج١میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایابندہ کیلئے اللہ تعالی قرب کا ایک مقام متعین فرمادیتے ہیں،لیکن بندہ اس مقام تک اپنے عمل کے ذریعہ نہیں پہنچ سکتااللہ تعالی ایسے شخص کو (مطلوبہ مقام حاصل کرنے کیلئے)آزمائش میں ڈالتے ہیں اورمصائب اسکی جان مال اوراولادمیں ہوتے ہیں پھر خوداللہ ایسے شخص کو صبربھی ان مصائب پر عطافرماتے ہیں، یہاں تک کہ اس آدمی کو اس مرتبہ تک پہنچادیتے ہیں جو اللہ جل شانہ نے طے کررکھا ہوتاہے ، بس یونہی محسو س ہوتاتھا لگاتارامراض پہ امراض آتی گئیں۔
ایام مرض کی کیفیات:
جب تک بیٹھ کر بول سکتے تھے پڑھاتے رہے حتی کہ جن دنوں کان میں دردتھا تو جمادی الاخری اوررجب کے ایام تک اسباق پڑھاتے رہے کان مین شدیددردہوتاتھا ایک ہاتھ کان پررکھ کر سبق پڑھاتے دیگردوستوں نے بھی روکاکہ حضرت تدریس مؤخرکردیں مگرکسی کی نہ سنتے ذراسی ہمت ہوتی تودرسگاہ میں آجاتے۔
تدریس کا ترک بھی تکلیف تھی:
عام ایام میں بھی یہ معمول تھا کہ جب تک درسگاہ میں جاسکتے توناغہ نہ کرتے بعض اوقات شدیدبخارمیںپڑھاتے بھی کوئی طالب علم بخارکی رخصت مانگتاتواپنابخاربتلاکرپڑھنے کی ترغیب دیتے کہ میں پڑھارہاہوں اس مرض میں توآپ کیوں نہیں پڑھ سکتے، ایک مرتبہ مرض کی شدت میں بندہ نے بے تحاشااصرارکیاکہ حضرت آپ کی تکلیف اس قدرہوگئی ہے اس قدرتکلیف میں توشریعت بھی مریض کی نسبت سے سہولت پیداکردیتی ہے،بند ہ کے بے حداصرارکاایک جواب دیا کہ نہ پڑھاؤںتومرض کی تکلیف سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے میں مجبورہوں ،بندہ نے اپنی عمرمیں یہ واحدبندہ دیکھا جو اپنے کام کے ساتھ اپنی جان سے بھی زیادہ مخلص تھا،بس اسکے بعدبندہ نے کبھی بھی ایام مرض میں پڑھانے سے رکنے کی درخواست نہیں کی۔
فنا فی التدریس :
اورحقیقت یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے دین کے ہر شعبے کو ایسے ایسے کچھ افراددیئے ہیں جو اس شعبہ میں فناء ہوکراس شعبہ کو جلابخشتے ہیں،بس یوں لگتاہے کہ شعبہ تدریس کو بلندکرنے کیلئے جہاں اللہ جل شانہ نے اوربہت سے لوگوں کو پیداکیاوہیں اس فناء فی التدریس شخصیت کو بھی پیداکیایہ وہ عظیم شخصیت تھے کہ نہ صرف اس میدان میں خودفناء ہوئے بلکہ تدریس ہی میں فنا ہونے والی ایک بڑی کھیپ تیارکرکے گئے بس ایک بات سکھانااپنا اہم فریضہ سمجھتے تھے کہ پڑھنے پڑھانے میں اتنی محنت کروکہ جان کھپ جائے اوراس ذوق میں کامیابی ان کو تب ہوئی جبکہ اپنی صحت، جان، مال دنیاکی ہرقسم کی راحت حتی کہ اپنی اولادتک کو اس پر قربان کرکے چلے گئے اسی وجہ سے مانے گئے زمانہ نے تسلیم کیاکہ واقعی یہ فناء فی التدریس تھے۔
رضابالقضاء اورصدقہ:
سخت تکلیف میں بھی پراطمینان کیفیت میں ہوتے واویلاہائے وائے کی مطلق طبیعت نہ تھی،گویارضابالقضاء کامقام حاصل تھا،جب بھی بیماری کی وجہ سے علاج کیلئے ملتان جاناہوتاضرورصدقہ کرنے کا حکم دیتے ویسے یہ زندگی بھر کا معمول تھا کہ جب بھی ہم اولادمیں سے کوئی مریض ہوتایا خود!پہلے صدقہ کرتے کراتے پھر دوائی کیلئے ڈاکٹرسے رابطہ کراتے۔
نیکی کے جذبات :
آخری رمضان المبارک ٢٠٠٧ئ،١٤٢٧ھ میں نقاہت چونکہ بہت زیادہ ہوگئی تھی مگرپھربھی روزہ رکھ لیتے تھے فرماتے بچوں نے روزہ رکھاہوتاہے مجھے شرم آتی ہے مگرنقاہت جب شدیدہوگئی توایک دن بندہ نے بے حداصرارکیاکہ حضرت آپ روزہ نہ رکھیں اس وقت آپ اس مرض میں روزہ کے مکلف نہیں ہیں،بلکہ فتاوی شامیہ اٹھاکرلایااوروہ عبارت دکھائی کہ جس آدمی میں ہمت نہ ہواوروہ روزہ رکھے تو گنہگارہوجاتاہے پھر فرمایااچھاکل سے نہ رکھوں گاچنانچہ ایساہی ہواہوتایہ تھا کہ آدھی چپاتی کھاتے اوراس پر چوبیس گھنٹے گزارتے۔
اوررات کو بیٹھ کر تراویح میں قرآن سنانابھی شروع کیا چونکہ جس چیزکا زندگی بھراہتمام رہااب اسکو چھوڑناان کیلئے بہت مشکل تھا،ساری زندگی میں صرف یہی غالباچودہ روزے تھے جو رہ گئے تھے جن کا فدیہ بندہ نے اداکردیاتھا۔
آخری وصیت:
غالبا٦فروری ٢٠٠٨ء کی بات ہے بندہ صبح حضرت والدمحترم کے پاس گیاتوفرمایامحمداحمدکسی وقت کاغذلاؤمیں کچھ وصیت لکھوادوں،بندہ شام مغرب کے بعد پہنچاتوفرمایا(١)میری جائیداد کا ثلث وقف کردیناجامعہ کے نام(٢)جامعہ مشاورت سے چلانا(٣)میراجنازہ یہاں قاری محمدعبداللہ صاحب پڑھائیں گے گاؤں چک ٥٩۔١٥ایل میں آپ پڑھائیں گے،بند ہ راقم کوفرمایا۔
مسئلہ تدفین:
بندہ نے عرض کیا کہ کیاآپکوہم چک لے جائیں گے فرمایااورکیاکروگے،بندہ نے عرض کیاکہ آپکو یہیں جامعہ میں رکھیں گے،فورافرمایاکہ یہ مدرسہ کی جگہ ہے اس میں میری تدفین جائزہے؟بندہ نے عرض کیاکہ جتنے بڑے مدارس ہیں انکے بانی وہیں سوئے ہوئے ہیں،مثلامفتی محمدشفیع صاحب دارالعلوم کراچی میں مولانامحمدیوسف بنوری صاحب مدرسہ بنوری ٹاؤن میں،مولاناعبدالحق ،حقانیہ اکوڑہ خٹک میں مولاناخیرمحمدجالندھری خیرالمدارس میں مولانا عبدالخالق دارالعلوم کبیروالا میں سبحان اللہ ساری زندگی جو مدرسہ کے مال کوپھونک پھونک کر استعمال کرتے رہے،اب بھی فکردامن گیرہے پھرفرمایاعلماء سے مشورہ کرلینابندہ نے پھرانہی دنوں باضابطہ دارالعلوم کراچی سے فتوی منگوایاجس میں انہوں نے درج فرمایاکہ اگرزمین جو موقوفہ مدرسہ کیلئے ہے اگرتومدرسہ مسجداورانکی ضروریات کیلئے وقف ہے تو ایک جگہ قبرستان کے طورپرمنتخب کرکے اسمیں بانی جامعہ کی تدفین کی جاسکتی ہے،واقعہ یہ ہے کہ یہ یکصدساٹھ کنال رقبہ جامعہ اوراسکے مصارف کیلئے ہی وقف ہے تو بندہ نے ایک جگہ مختصرٹکڑاجامعہ کے خیرخواہ سداوفاداروں کیلئے منتخب کیااسمیں حضرت والدمحترم کی تدفین عمل میں آئی بندہ نے آخرمیں پوچھاکہ آپکی کوئی خواہش جس کو ہم آپ کے بعدپوراکرنے کی کوشش کریں فرمایااخلاص اوراللہ کی رضا!
