مرکزعلم وعمل جامعہ اشرفیہ ما ن کوٹ

تاقیامت اس دین نے باقی رہناہے،بلکہ یوں کہاجائے توبے جانہ ہوگاکہ جب تک اس دنیامیں اللہ اللہ کی صدابلندہورہی ہے اس وقت تک قیامت قائم ہی نہیں ہوسکتی،اورجب تک نام خداوندی باقی ہے اس وقت تک وہ مقامات اورقلعے بھی باقی رہیں گے جہاں پراللہ کانام بلندکرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مقدس دین کی تعلیم دی جاتی ہے۔
برصغیرپاک وہندمیں ان قلعوں کی ابتداء ایک ایسے مردقلندرنے کی جس کوآج بھی دنیاقاسم العلوم والخیرات حضرت مولانامحمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے نام سے پہچانتی ہے، یہ وہ مردقلندرتھاجس نے حضورﷺکی راہنمائی میں دارالعلوم دیوبندجیسے عظیم دینی ادارہ کی بنیادرکھی،دین کے اس قلعے کافیض بحمداللہ چہارسوچاردانگ عالم میں پھیلاہواہے۔
انہی قلعوں میں سے ایک عظیم قلعہ” مرکزعلم وعمل جامعہ اشرفیہ مان کوٹ کبیروالا”بھی ہے،جس کی بنیاد1989ء میں جامع المعقول والمنقول امام الصرف والنحوحضرت مولانامحمداشرف شادرحمہ اللہ نے محض اخلاص وللہیت کی بنیاد پررکھی،تاکہ اس ادارے میں پڑھنے والے اپناسب کچھ قال اللہ وقال الرسول کوبنالیں،دنیاکی محبت اوراس میں منہمک ہونے سے کوسوں دورہوجائیں،جس کانتیجہ یہ نکلاکہ بحمداللہ اس جامعہ کافیض عرب وعجم یورپ وامریکہ گویادنیاکے ہرہرگوشہ گوشہ میں پھیلاہواہے،اورابھی روزافزوں ہے۔

مزید پڑھیے

aswatgallerymaktabamahnama