آخری تین دن:
١٣فروری ٢٠٠٨ء کے ایام معالج ڈاکٹرغلام مصفطی صاحب کی مشاورت سے لائف پولی کلینک میں گزرے نگرانی ڈاکٹرغلام مصطفی صاحب کی ہی رہی خوب انہو ں نے قدراورمحبت سے تقریبادوسال تک علاج کیا،مگران ایام میں غنودگی کی کیفیت رہی جب بھی ہوش آتاتویہ رضیت باللّٰہ رباوبالاسلام دیناوبمحمدنبیاپڑھتے بٹھایاجاتاتونمازشروع کردیتے تھے۔
١٥فروری صبح جمعہ کے دن ہم چاروں بھائی آپ کے پاس تھے تو بندہ نے داڑھی پر کنگھادیاشیشہ دکھایاعرض کیاکہ کتنے اچھے لگ رہے ہو،خوش ہوئے فرمایاعجوہ کھجوراورآب زمزم پلاؤحضرت قاری محمدعبداللہ صاحب مدظلہ کو بندہ نے فون کیا چونکہ قریب تھے،کہ یہ حضرت کی خواہش ہے ، توفوراوہ گھرسے لائے بندہ نے کھجوراورزمزم پلایایہ آخری دنیاکی خوراک تھی جو آپ نے کھائی اورپی۔
آخری گفتگو:
تقریباصبح نوبجے کا وقت تھا کہ بندہ اوردیگربھائی موجودتھے بندہ کو بالخصوص بلایامحمداحمدبندہ نے کہا جی ابوجی کیا حکم ہے دیکھتے رہے پھربلاتے محمداحمدبندہ یہی جملہ دوہراتااورعرض کرتاحضرت کوئی تکلیف ہے؟درد ہے؟مگرانتہائی متوجہ ہوکردیکھتے رہتے پھر بلالیتے یوں کوئی آٹھ مرتبہ بلایاہوگابندہ بھی متوجہ رہااورحضرت والدمحترم بھی ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے رہے یوں محسوس ہورہاتھا کہ جیسے روحانی طورپرچیزوں کا انتقال فرمارہے ہوں،بحمداللہ ان خصوصی توجہات کی برکات اب تومحسوس بھی ہورہی ہیں،آخری مرتبہ بلایامحمداحمد،بندہ نے عرض کیا جی ابوجی فرمانے لگے ذرا محتاط طریقہ کے ساتھ ذرامحتاط طریقہ کے ساتھ ذرامحتاط طریقہ کے ساتھ تین مرتبہ یہ جملہ دہراکرآنکھیں بند کرلیں تشہدکی حالت میں جس طرح شہادت کی انگلی تشہد پرکھڑی کرنے کی عادت تھی کھڑی کئے ہوئے غنودگی میں سوگئے اس کے بعدکوئی اوربات زبان سے نہ کی۔
حسن خاتمہ:
بعدازجمعہ ڈاکٹرحضرات نے بھی خطرہ کا الارم بجادیاکہ اب امیدنہیں ہے کیونکہ گردے بالکل ختم ہوگئے ہیں،اس دوران قدرتی طورپرسانس کی یوں کیفیت جاری ہوگئی کہ اللہ اللہ کا ذکرشروع ہواجوواضح طورپرتمام دوستوں نے محسوس کیاشہادت کی انگلی سیدھی باقی انگلیاں بنداورمسلسل اسم جل جلالہ کے ذکرکی کیفیت رہی رات تقربیادس بجے روح انکے پاس چلی گئی،جنہوں نے پینسٹھ سال تک اس جسم میں رہنے کا حکم دیا تھا اناللّٰہ واناالیہ راجعون،ان للّٰہ مااخذولہ مااعطی وکل شئی عندہ باجل مسمی فلتصبرولتحسب۔
چہر ے کی رونق:
عرصہ درازسے امراض میں پساہواوجودپرسکون ہواچہرے پررونق یکایک چھاگئی چہرہ انوراتناپرنوراورپُرصحت ہواکہ تصورنہیں کیاجاسکتاتھا کہ چندلمحات قبل جو بیمارچہرہ تھاوہی ہے یاکوئی اور؟جن حضرات نے بھی آخری دیدارکیاہے ان سب نے یہ گواہی دی کہ خوب انوارات کی بارش ہورہی ہے۔الّٰلھُمَّ اغْفِرْلَہ وارْحَمْہُ وَعَافِہ وَبَرِّدْمَضْجَعَہ وَنَوِّرْمَرْقَدَہ اَبَدًااَبَدًا،آمین۔
ایام مرض میں دلجوئی کرنے والے:
یوں توبہت تھے مگرچندنے خدمت وممارست کی حدکی،جن میں سرفہرست حضرت قاری محمدعبداللہ صاحب ملتانی زیدمجدھم ہیں انکی وفاداری بے مثال رہی ہم بھی ان کی مشاورت کوترجیح دیتے تھے،ہمارے بھائی قاری محمدصدیق شجاع آبادی جو کہ ہر وقت حاضر ہوتے تھے،اورہمارے مخلص بھائی قاری محمداصغرصاحب ان کا حضرت والدمحترم کے ساتھ خون کا گروپ مل گیاتھا انہوں نے خون بھی دیا تھا بہت خدمت کی اورمولوی خلیل احمدلودھروی نے بھی ہم بھائیوں کے ساتھ مل کر خدمت بیٹوں کی طرح کی گھرمیں والدہ محترمہ اورہمشیرہ صاحبہ نے بھی خدمت کاحق اداکردیا اللہ تعالی ان سب کو اپنی شایان شان اجرجزیل عطافرمائیں آمین۔
یوں رات تقریباگیارہ بجے ہم ایمبولینس کے ذریعہ جامعہ میںپہنچے طلبہ بہت پہلے اپنے عظیم استاذکے جسدخاکی کا استقبال کرنے کیلئے روڈپرآئے دھاڑیں مارمارکررورہے تھے،بندہ نے فورااساتذہ کرام کا اجلاس کیااگلے دن کے نمازجنازہ اورمہمانوں کے انتظام سے متعلق تقسیم کارکی۔
١٨فروری ٢٠٠٨ء صبح بروزہفتہ ایک انسانوں کا جم غفیرامڈآیاچونکہ ١٨فروری کو پاکستان میںقومی الیکشن تھے اس وجہ سے عمومی ٹرانسپورٹ اوربسیں بند تھیں مگرعشاق نہ جانے کیاکیا مشقتیں برداشت کرکے پہنچے نمازجنازہ کا وقت دوبجے دن طے ہوا۔
ہرآنکھ اشک بارمایوسی کا شکار:
یہ بات زبان زدعام تو حضرت والدمحترم کی زندگی میں ہواکرتی تھی کہ اس جامعہ اشرفیہ مان کوٹ کی زندگی حضرت استاذمولانامحمداشرف شاد کی زندگی کے ساتھ ہے کہ اس جنگل میں کون آئے گا؟ بالخصوص حضرت کی وفات کے دن تو ہرایک کے دماغ اورزبان پر یہ بات سوارہوگئی تھی، عوام ہوں یاعلمائ، سب کی اکثریت تقریبایک زبان تھی تو اس ماحول میں جامعہ کے دارالضیوف میں مقتدرجیدعلماء کرام کا اجلاس ہوا ۔
نمازجنازہ سے قبل اہم اجلاس:
اس اجلا س کی صدارت ہمارے مشفق سرپرست مولاناحکیم العصرعبدالمجیدصاحب لدھیانوی زیدمجدھم نے کی،اس اجلا س میں جوحضرت حکیم العصرنے ارشادفرمایااسکا حاصل یہ تھا کہ دارالعلوم کبیروالاکو قائم کرنے کے بعدحضرت مولاناعبدالخالق صاحب دس سال زندہ رہے انکی دس سالہ دعاؤں کا اثریہ نکلا کہ دارالعلوم کبیروالانے روزافزوں ترقی کی جامعہ اشرفیہ مان کوٹ قائم کرنے کے بعدمولانامحمداشرف شاد بیس سال زندہ رہے ہیں مولاناکی بیس سالہ دعائیں اس جامعہ کوحاصل ہیںیہ جامعہ اتنی ترقی کرے گا کہ جس کا اب آپ تصورنہیں کرسکتے ،حضرت کے اس ارشادکی وجہ سے بندہ کو بہت تسلی ہوئی ،نیزفرمایاجامعہ اشرفیہ مان کوٹ کے اہتمام کے سلسلہ میں دورائے نہیں مولوی محمداحمدانورہی مہتمم ہونگے چنانچہ آپ کے اس ارشادکی تحسین کی گئی،تمام علماء نے آپ کی اس رائے کے ساتھ اتفاق کیا ،جنازہ سے قبل اہتمام کے اعلان کا فیصلہ کیا۔
دستاربندی:
حسب فیصلہ جنازہ سے پہلے حضرت حکیم العصرمولاناعبدالمجیدصاحب مدظلھم نے راقم کی حضرت والدمحترم کے رومال کے ساتھ دستاربندی کرتے ہوئے اہتمام کی عظیم ذمہ داری کا اعلان کیا بندہ سے حکم فرمایاکہ اس جم غفیرمیں آئے ہوئے اپنے اباکے تمام متعلقین تلامذہ واکابرکے سامنے آپ اعلان کریں کہ آپ ہمیشہ انکے ساتھ نیازمندی کاتعلق رکھیں گے بندہ نے حسب حکم مکمل زندگی عمل کی نیت کیساتھ اعلان کیا اس اہتمام کی بعدمیں شوری نے بھی توثیق کردی ۔
جنازہ اپنے وقت سے تقریباایک گھنٹہ مؤخرہواحضرت اقدس علامہ عبدالستارتونسوی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے حکم کی وجہ سے کہ میں طویل سفرکرکے جنازہ میں شرکت کیلئے آرہاہوں تواس وقت میں جیداکابرعلماء کے بیانات ہوئے تمام نے حضرت شاد کی دینی ملی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ۔
وصیت کا اعلان:
حضرت والدمحترم کی وصیت کے مطابق کہ میرے جنازہ میں یہ اعلان کردیا جائے کہ زندگی میں جن طلبہ کو اصلاح کی خاطرماراتھا سب اللہ کی رضا کیلئے مجھے معاف کردیں یہ اعلان جب کیا گیاتوتلامذہ کی چیخیں نکل گئیں یوں پرنم آنکھوں کیساتھ نمازجنازہ کیلئے تیارہوئے۔
پورے ملک سے معتقدین ومتوسلین حفاظ ،قرائ، جیدعلماء ومشائخ طریقت اورمفتیان عظام جنازہ میں شریک ہوئے گردوپیش کے تین چارڈویژنوں کے مدارس میں عام تعطیل ہوگئی تھی تمام حضرات نے جوق درجوق شرکت کی فجزاھم اللہ احسن الجزاء آمین۔
نمازجنازہ کی امامت حسب وصیت حضرت قاری محمدعبداللہ صاحب ملتانی مدظلھم نے کی۔
تدفین تقریباساڑھے تین بجے احاطہ جامعہ میں عمل میں آئی بندہ توبے حدنڈھال تھا چھوٹے عزیزمولوی محمدعثمان مکی اورمولاناداؤداحمدمیواتی مدظلہم نے لحدمیں اتارابعدازتدفین حضرت مولاناذوالفقاراحمدنقشبندی زیدمجدہم کی دعاء ہوئی ۔
تعزیتوں کا سلسلہ:
ایک عرصہ تک تعزیت کا سلسلہ رہامگرتین دن تک حسب سنت اہتمام کیا گیا مگربعدمیں جب کوئی آتاسبق چھوڑکرمہمانوں کا اکرام کرلیاجاتاتھا ۔
پرزخم تعزیت:
تعزیت کا معنی ہے تسلی دینامگریہاں صورت حال الٹ تھی کہ ٩٨فی صدلوگ جو تعزیت کی نیت سے آتے تھے ،وہ زخم لگاکرجاتے تھے اب تو اس جامعہ کی اخیرہوگئی اب ہم دیکھیں گے کہ آپ کیپاس کون پڑھنے آتاہے؟ اب پتہ نہیں کہ کوئی یہاں چندہ بھی دیگا کہ نہیں؟اب آپ کو پتہ چلے گا؟ اب دیکھتے ہیں کہ تم مدرسہ کیسے چلاتے ہو؟بہت سے دوستوںنے توبندہ راقم سے خودکہاکہ ہم جنازہ کے دن فیصلہ کرچکے تھے کہ اس جامعہ کے اب دروازے بندہوجائیں گے،یہ تھے وہ تعزیتی جملے جو بکثرت ہم نے اپنے کرم فرماؤں سے سنے ان ایام میں عجیب شکستگی کی کیفیت تھی بکثرت بارگاہ ذوالجلال میں خوب رونانصیب ہوااس حدیث قدسی کی سچائی کی نسبت سے یقین کا اضافہ ہواکہ اناعندالمنکسرة قلوبھم اللہ جل شانہ فرماتے ہیں،کہ میں ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس ہوتاہوں۔
حوصلہ بڑھانے والے:
دوفی صداحباب نے بہت قیمتی جملوں سے تسلیاں دیں سرفہرست جن کا نام ہے وہ حضرت حکیم العصرمولاناعبدالمجیدلدھیانوی صاحب مدظلھم ہیں بہت تسلی دی خوب سرپرستی کی جب بھی آپ کی زیارت کو گیا، حوصلہ بڑھاکرواپس بھیجا۔اس طرح جامعہ کے فیض یافتہ حضرت مولاناحبیب اللہ تونسوی مدظلہ نے آکرایک جملہ کہااس سے بہت حوصلہ ہوابندہ سے کہنے لگے کہ جب میں نے حضرت استاذمحترم کے انتقال کی خبرسنی تومجھے یقین ہوگیاتھا کہ اللہ تعالی محمداحمدانورسے ضرورکام لیں گے کیونکہ اللہ تعالی نے آپکو بے سہاراکردیا ہے اوراللہ تعالی جب کسی کو جلدی بے سہاراکرتے ہیں تو اس سے کام لیتے ہیں،اسی طرح بندہ کے مخلص رفیق حضرت مولاناگل زمان صاحب ڈیروی نے بندہ سے ایک جملہ بول کرتعزیت کی کہ اللہ تعالی آپ کو جلدی ترقی عطافرماویں گے،اس لئے کہ پہلے آپکوفقط آپ کے والدمحترم کی توجہات حاصل تھیں اب بہت سے اکابرین آپ کی طرف متوجہ ہونگے بالکل بجابات ثابت ہوئی ایک مرتبہ بندہ سے حضرت استاذمولانامحمدنوازصاحب مدظلہم فرمانے لگے کہ جب سے حضرت مولانامحمداشرف بیمار ہوئے ہم آپکی طرف خوب متوجہ رہتے ہیں۔یوں مرشدی حضرت اقدس سیدجاویدحسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی خصوصی شفقتیں اورتوجہات نصیب ہوئیںبندہ کے حضرت شاہ صاحب مرشدثانی ہیں مرشداول حضرت اقدس سیدنفیس الحسینی قدس سرہ تھے اس عظیم روحانی باپ کا غالباپانچ فروری کوانتقال ہواپندرہ کو عظیم حقیقی باپ کا انتقال ہوا۔
ایک ماہ میں رحمتوںکا سایہ اٹھابس مارچ میں بندہ نے اپنے حضرت مرشدثانی زیدمجدھم سے بیعت کا تعلق قائم کیا سکون نصیب ہواخصوصی توجہات اوردعاؤں سے نوازاجاتاہوں،ٹھیک بیعت کے ایک ماہ بعدجامعہ میں تشریف لاکرمجلس ذکرشروع کروائی،روزانہ بعدازعشاء بھی ذکرکااہتمام کرایا،حکماان سلسلوں کو جاری رکھنے کاحکم دیا،ازخودلوگوں کو شرکت کی تلقین کی ،بس اللہ جل شانہ کے پاک ذکر،نے لگتاہے ساری کمیاں پوری کردیںفجزاھم اللہ احسن الجزائ۔
قلندرہرچہ گویددیدہ گوید
حضرت والدمحترم کی یادروبہ ترقی:
حضرت والدمحترم کی زندگی بھر کی دعاؤں اوراخلاص کی برکات ظاہرہوناشروع ہوئیں حضرت حکیم العصرمدظلہم کے جملے سچے ہوئے محض اللہ جل شانہ کافضل وکرم شامل حال ہواجامعہ اشرفیہ مانکوٹ روبہ ترقی ہوا۔درج ذیل شعبہ جات جوحضرت والدمحترم کے بعدقائم ہوئے (١)شعبہ کمپیوٹر(٢)شعبہ فری ڈسپنسری(٣)شعبہ فہم دین کورس(٤)شعبہ قرأت عشرہ(٥)شعبہ عربی وانگلش لینگویج کورس(٦)شعبہ خطاطی
اہم ترین سعادت باری تعالی نے یہ بخشی کہ دورہ حدیث شریف کااجراء ہواتعلیمی درجات کی تکمیل ہوئی حدیثی برکات نصیب ہوئیں بحمداللہ اب تیسری جماعت دورہ حدیث شریف سے فارغ ہورہی ہے۔شعبہ تحفیظ میں اضافہ ہواجامعہ مسجد جامعہ اشرفیہ کا توسیعی کام ہواجامعہ کا معرکة الآراء مسئلہ چاردیواری کاآغازہوابیشترحصہ مکمل ہوگیاہے،بحمداللہ بیشترحصہ تشنہ تکمیل ہے۔
ملتان میں شاخ کے قیام کیلئے اللہ تعالی نے عمدہ محل وقوع میںایک کنال جگہ خریدنے کی توفیق بخشی مزیدکی بارگاہ ایزدی میں درخواست جاری ہے یوں جامعہ کا( محض اورمحض اللہ ہی کے فضل وکرم سے) ہر اگلادن پہلے سے بہترکی طرف رواں دواں ہے الحمدللہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات لک الحمدولک الشکر۔
حضرت والدمحترم کے صدقات جاریہ:
صحیح مسلم کی روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اذامات الانسان انقطع عملہ الامن ثلثة الامن صدقة جاریة اوعلم ینتفع بہ اوولدصالح یدعولہ بحوالہ مشکوة ص٣٢ج١کہ جب انسان اس دنیاسے رخصت ہوجاتاے تو اس کاعمل ختم ہوجاتاہے مگرتین چیزیں (١)صدقہ جاریہ(ایساصدقہ جس سے مسلسل نفع اٹھاجارہاہو)یاایساعلم (چھوڑے)جس سے نفع اٹھایاجارہاہویانیک بیٹا(چھوڑے)جو اسکے کیلئے دعائیں کرتارہے الحمدللہ حضرت والدمحترم نے حدیث بالامیں مرقوم تینوں قسم کے اعمال اپنے لیے چھوڑے ہیںاوراول کا مصداق یہ عظیم ادارہ جامعہ اشرفیہ مانکوٹ ہے بجاطورجہاں واقفین اراضی کیلئے صدقہ جاریہ ہے وہیں حضرت والدمحترم کیلئے بھی ہے بلکہ ان واقفین کیلئے بھی اس جامعہ کا اجرآپکی محنتوں سے ہی ثابت ہوااسی طرح متعددمساجدایسی ہیں جنکی جگہ خریدکرحضرت نے وقف کی یاانکی تعمیرمیں حصہ ملایایانلکے لگوائے جو کہ بندہ کے علم میں ہیں یہ بھی صدقہ جاریہ ہیں،دوسرے کا مصداق آپ کے تلامذہ ہیں،جنہوں نے براہ راست آپ سے علم حاصل کیا اورخدمات دینیہ میں مصروف ہوکراپنے استاذمحترم کا فیضان آگے منتقل کرنے میں لگے ہوئے ہیں،بلاشبہ آپ کے بالواسطہ اوربلاواسطہ مطلق تلامذہ کی تعدادلاکھوں میں ہے، تیسرے نمبرکا صدقہ جاریہ بھی بجاطورپرآپ نے اپنے لئے چھوڑاہے اپنی تمام اولادکو حافظ قاری عالم مفتی استاذبناکرگئے یقیناان تمام کی نیکی آپ کی نیکی ہے اللہ تعالی ہر مسلمان کو ایسے ہی صدقات جاریہ چھوڑکرہی اس دنیاسے جانے کی توفیق دیں آمین ثم آمین۔
حضرت شاد کے مشہورشاگرد:
یوں تو جیسے مرقوم ہواہے کہ آپ کے بلاواسطہ تلامذہ ہزاروں سے بھی متجاوزہیں مگربہت سوں نے اپنے کاموںکی نسبت سے ایک نام پیداکیاہے ،پھرچونکہ حضرت والدمحترم کا میدان تدریس رہاہے اپنے تلامذہ کو بھی تدریس ہی کی ہمیشہ تلقین کرتے تھے اسی لئے آپ کے جو مشہورتلامذہ ہیں ان میں سے اکثرمیدان تدریس کے شہسوارہیں اسی لئے انکی شہرت کا اندازہ اہل علم کو توہوسکتاہے اوروں کو نہیں،حضرت والدمحترم بھی خواص میں باکمال شمارکیے جاتے تھے بہرحال بلاواسطہ تلامذہ میں سے اشہر ترین تلامذہ (١)مولاناپیرذوالفقاراحمدنقشبندی(٢) مفتی ظفراقبال صاحب کہروڑپکا (٣)مولاناقاری حق نواز صاحب دارالعلوم الصفہ سعید آبادکراچی (٤)مولاناقاری عبداللہ صاحب ملتانی(٥)مولانامحمداسماعیل ارشد صاحب دارالعلوم کبیروالا (٦)مولاناعبدالرشید بلال صاحب (٧)مولانااسعدمیاں ناظم جمیعت علماء برطانیہ (٨)مولاناعالم شیر صاحب ڈیفنس کراچی(٩)مولاناقاری صدرالدین شجاع آباد(١٠)مولانارب نواز ہراجصاحب(١١)مولاناعبدالغفارصاحب تونسوی(١٢)مولاناانیس الرحمن درخواستی مرحوم(١٣)مولاناقاضی خلیل احمدصاحب داربن ڈیراسماعیل خان(١٤)مولاناشیرزمان سنجاوی بلوچستان(١٥)مولانامفتی عطاء اللہ صاحب کراچی(١٦) مولاناسیف الرحمن صاحب عمربن خطاب ملتان(١٧)مولاناغلام رسول صاحب فیصل آباد(١٨)مولانافضل الرحمن درخواستی (١٩)مولاناسیدطارق علی شاہ برطانیہ(٢٠) مولانابختیارحسین بنگلہ دیش (جو کہ ماشاء اللہ اس وقت بنگلہ دیش میں چھ صدمدارس ومکاتب کے منتظم ہیں، حضرت والدمحترم سے سات سال پڑھاہے) (٢١)مولاناعبیداللہ پشاوری امیرتبلیغ دبئی(٢٢)مولاناداؤداحمدمیواتی گوجرانوالہ(٢٣)مولانازبیراحمدصدیقی صاحب شجاع آباد(٢٤) مولانامحمد نواز بلوچ(٢٥) مولانا منظور احمدلاہور (٣٦) قاری سعیداحمدمرحوم لاہور(٢٧)مفتی محمدحسن لاہور(٢٨)مولانامحمدسلیم صاحب (٢٩)مولانا عبدالحمیدصاحب خیرالمدارس ملتان(٣٠) میاں زبیراحمددین پوری صاحب(٣١) مولانا نجم الحق صاحب خیرالمدارس ملتان(٣٢)مولاناقاری محمدیٰسین صاحب میلسی(٣٣) مولاناعبداللطیف صاحب موسی خیل حال مقیم لورالائی(٣٤) مولاناقاری محمدطارق صاحب ڈیرہ اسماعیل خان (٣٥)مولاناکمانڈرزبیراحمدخالد شہید (٣٦)اسیرہندمولاناکمانڈرنصراللہ لنگڑیال صاحب (٣٧)مولانااللہ وسایاقاسم شہید(٣٨) مولانامفتی اعجازاحمدصمدانی (٣٩)مولاناسلیم احمدصاحب یاکیوالی(٤٠)مفتی محمدعبداللہ صاحب وہاڑی (٤١)مولانا مفتی کمال الدین صاحب لاہور(٤٢)مولاناحبیب الرحمن صاحب تونسہ (٤٣) مفتی محمدعثمان صاحب چیچہ وطنی ہیں۔
سچ یہ ہے کہ آپ کے صالح اعمال مختلف شکلوںمیںموجودہیں کیونکہ آپ کی مکمل زندگی امت مسلمہ کی نفع رسانی کیلئے تھی، توگویاآپ اس آیت کے مصداق ہیں۔
واماماینفع الناس فیمکث فی الارض ۔
قدمات قوم وماماتت مکارمھم::وعاش قوم وھم فی الناس اموات
والحمدللہ رب العلمین والصلوةوالسلام علی سیدالمرسلین وآلہ واصحابہ اجمعین
حضرت شاد کے اساتذہ کے مختصراحوال
٭قطب الارشادمولانامحمدعبداللہ بہلوی قدس اللہ سرہ٭
آپ مولانامحمدمسلم بن مولانانورمحمدکے اکلوتے فرزند ہیں بہلی شریف شجا ع آباد ملتان میںپیداہوئے تاریخ ولادت یکم رمضان ١٣١٣ھوقت طلوع آفتاب ابتدائی تعلیم علاقہ کے علماء حضرت مولاناغلام رسول پونٹوی اورحضرت مولاناعبدالرحمن صاحب بیٹ قیصری سے حاصل کی اعلی تعلیم کیلئے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیااورچارماہ شیخ الہندمولانامحمودحسن سے صحیح البخاری پڑھی،اوران کے سفرحجازکی وجہ سے جس میں اسیرمالٹاہوئے،تکمیل حضرت مولانامحمدانورشاہ کشمیری سے کی،علامہ شبیراحمدعثمانی حضرت میاں اصغرحسین سے دورہ حدیث پڑھ کر١٣٣٤ھمیں فراغت حاصل کی،١٣٣٥ھمیں مدرسہ مظہرالعلوم بہلی میں تدریس شروع کی اورزندگی بھر اعلی تدریسی وتصوفی خدمات سرانجا م دیں شعبان اوررمضان میں تفسیرقرآن بھی پڑھانے کا معمول تھا،حضرت والدمحترم مولانامحمداشرف شاد نے بھی آپ سے دورہ تفسیرپڑھا۔
آپ کو جن بزرگوں سے خلافت حاصل ہوئی ان کے اسمائے گرامی حسب ذیل ہیں (١)حضرت مولانافضل علی قریشی مسکین پوری(٢)حضرت مولانامحمدامیردامانی ڈیراسماعیل خان(٣)حضرت مولاناحسین علی ساکن واں بھچراں ضلع میانوالی(٤)حضرت مولانامحمدزکریاکاندھلوی مہاجرمدنی (٥)حضرت مولانامحمدعمرجان چشمہ شریف کوئٹہ(٦)حضرت صوفی عمرجی گجراتی(قادریہ مجددیہ میں(٧)حضرت مولاناتاج محمودامروٹی (قادریہ میں)(٨)حکیم الامت حضرت مولانامحمداشرف علی تھانوی سے پچیس سال تک تعلق رہا۔
آپ سے بھی ہزاروں نے بیعت کی ،سعادتمندوں نے تکمیل کرکے خلافت حاصل کی ان کے نام درج ذیل ہیں۔(١)مولانا عبدالکریم خاصل روڈوسلطان ضلع جھنگ(٢)مولاناقاری شہاب الدین بلاک ١٦سرگودھا(٣)حکیم غلام رسول مہاجرمدنی گڑھ مہاراجہ ضلع جھنگ(٤)مولاناسیدبشیراحمدشاہ صاحب لودھراں ضلع ملتان(٥)دوست محمدشہیدخاص روڈوسلطان ضلع جھنگ(٦)مولانامحمدامین عنایت پوری ضلع ملتان(٧)عاشق الہی مولوی حبیباللہ مرحوم مان کوٹ ضلع ملتان(٨)صوفی خلیفہ عبدالرحمن سبزی منڈی بلاک نمبر٢٤سرگودھا(٩)مولاناسیدمحمدشاہ مرحوم ابدالی روڈملتان(١٠)مولاناقاری شیرمحمدپڈعیدن ضلع نواب شاہ(١١)حاجی محمدحسین راجہ رام ضلع ملتان(١٢)مولانامحمدنوازدرابن خوردضلع ڈیرہ اسماعیل خان (١٣)مولاناعزیزاحمد مہتمم مدرسہ اشرف العلوم شجاع آباد ملتان(١٤)مولاناکلیم اللہ شاہ سجادہ نشین خانقاہ فضلیہ تحصیل علی پورضلع مظفرگڑھ (١٥)مولاناعبدالحئی بن مولانامحمدعبداللہ بہلی شریف ملتان۔
مکمل تفسیرقرآن مگرچندپاروں کی مطبوعہ ،باقی غیرمطبوعہ ہے(٢)فوائد القرآن اس میں اصطلاحات القرآن کا بیان ہے مطبوعہ ہے(٣)ادلة الحنفیة(عربی)(٤)خیرالاذکار(اردو) (٥)عمدة الاذکار(٦)طب روحانی(٧)فیض روحانی(٨)الوفاء بعہدالاولیائ(٨)تحفة الفقیر(٩)مہمات تصوف(١٠)معارف السلوک(١١)ترک المنکرات (١٢)مکائد شیطان(١٣)پچیس مسائل (١٤)اجمالی سیر(١٥)اشاعت التوحیداورتصفیہ الاعمال وغیرہ ہیں،تقریبااکتالیس رسائل تالیف فرمائے جن کو بعدمیں مولانامفتی سعیداحمدجلاپوری شہید نے جمع کرکے تسہیل کی، ان سب کے مجموعہ کوبنام معارف بہلوی چارجلدوں میں شائع کیافجزاہ اللہ احسن الجزائ
٢٠محرم الحرام یکم جنوری ١٩٧٨ئ رات نوبج کر بیس منٹ پر وصال ہوا،اللہ تعالی کروٹ کروٹ راحت نصیب فرمائیںآپکافیضان عام وتام فرمائیں،آمین۔
اناث چھ اوراولادذکورمیں تین فرزندہیں مولاناعبدالحئی صاحب مولانامحمدہاشم مرحوم اورمولاناعزیزاحمد
٭شیخ الادب مولانامفتی علی محمدرحمہ اللہ شیخ الحدیث دارالعلوم کبیروالا٭
١٩٩٢ئآپکی ابتدائی اورمتوسط تعلیم اپنے علاقہ میں مولاناشیرمحمداورمولاناعبدالخالق کے یہاں ہوئی دورہ حدیث کی تکمیل کیلئے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیااورشیخ الاسلام مولاناسیدحسین احمدمدنی مولانااعزازعلی اورمولانامحمدابراہیم سے فاتحہ فراغ پڑھااورمولاناسیدحسین احمدمدنی کے ہاتھ پر بیعت ہوئے فراغت کے بعداپنے استاذمحترم مولاناعبدالخالق کی سرپرستی میں موضع نڑھال میں تدریس شروع کی کچھ عرصہ بعداستاذمحترم آپ کو اپنا جانشین بنا کر خودتدریس کیلئے دارالعلوم دیوبندچلے گئے اس دوران ایک ایک دن میں آپ نے انیس انیس سبق پڑھائے ١٩١٥ئمیں جب آپ کے استاذقاسم العلوم ملتان میں صدارت تدریس کی مسند پرآئے توا ن کے حکم سے آپ بھی نڑھال سے قاسم العلوم آگئے اوروہاں استاذالادب والحدیث مقررہوئے ١٩٥٦ئمیں مولاناعبدالخالق جب دارالعلوم کبیروالاپہنچے توانہوں نے اپنے لائق شاگردکو باصراروہاں آنے کی دعوت دی توآپ نے دارالعلوم کبیروالاکو اپنی خدمات پیش کردیں ١٩٥٨ئمیں دارالعلوم کبیروالامیں دورہ حدیث کاا غازہواپہلے سال صحیح بخاری مولاناعبدالخالق صاحب نے پڑھائی دوسرے سال١٩٥٩ئمیں بخاری شریف کی ایک جلد مولاناعبدالخالق کے پاس اوردوسری مولاناعلی محمدکے پاس ہوئی اورتیسرے سال ١٩٦٠ئمیں صحیح بخاری اورمسلم کی تدریس مستقلاآپ کے ذمہ ہوگئی،اس دوران میں فتوی نویسی کا سلسلہ بھی جاری رہا١٩٧٤ئسے دارالعلوم کی انتظامی مصروفیت کے باعث صحیح مسلم مولانامنظورالحق کے حوالے کردی اورصحیح بخاری خودپڑھاتے رہے اسی طرح ٢٨مرتبہ صحیح بخاری شریف پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی،حضرت والدمحترم مولانامحمداشرف شاد نے بھی صحیح البخاری توضیح تلویح مقامات وغیرہ کتب آپ سے پڑھیں، مولاناقرون اولی کی یادگارتھے زہدوقناعت عبادت وتقوی بے نفسی وکم گوئی ان کاخصوصی شعارتھا پوری زندگی قال اللہ وقال الرسول میںبسرکردی ٣٠جمادی الاخری ١٤١٢ئ٦جنوری١٩٩٢ئکو وصال ہوانمازجنازہ فقیہ العصرحضرت مولانا مفتی عبدالستارصاحب رئیس شعبہ افتاء جامعہ خیرالمدارس ملتان نے پڑھائی اوردارالعلوم کے متصل اپنی مملوکہ جگہ میں تدفین ہوئی۔
٭امام المعقول والمنقول حضرت مولانامنظوراحمدنعمانی قدس سرہ٭
آپ کا نام: منظوراحمداورلقب :نعمانی کنیت :ابوعبیدوالدماجدکانام: محمدمرادخان صاحب تھا،آپ مستوئی بلوچ خاندانے سے تعلق رکھتے تھے۔
علاقہ اوچ شریف بستی مڈمستوئی ضلع بہاول پور میں یکم جنوری ١٩٣٥ئکو آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔
آپ کے حضرت والدماجد نے آپ کی ابتدائی تعلیم کاآغاز اس طرح کیاکہ سکو ل ٹائم میں اردوکی تعلیم دیتے اوربعدہ قرآن مجیدپڑھاتے ۔
تعلیم فارسی کے لئے آپ کے والدبزرگوارنے آپکو اپنے علاقہ کے مشہوراستاذمولاناحاجی محمدحیات خان صاحب کے ہاں پہنچادیا۔
آپ عربی کتب کی تعلیم کیلئے اپنے علاقہ کے مشہورومعروف استاذ شیخ المعقول ماہرالصرف مولاناشمس الدین کی خدمت میں حاضرہوئے ان سے اپنی خدادارصلاحیت کے مطابق علم صرف کی تمام کتب ایک ڈیڑھ سال میں مکمل کرلیں اورنحوکے بھی ابتدائی رسائل نحومیروغیرہ ان سے پڑھے آپ مجسمہ تواضع،فنافی اللہ، استاذالعلماء حضرت مولاناحبیب اللہ گمانوی تلمیذرشیدعلامہ انورشاہ کشمیری کی خدمت میں اقدس میں پہنچے جوآپ کے قومی شریک بھی ہیں،ان سے آپ نے تفسیر،نحو،فقہ ،اصول فقہ کی اکثرکتب پڑھیںاورتفسیرجلالین بھی انہی سے پڑھی،بستی درخواست کے مشہوراستاذحضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی سے کنزالدقائق وغیرہ پڑھی، فصیح اللسان حضرت مولاناعبدالرزاقججوی سے جامعہ قاسم العلوم گھوٹکی سند ھ میں اوراستاذالعرب والعجم مولاناخیرمحمدمکی صاحب (ٹھل حمزہ) میں معقولا ت کی کتب پڑھیں ۔
دارالعلوم دیوبندسے دورہ حدیث جامعہ عباسیہ بہاولپورسے علامہ کااعزازحاصل کیااورجامعہ محمدیہ نڑھال سے تکمیل اورپنجاب بورڈسے مولوی فاضل کی اسنادحاصل کیں۔
جب آپ گمانی شریف میں زیرتعلیم تھے تو رئیس الاتقیاء عمدة المفسرین حضرت مولانامحمدعبداللہ بہلوی کی صحبت سے مستفید ہوتے رہے کیونکہ حضرت اقدس بہلوی اورحضرت گمانوی کا آپس میںخاصا علمی وروحانی دوستانہ تعلق تھا۔
تحصیل علوم کے بعد١٣٦٣ھمیں تدریس کا آغازکیا ابتدائی طورپرحضرت الاستاذمولاناگمانوی نے ایک سال کیلئے مدرسہ نظامیہ علی پورمیں تشکیل کی ایک سال گزرنے کے بعدپھرحضرت گمانوی نے آپ کی ذاتی استعدادوصلاحیت اورعلمی قابلیت کو دیکھ کر اپنے ہاں جامعہ انوریہ گمانی میںتدریس کیلئے تقررفرمایااورخصوصی نوازشات سے سرفرازفرمایا،اس دوران آپ ہائی سکول میں ہیڈماسٹرہوئے دینی اورعصری تدریس کوبیک وقت جاری فرمایااسکول سے ریٹائرہونے کے بعد١٩٨٠ئمیں مستقل طورپرمدرسہ انوریہ طاہروالی میں وقف ہوگئے۔
پھرآپ چوٹی کے اساتذہ کرام میں شمارہوئے،انتہائی فہیم ،زیرک، کتب اورمصنفین فنون کے نباض نکتہ رس ،معروف ہوئے بس آپ کی صحبت میںبیٹھنے سے کسی اہم فن یامشکل کتاب کارعب ختم ہوجاتاطالب علم کوتدریس کرنے کا حوصلہ ہوجاتاسمجھتاکہ میں بھی مدرس بن جاؤں گا،یہ یقین بندہ راقم کوبھی آپ کی صحبت میں نصیب ہواکتاب یا فن یوں کھولتے یوں لگتاجیسے کہ خودفن کے مدون ہیں یاکتاب کے مصنف حضرت والدمحترم مولانامحمداشرف شاد نے آپ سے اقلیدس تصریح چغمینی پڑھے۔
آپ معقولات میں حضرت مولاناعبدالخالق کا،فصیحانہ اوربلیغانہ اندازمیں مولاناعبدالرزاق کا فن حدیث میں جامعیت کے اعتبارسے شیخ الاسلام حضرت مدنی کا عکس جمیل تھے،اورفن تفسیرمیں آپ حضرت حافظ القرآن والحدیث کا مظہر تھے۔
٭جامع المعقول والمنقول مولانافیض علی شاہ ہزاروی قدس سرہ ٭
آپ ٣٠دسمبرکو ہروڑی بٹل مانسہرہ ہزارہ میں تلمیذشیخ الھندمولاناسخی شاہ صاحب کے گھرپیداہوئے چھٹی جماعت کا امتحان بٹل سے پاس کرکے بفہ مڈل سکول میں داخل ہوگئے اور١٩٣٨ئمیں مڈل کاامتحان پاس کیاابتدائی دینی تعلیم اپنے والدصاحب سے حاصل کی پھرفتح پوردہلی میں داخل ہوئے وہاں سے مدرسہ امدادالاسلام میرٹھ چلے گئے پھروہاں سے گھرآگئے ١٩٤١ئمیں اپنے والدصاحب سے پڑھتے رہے ١٩٤٢ئمیںعلاقہ چھچھ کیمل پورمیں پڑھتے رہے اسی دوران بمبئی جاکرملازم ہوگئے اس پروالدصاحب نے سخت ناراضگی کا اظہارکیا١٩٤٣ئمیں دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا موقوف علیہ کی تکمیل کے بعد١٣٦٨ھمیں حضرت مدنی سے دورہ حدیث پڑھ کر سندحاصل کی دورہ حدیث کے بعددوسال اورلگاکرتمام علوم کی تکمیل کی فراغت کے بعد١٣٧٠ھسے ١٣٧٧ھتک دارالعلوم دیوبندمیں اعلی تدریسی خدمات انجام دیں چھٹیوں میں گھرآئے توپھر ہندوستان کیلئے ویزہ نہ مل سکنے کی وجہ سے یہیں رہ گئے۔
حضرت مولاناغلام اللہ خان کے ارشادپرتعلیم القرآن راولپنڈی میں تدریس پہ مامورہوئے پھر تعلیم القرآن سے مدرسہ دارالفیوض ہاشمیہ سجاول سندھ میں کچھ عرصہ تدریس کی بعدازاں مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ میں تدریس کرنے لگے مفتی خلیل صاحب(جو کہ مولانامفتی محمدحسن صاحب بانی جامعہ اشرفیہ لاہورکے خلیفہ ہیں)نے جامعہ اشرفیہ منتقل کروادیا ١٩٦٥ئتک وہاں جامعہ اشرفیہ میں تدریس کرتے رہے،پھردارالعلوم عیدگاہ کبیروالا کی دعوت پر وہاں تشریف لے گئے دورہ حدیث کی اکثرکتابیں زیردرس رہیں سات سال اسی مدرسہ میں اعلی تدریسی خدمات انجام دیں اس کبیروالاکے دورتدریس میں حضرت والدمحترم مولانامحمداشرف شاد نے آپ سے جامع ترمذی ہدایہ ثالث حمداللہ اوردیگرفنی کتب پڑھیں،آپ سے خصوصی تعلق کی وجہ سے آپ کی بیشترصفات سے متصف ہوئے، پھرتین سال تک اکٹھے تدریس بھی کی، زندگی بھرہی والہانہ تعلق رہاآپکی اولادکے استاذہوئے ،دارالعلوم کبیروالاسے مستعفی ہونے کے بعددارالعلوم فیصل آباداورپھر جامعہ فاروقیہ کراچی کے شیخ الحدیث ہوئے پھر برطانیہ چلے گئے،تیس سال برطانیہ میں امامت وخطابت درس وتدریس کے فرائض سرانجام دیے۔
اخیرعمرواپس پاکستان اپنے وطن میں گزاری،انتہائی درجہ کے ذی اقداروضعدار،ثقہ،حق گوصاحب فن عالم، جیدمدرس تھے۔ سرزمین ہزارہ سے تعلق رکھنے والے آپ آخری فاضل ہیں جنہوں نے دارالعلوم دیوبندجیسی عظیم درسگاہ میں ایک عرصہ تک تدریس کی،آپ کے تلامذہ کی تعدادسینکڑوں میں ہے ،بیعت کا تعلق حضرت مولاناسیدحسین احمدمدنی سے تھا،اللہ تعالی آپ کی قبراطہرکونورسے بھردے آمین۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭جامع المعقول والمنقول حضرت مولانامنظورالحق قدس سرہ٭
آپ کا نام اور نسب نامہ یوں ہے محمد منظور الحقبن نورالحقآپکی قوم وانگھے فقیر ہے اسکا مطلب ہے انوکھے بزرگ۔کیونکہ آپکے خاندان کے اکثرافراداولیاء اللہ اور بزرگ تھے،آپکے والد مولانانور الحق نے اپنے پیر ومرشدحضرت مولاناعبد اللہ صاحبسجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں سے آپکی پیدائش سے قبل بیٹے کے لئے دعاء کروائی توانہوں نے دعاء کرنے کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ آپکو ایک بیٹا عطاء فرمائیں گے جو ایک جید عالم ہوگااور اسکی پنڈلی پر ”کالا نشان” ہوگابعد ازاںحضرت والامولانا محمد منظور الحقپیدا ہوئے اور آپکی پنڈلی پرکالا نشان بھی موجود تھا۔
ابتدائی تعلیم اپنے والدحضرت مولانانورالحق نوراللہ مرقدہ سے حاصل کی اس کے بعد اپنے چچاحضرت مولانا عبد الخالق نوراللہ مرقدہ سے کئی کتب پڑھیںموقوف علیہ اور دورہ حدیث دار العلوم دیو بند سے کیا ۔
آپ کے اساتذہ کرام میںحضرت مولانا حسین احمد مدنی حضرت مولانااعزاز علی حضرت مولانا قاری محمد طیب ،حضرت مولانا سید اصغر حسین ،حضرت مولانا محمد ابراہیم بلیاوی،حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے علم کے کوہ گراں شامل ہیں،حضرت والدمحترم مولانامحمداشرف شادسے سناتھا کہ دورہ حدیث کرتے ہوئے عمراتنی کم تھی کہ اپنی دورہ حدیث کی تمام کتب خودنہ اٹھاسکتے تھے،دارالعلوم دیوبندمیں دوسری منزل میں آپ کاکمرہ تھا تو آپ کے ساتھی کتب اٹھاکردوسری منزل پرلے جاتے۔
دار العلوم دیو بند سے فراغت کے بعد کچھ عرصہ مدرسہ ریاض الاسلام مگھیانہ شہر جھنگ اور مدرسہ عرببہ محمدیہ نڑھال میں تدریس کی اسکے بعد اپنے چچامولانا عبد الخالق نور اللہ مرقدہ نے دارالعلوم کبیر والا کی بنیادرکھی توآپ کے زیرسایہ یہاں مدرس ہوئے اور تا زندگی دار العلوم سے وابستہ رہے آپ بجاطورپر تدریس کے بادشاہ تھے چٹکیوں میں بات سمجھاتے،باحوالہ بات کرنے کی عادت تھی مشکل سے مشکل بات کو تمہیدی مقدمات کے ذریعے بالکل آسان بنا دیتے،تقطیع عبارت اور اغراض مصنف کوبیان کرناآپکاخصوصی شعار تھاادب وسلیقہ انکی گھٹی میں پڑا ہوا تھاصرف ونحو انکی لونڈیاںاور منطق انکی گویا کنیز تھی حدیث کا درس دیتے تو علم کا ایک بحر بیکراں موجیں مارتا۔
دارالعلوم دیوبندہ میں لمبی تقریروں کے بانی جس طرح علامہ انورشاہ کشمیری مشہورتھے تو اسی طرح دارالعلوم کبیروالامیں درسی کتب کی تدریس کے وقت لمبی تقریرکے بانی مولانامنظورالحق تھے جس نے اوراساتذہ کو بھی وسعت مطالعہ پر آمادہ کیادار العلوم کبیر والا کی بنیاد حضرت مولانا عبدالخالق رحمة اللہ علیہ نے اپنی علمی وانتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ادارہ کو ایک مقام عطاء کیا حضرت مرحوم نے شادی نہ کی، انہوں نے اپنے دونوں بھتیجوں حضرت مولانا منظور الحق اور حضرت مولاناظہور الحق کو اپنا بیٹا بنایابجاطورپرکہاجاسکتاہے کہ دارالعلوم کے یہ دوستارے تھے مولاناعبدالخالق سورج تھے،حضرت مولانا عبد الخالق صاحب نے اپنی زندگی ہی میں مولانا منظور الحق کو اپنا جانشین بنا دیا اور وہ نائب مہتمم اور ناظم کے طور پر انکی زندگی میں کام کرتے رہے پھرجب مہتمم ہوئے تواپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی بناء پردار العلوم میں وہ تدریسی نظام جاری فرمایا جس سے بڑے بڑے مدرس ومحدث پیدا ہوئے دار العلوم کا یہی وہ اساسی دور تھاجسکی وجہ سے آج تک دنیا میںدار العلوم کا نام روشن ہے،دارالعلوم کبیروالاکے اس خیرالقرون زمانہ کے ایک ممتازطالب علم حضرت والدمحترم مولانامحمداشرف شادقدس سرہ بھی ہیں حضرت والدمحترم نے صرف ونحوکی اورفنون منطق اورفلسفہ کی اکثرکتب کے علاوہ تفسیربیضاوی کنزالدقائق صحیح مسلم آپ کے پاس پڑھیں،اپنے اس عظیم استاذکا مزاج اس طرح جذب کیاکہ آپ کے تلامذہ میں امتیازی خصوصیات سے نوازے گئے۔
١١ رمضان المبارک بعد از نماز عصر بیماری کا شدید حملہ ہوامغرب کی نماز باقاعدہ ادا کی نماز کے بعد انگلیوں پر تسبیحات پڑھ رہے تھے انہیں تسبیحات کے دوران غشی کا حملہ ہوا بروز منگل ١٢ رمضان المبارک١٤٠٤ء بمطابق ١٢ جون١٩٨٤ء سہ پہر اس دنیائے فانی کو چھوڑ کراپنے خالق حقیقی سے جاملے آپ احاطہ دار العلوم میں اپنے چچا کے پہلو میںدفن ہوئے خداوند عالم دونوں کی قبروں پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عطاء فرمائے،آمین ثم آمین۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭جامع المعقول والمنقول حضرت مولاناعلامہ ظہورالحق قدس سرہ٭
آپ ١٣٣٧ھ ١٩٧١ئ میں باگڑسرگانہ کے مضافات میں پیداہوئے
آپ کانام اورنسب یوں ہے ظہورالحق بن نورالحق ہے آپ کی قوم وانگھے فقیرہے،اس کا مطلب ہے،انوکھے بزرگ ،اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے خاندان کے اکثرلوگ اولیاء اللہ اوربزرگ تھے
ابتدائی تعلیم اپنے والدماجدحضرت مولانانورالحق سے حاصل کی اس کے بعداپنے چچاحضرتمولاناعبدالخالق سے بہت ساری کتب پڑھیں موقوف علیہ اوردورہ حدیث دارالعلوم دیوبند میں پڑھازمانہ کے جیدترین اساتذہ کرام سے استفادہ کیا،چنانچہ آپ کے اساتذہ کرام میںحضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب حضرت مولانااعزاز علی صاحب،حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب،،حضرت مولانا سید اصغر حسین صاحب،حضرت مولانا محمد ابراہیم بلیاوی صاحب،حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہم اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین جیسے جلیل القدروبلندپایااساتذہ کرام شامل ہیں،ان باکمال لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے والے ضرورکمالات سے آشناہوجاتے تھے،چنانچہ آپ بھی ایک باکمال مدرس متعارف ہوئے۔
دار العلوم دیو بند سے فراغت کے بعد کچھ عرصہ مدرسہ ریاض الاسلام مگھیانہ شہر جھنگ اور مدرسہ عرببہ محمدیہ نڑھال میں تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہے پھرجب آپ کے چچامولانا عبدالخالق نور اللہ مرقدہ نے دارالعلوم کبیر والا کی بنیادرکھی،تویہاں مدرس مقرر ہوئے اورتادم آخر دارالعلوم کبیروالامیں پڑھاتے رہے اللہ نے خوب تدریسی ملکہ دے رکھاتھا اپنے چچاحضرت مولاناعبدالخالق کے سایہ شفقت میںبھرپور علمی ترقی کی، بڑے بڑے علماء آپ سے اپنی علمی پیاس بجھاتے رہے،حضرت والدمحترم مولانامحمداشرف شاد نے شرح جامی اوردیگرفنون کی اہم کتب آپ سے پڑھیں تھیں۔
ایسے عظیم انسان ہونے کے باوجودساری زندگی اپناذاتی مکان نہ بناسکے فقروفاقہ سے زندگی گزاردی لیکن دیگرمدارس کی بڑی بڑی پیشکشوں کی پرواہ نہ کی انتہائی بے ضررشخصیت تھے دارالعلوم کبیروالاکے گوناگوں حالا ت میں بھی متفق علیہ شخصیت رہے یہی آپ کی عظمت کے راز ہیں،آپ کی عادات میں سے اہم عادت یہ تھی کہ گھنٹہ شروع ہوتے ہی حاضری لگاتے اورسبق پڑھاناشروع کردیتے بھلے ایک طالب علم بھی حاضرہوتابعض اوقات خوش طبعی سے فرماتے کہ دارالعلوم والے تنخواہ ہدایة النحو کی دیتے ہیں پڑھواتے ہدایہ ثالث ہیں۔
١٥شوال المکرم ١٤٠٩ھبمطابق ١٩٨٩ئ میں آپ کا انتقال ہوا،کل عمربہترسال پائی،اللہ تعالی مقربین کی رحمتوں سے نوازیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭سیدالاصفیاء شیخ الحدیث حضرت مولاناصوفی محمدسرورصاحب مدظلہم لاہور٭
آپ کی ولادت٧دسمبر١٩٣٣ئکو راجن پورمیںہوئی،آپ کی دینی خدمات پورے پاکستان میں روزروشن کی طرح عیاں ہیں حضرت موصوف کو بچپن ہی سے اللہ تعالی کی محبت کا غلبہ تھا دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بے تا ب تھے چنانچہ جیسے ہی میٹرک سے فراغت ہوئی اپنے والدچوہدری محمدرمضان صاحب سے اجازت لیکرجامعہ اشرفیہ لاہورمیں داخلہ لے لیا،دینی کتب انتہائی شوق ومحنت کے ساتھ پڑھیں اوراللہ تعالی کے فضل وکرم سے ١٩٥٤ئمیں علم دین سے فراغت پائی اورجامعہ اشرفیہ لاہورکے بانی حضرت مولانامفتی حسن صاحب سے دستارفضیلت حاصل کی، پھر ایک سال تکمیل کی،اورحضرت مفتی صاحب کے حکم سے جامعہ اشرفیہ نیلاگنبدلاہورمیں دوسال بڑے درجے کی کتب پڑھائیں ،پھر اس کے بعدتین سال جامعہ خیرالمدارس ملتان میں دورہ حدیث شریف کی کتب کے ساتھ ساتھ کتب فنون کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے لطف اندوزہوتے رہے ،١٩٦٠ئ میں کبیروالامدرسہ دارالعلوم کبیروالامیں دس سال دورہ حدیث شریف کی کتب کے ساتھ ساتھ مختلف کتب فنون پڑھائیں،آپ کے اسی تدریسی دورمیں حضرت والدمحترم مولانامحمداشرف شاد نے آپ سے دیگرعلوم وفنون کے ساتھ آپ کی تدریس کا عظیم شاہکارتفسیرجلالین بالاغراض اورسنن ابی داؤدآپ سے پڑھیں،اورقرأت عشرہ بھی آپ سے پڑھی حضرت صوفی صاحب دامت برکاتہم عصرکے بعدشائقین کو خوب ذوق سے پڑھاتے تھے،پھرباضابطہ اپنے فاضلین کوقرأت کی سندجاری کرتے آپ کے بھی حضرت والدمحترم خصوصی منظورنظرہوئے حضرت والدمحترم بتاتے کہ اپنے بچوں کی جب دوائی لینے جاتے تو مجھے ساتھ لے جاتے،اپنے بچے کسی کو نہیں اٹھانے دیتے تھے مگرمیں اٹھاکرساتھ لے جاتاتھا،یہ اعتمادکی علامت تھی،اور١٩٧٠ئسے تاحال جامعہ اشرفیہ مسلم ٹاؤن فیروزپورروڈ لاہورمیں دینی خدمات بفضلہ تعالی سرانجام دے رہے ہیں،١٩٨٨ئ میں جامعہ اشرفیہ کے شیخ الحدیث مقررکیے گئے۔